مہمان مرحبا

ایک معزز مہمان کی آمد پر اس قوم کے اختلافات جس طرح نمایاں ہوئے، ان پراظہارِ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ آدمی پکار اٹھتا ہے: کیا اس قوم میں کوئی رجلِ رشید نہیں؟
آغاز حکومت سے کہ ایسے موقعوں پر وحدت پیدا کرنا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ خارجہ امور کا تعلق ریاست سے ہوتا ہے۔ کسی خاص فرد یا حکمران سے نہیں۔ مہمان کی آمد پر حکومت نے اپوزیشن کے بائیکاٹ کا جو رویہ اختیار کیا، وہ کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں۔ ایک وفاقی وزیر نے جو موقف اپنایا، وہ قومی ذہانت پر سوالیہ نشان ہے۔ شاہ محمود قریشی جیسا جہاں دیدہ آدمی بھی اس کا ادراک نہیں کر سکا کہ آنے والا پاکستان کا مہمان ہے، کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ حکمران جماعت نے قومی مفاد کے حوالے سے ذہنی افلاس کا ایسا افسوس ناک مظاہرہ کیا ہے۔
یہ دراصل اسی کردار کا تسلسل ہے جو تحریک انصاف نے بطور اپوزیشن اپنایا۔ ترکی کے صدر طیب اردوان تشریف لائے تو پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ گویا انہیں پاکستان کا نہیں، مسلم لیگ کا مہمان سمجھا گیا۔ چینی صدر کی آمد کو نظر انداز کرتے ہوئے دھرنے کا منصوبہ بنایا‘ جیسے وہ کسی ذاتی دورے پر آ رہے ہوں۔ جنہوں نے معزز مہمان کی پاکستان آمد کا اہتمام کیا، کاش وہ حکومت کو یہ بھی سکھا دیتے کہ مہمانوں کا استقبال کیسے کرنا ہے۔ ایک طرف بے حد التفات‘ دوسری طرف آدابِ میزبانی سے یہ لا علمی کہ قوم کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی ہی نہیں ہو رہی۔
سیاسی اختلاف کے ساتھ، اس قوم کے مسلکی اختلاف، جس طرح نمایاں ہوئے، اس پر بھی افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ دو ماہ پہلے، مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کی ایک کانفرنس ہوئی‘ جس میں واضح الفاظ میں تکفیر اور فسق کے فتووں کو مسترد کر دیا گیا۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا مگر اب وحدت کی بات ہو رہی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی سطح پر اب تکفیری مہم کی سر پرستی نہیں ہو رہی۔ اس کے باوجود، مہمان کی آمد پر کچھ اختلافات کا اظہار قابل توجہ ہے۔ 
تیسرا اختلاف معاشی مفادات کا ہے۔ کچھ لوگ بڑھ چڑھ کر اس دورے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کی شاہراہوں پر ان کے خیر مقدمی بینر، حکومتی تشہیری مہم پر غالب ہیں۔ کانفرنسوں کا بازار بھی گرم ہے جس میں مہمان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ ہم سے بڑھ کر کوئی آپ کا وفا دار نہیں اور آپ ہی دراصل اس امت کے حقیقی نجات دھندہ ہیں۔ میں اس غیر سرکاری مہم جوئی کی اس کے علاوہ کوئی توجیہہ نہیں کر سکتا کہ کچھ معاشی مفادات ہیں جن کا حصول پیشِ نظر ہے۔ معاملہ مفادات کا ہو تو تصادم لازم ہو جاتا۔ جن کی وفاداریوں کے مراکز خارج میں ہیں‘ ایسے کسی موقعہ پر ان کے مابین مقابلہ بڑھ جاتا ہے۔ 
یہ طرزِ عمل کوئی خوش نما منظر پیش نہیں کر رہا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں کوئی چیز مشترکہ نہیں۔ مذہب سے لے کر قومی مفاد تک، ہر معاملہ موضوعی اور گروہی ہے۔ سماج کے اعلیٰ ترین مناصب کم فہموں کے قبضے میں ہیں، الا ماشااللہ۔ حکومت ایک سیاسی جماعت کی سطح سے اوپر انہیں اٹھ سکی۔ مذہب کی قیادت جن ہاتھوں میں ہے، وہ اسے گروہی مفادات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے مذہب جنسِ بازار ہے۔ ہمارے درمیان وحدتِ فکر ہے نہ وحدتِ عمل۔
میں یہاں اپوزیشن کے کردار کی تحسین پر مجبور ہوں۔ اپوزیشن کے رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست میں تجربے کی کیا اہمیت ہے۔ سیاست کھلنڈرا پن یا ہیجان کا نام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کی باگ ذہنی نا بالغوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔ دنیا بھر میں یہی ہے۔ آصف زرداری صاحب جب پاکستان کے صدر تھے تو ان کے ساتھ ہمارے ایک برادر اسلامی ملک کی قیادت کا رویہ غیر مناسب تھا۔ اس وقت ایک وفاقی وزیر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ عبادت کی غرض سے جانا چاہتے ہیں‘ لیکن میزبانوں کا رویہ اس میں مانع ہے۔ اس کے باوجود وہ حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائے۔ بطور وزیر اعظم نواز شریف صاحب کے دورہ سعودی عرب کی چشم دید روداد میں ایک گزشتہ کالم میں لکھ چکا۔
ان دو بڑی جماعتوں کی قیادت جہاں دیدہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قومی مفاد کیا ہوتا ہے اور خارجہ امور کو گروہی حوالوں سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان دونوںجماعتوں نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا ہے۔ گویا انہوں نے اس دورے کو اپنی جماعت کے نہیں، ملک کے تناظر میں دیکھا۔ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ آنے والا پاکستان کا مہمان ہے اور ہم نے بطور پاکستانی اس دورے کو کامیاب بنانا ہے۔
پاکستان کا مفاد اس میں تھا کہ معزز مہمان کی آمد پر ہم ایک قوم ہونے کا تاثر دیتے۔ ہم دنیا کو اور مہمان کو یہ بتاتے کہ ہمارے داخلی اختلافات جو بھی ہوں، ملکی مفاد اس سے بلند تر ہے کہ اس پر سیاست کی جائے۔ خارجہ امور میں، معاملہ دوستی کا ہو یا دشمنی کا، ہمارا موقف ایک ہے۔ بھارت ان دنوں جن جارحانہ عزائم کا اظہار کر رہا ہے، اس تناظر میں بھی لازم تھا کہ دنیا کو وحدت کا پیغام ملتا۔ لوگ جان لیتے کہ دشمن اور دوست کے باب میں، ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ صد افسوس کہ ہم ایسا نہیں کر سکے۔
اس دورے کے کچھ مضمرات اور بھی ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان توازن قائم کرنا ہماری خارجہ پالیسی کو درپیش ایک اہم چیلنج ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان آئے تو کل بھوشن یادیو کا معاملہ سامنے آ گیا‘ جس نے اس دورے کو متاثر کیا۔ اب بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ اس دورے پر ایران کا ردِ عمل کیا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ معزز مہمان کو بھارت بھی جانا ہے۔ وہاں جو معاہدے ہوں گے، ان کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ 
یہ معاملات تقاضا کرتے ہیں کہ قومی مفاد کے باب میں وحدتِ فکر و عمل کا دائرہ وسیع ہو۔ یہ مکالمے اور مشاورت سے ہو گا۔ بنیادی طور پر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ وحدت پیدا کرے۔ بحیثیت پاکستانی، میرے لیے یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ حکومتی سطح پر اس کا کوئی ادراک نہیں ہے۔ حکومت کی شعوری کوشش اس کے برعکس ہے۔ مکالمہ حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں۔ مذہبی قیادت کا معاملہ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ وہ اپنے گروہی مفاد کے لیے جمع ہو سکتے ہیں، قومی مفاد کے لیے نہیں۔
پاکستان میں اگر سیاسی و مذہبی وحدتِ فکر ہوتی تو یہ دورہ زیادہ با وقار ہو سکتا تھا۔ ایسے موقعہ پر رہ رہ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے وقار کے تقاضے نبھاتے ہوئے اقوام عالم میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ یہی سب کچھ بہتر انداز میں بھی ہو سکتا تھا، اگر ریاستی اور حکومتی قیادت پوری قوم کو ساتھ لے کر چلتی۔ میرا احساس یہی ہے کہ ریاستی اداروں نے بڑی محنت سے اس دورے اور اس میں موجود معاشی امکانات کے لیے کام کیا۔ اس کو ایک با وقار دورے میں ڈھالنا اور اس دورے کو قومی وحدت کی علامت بنانا سیاسی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ صد افسوس کہ حکومت اس میں ناکام رہی۔
واقعہ یہ ہے کہ لیڈر قوم کو مجتمع کرتے ہیں۔ تقسیم کرنے والا کچھ بھی ہو سکتا ہے، قومی راہنما نہیں ہو سکتا۔ فتح مکہ کے موقع پر رسالت مآبﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو ابوسفیانؓ کے گھر میں آ گیا اسے معافی مل گئی۔ کوئی اس ایک جملے میں چھپی حکمت کو دریافت کر لے اور اس سے اکتسابِ فیض کر ے تو لیڈر بن جائے۔ افسوس صد افسوس کہ کسی کو یہ توفیق بھی میسر نہیں۔ توفیق اللہ اسی کو دیتا ہے جو اس کی خواہش کرتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *