2030 اور بہت سے ممالک کی معیشت

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خوشخبری سنائی ہے کہ پاکستان 2030 میں دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہو گا۔ اللہ خادم حرمین شریفین کے فرزند کی زبان مبارک کرے لیکن اس عاجز کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ 2030 میں عرب دنیا کی معیشت کہاں کھڑی ہو گی؟ مجھے یہ پریشانی آج لاحق نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ سال کے آغاز سے مَیں اس میں مبتلا ہوں۔ مجھے یہ پریشانی ناروے کے شہر اوسلو میں نذر عباس کی گاڑی کو دیکھ کر لاحق ہوئی تھی۔
مجھے گاڑیوں کا بہت زیادہ پتہ نہیں۔ جس زمانے میں گاڑیوں کا شوق تھا تب تین چار اقسام کی گاڑیاں سڑک پر ہوتی تھیں۔ ٹویوٹا‘ ڈاٹسن‘ مزدا‘ فوکس ویگن اور مورس۔ کبھی کبھار جہاز نماز شیورلیٹ اور ڈاج گاڑی بھی نظر آ جاتی تھی۔ پھر گاڑیوں کو دیکھنے کا شوق رخصت ہو گیا۔ عرصہ بعد زندگی میں پہلی گاڑی سوزوکی مہران کی ملکیت کا شرف حاصل ہوا۔ تب لطیفہ مشہور تھا کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کو کہا کہ باہر جا کر دیکھو مہمانوں کی کتنی گاڑیاں کھڑی ہیں؟ بچے نے واپس آ کر جواب دیا: ابا جی! باہر چھ گاڑیاں اور تین سوزوکیاں کھڑی ہیں۔ آج کل تو سڑکوں پر اتنی قسم کی گاڑیاں نظر آتی ہیں کہ شمار مشکل۔ بعض کی تو شکلیں بھی ایک دوسری سے اتنی مشابہ کہ بندہ پریشان ہو جائے۔ نذر عباس صاحب کے پاس ''ٹیسلا ایس‘‘ (Tesla-S) گاڑی تھی۔
میں نے ٹیسلا گاڑی کا تب تک صرف نام ہی سنا ہوا تھا‘ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا‘ بلکہ میں شاید اس گاڑی کے بارے میں جان ہی نہ سکتا‘ اگر اس میں بیٹھ کر تھوڑا مختلف محسوس نہ ہوتا۔ اسی بنا پر میں نے گاڑی کے بارے میں پوچھ لیا۔ گاڑی خاصی بڑی تھی۔ سمجھیں مرسیڈیز کے کسی بڑے ماڈل کے سائز کی۔ گاڑی بٹن دبا کر سٹارٹ کی گئی لیکن گاڑی کے انجن کی کوئی آواز نہ آئی۔ اتنی خاموش گاڑی؟ حتیٰ کہ جب گاڑی چلنے لگ گئی تب بھی کوئی آواز نہ تھی۔ دوسری غیر معمولی بات اس کا ''ڈسپلے‘‘ تھا۔ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر سٹیئرنگ اور گلوز کمپارٹمنٹ کے درمیان غیر معمولی طور پر بڑے سائز کا ڈسپلے ہر قسم کی معلومات دے رہا تھا۔ گاڑی کی رفتار‘ درجہ حرارت اور بہت سی دیگر معلومات‘ جن کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں تھا۔ پوچھنے پر نذر عباس صاحب نے بتایا کہ یہ الیکٹرک گاڑی ہے۔ امریکن کمپنی ''ٹیسلا‘‘ کی بنائی ہوئی کار‘ جو آٹو موبائل انڈسٹری کا مستقبل ہے۔
الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں مگر ٹیسلا فی الوقت نہ صرف سب سے آگے ہے اور اس سلسلے میں مارکیٹ لیڈر ہے بلکہ ٹیسلا کے مالک ایلون ریو مسک نے ایک انتہائی غیر معمولی کام یہ کیا ہے کہ ٹیسلا کی کسی چیز کو مغرب کے معمول سے ہٹ کر ''پیٹنٹ‘‘ نہیں کروایا‘ اور سب کو کھلے عام اجازت دی ہے کہ وہ ٹیسلا کی جس ایجاد کی کاپی کرنا چاہیں کر لیں۔ انہیں اس چیز کی کھلی چھوٹ اور اجازت ہے۔ اپنی ساری تحقیق اور محنت کو اس طرح عام کرنا ایک بالکل ہی غیر معمولی بات ہے اور مغرب میں اس کا تصور ہی حیران کن ہے۔
نذر عباس نے بتایا کہ یہ گاڑی ایک بار چارج ہو جائے تو تقریباً چار سو کلومیٹر تک بیٹری پر چلتی ہے۔ رات کو وہ اسے چارجنگ پر لگا دیتے ہیں اور دن کو استعمال کرتے ہیں۔ نہ دھواں‘ نہ آواز‘ نہ کوئی اور شور اور نہ ہی کوئی فضائی آلودگی۔ ہاں! گاڑی فی الحال بہت مہنگی ہے۔ لیکن فی الوقت ناروے میں اس پر کوئی امپورٹ ڈیوٹی نہیں ہے۔ حکومتِ ناروے فضائی آلودگی سے پاک ماحول کو پروموٹ کرنے کے لیے الیکٹرانک گاڑیوں پر مختلف سہولتیں‘ رعایتیں اور آسانیاں فراہم کر رہی ہے۔ پہلی تو ڈیوٹی کی معافی ہے۔ دوسرے رجسٹریشن کی فیس میں رعایت ہے اور تیسری یہ کہ شہر میں اس پر ٹال ٹیکس نہیں ہے۔ اوسلو میں داخل ہونے کے لیے عام گاڑیوں پر ساٹھ کرائون ٹیکس ہے لیکن الیکٹرانک گاڑیوں پر پہلے کوئی ٹال ٹیکس نہیں تھا‘ اب محض دس کرائون ٹال ہے‘ یعنی عام پٹرول یا ڈیزل گاڑی کے مقابلے میں محض سترہ فیصد۔
میں نے پوچھا کہ لمبے سفر پر چارجنگ کا کیا سسٹم ہے؟ نذر صاحب نے بتایا کہ اب ہائی ویز پر چارجنگ سٹیشن بن گئے ہیں۔ وہاں فاسٹ چارجنگ ہوتی ہے۔ آدھے گھنٹے میں بیٹری دوبارہ فل چارج ہو جاتی ہے۔ آدھا کرائون فی منٹ چارجنگ کا خرچہ ہے۔ پوری بیٹری آدھے گھنٹے میں چارج ہو جاتی ہے یعنی پندرہ کرائون میں پوری بیٹری چارج۔ اب آپ پھر چار سو کلومیٹر سفر کر لیں۔ ناروے میں پٹرول پندرہ سے سولہ کرائون فی لیٹر ہے۔ بڑی گاڑی اگر دس کلومیٹر فی لیٹر طے کر لے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ چار سو کلومیٹر کے لیے چالیس لیٹر پٹرول۔ قیمت ہوئی چھ سو کرائون۔ اوپر سے ٹال ٹیکس وغیرہ اس کے علاوہ۔ ویسے ناروے گورنمنٹ کا منصوبہ ہے کہ پورے ملک کو پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں سے مرحلہ وار اگلے چند برس میں پاک کر دیا جائے۔ گمان ہے 2025ء تک ناروے میں پٹرول اور ڈیزل کا گاڑیوں میں استعمال محض دس بارہ فیصد رہ جائے گا اور اگلے ایک دو سال میں بالکل ختم ہو جائے گا۔ یہ صرف ناروے کا ہی نہیں‘ پورے یورپ کا منصوبہ ہے۔ ہاں ناروے اس معاملے میں باقی یورپی ممالک سے آگے ہے۔ ناروے دیگر یورپی ممالک کی نسبت کافی پہلے ڈیزل اور پٹرول فری گاڑیوں کا ملک بن جائے گا۔ لیکن دیگر ممالک بھی اس کے پیچھے پیچھے اسی طرف آ رہے ہیں۔
دنیا بھر میں اب ٹیسلا کے علاوہ دیگر گاڑیاں بنانے والے ادارے بھی اسی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔ مرسیڈیز‘ بی ایم ڈبلیو‘ اوڈی‘ ووکس ویگن‘ پورشے اور جیگوار جیسے نامور اور مشہور اداروں کے علاوہ بھارت اور چین وغیرہ میں بھی الیکٹرانک گاڑیوں کی تیاری ابتدائی مرحلوں سے آگے جا چکی ہے۔ گمان کیا جا رہا ہے کہ 2030 تک گاڑیوں میں پٹرول اور ڈیزل کا استعمال بہت کم ہو جائے گا۔ روایتی فیول کی کھپت کم ہونے سے اس کی قیمت بہت زیادہ گر جائے گی اور اس حد تک کم ہو جائے گی کہ اس کی قیمت فروخت اس کی لاگت کے تقریباً برابر ہو جائے گی۔ تیل کی آمدنی پر مزے کرنے والے ممالک مصیبت میں گھر جائیں گے۔ صرف وہی ممالک معاشی طور پر خوشحالی سے بہرہ مند ہوں گے جنہوں نے تیل کی آمدنی کے علاوہ بھی کوئی دوسرا ذریعہ آمدنی پیدا کر لیا ہو گا۔ تعلیم اور دوسرے معاملات سے اپنی معیشت کو سہارا دے لیا ہو گا۔ بصورت دیگر حال صرف خراب نہیں‘ بہت خراب ہو گا اور یہ زیادہ دور کی بات نہیں۔ ساری صورتحال 2030 تک کھل کر سامنے آ چکی ہو گی۔
ایک پوش کالونی میں ایک فقیر صدا لگا رہا تھا: اے دولت مندو! کبھی میں بھی دولت مند تھا۔ اے امیر لوگو! کبھی میں بھی امیر تھا۔ مجھ پر برا وقت آن پڑا ہے۔ میری مدد کرو۔ ایک دولت مند گھر سے باہر آیا اور اس فقیر سے ایک دو سوالات کیے۔ اسے اندازہ ہوا کہ یہ فقیر واقعتاً کبھی دولت مند رہا ہو گا۔ اس نے اسے دس ہزار روپے دیے اور پوچھا کہ وہ کیسے غریب ہوا؟ فقیر نے جواب دیا: صاحب! اللہ آپ کو بہت دے‘ میں بھی آپ کی طرح ہر مانگنے والے کو دس دس ہزار روپے خیرات دیا کرتا تھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کے حکمران 2030 تک اپنے لیے نئی راہیں متعین کریں۔ آنے والا وقت خاصا کڑا ہے اور صرف تیل کی آمدنی کا مستقبل زوال پذیر ہے۔ آنے والا وقت صرف انہی ممالک کا ہو گا جو علم‘ ٹیکنالوجی اور صنعت و حرفت میں آگے ہوں گے۔ اللہ ہمارا حامی و مددگار ہو لیکن اللہ کے بندوں کو خود بھی کچھ کرنا ہو گا۔ 2030 بہت سے ممالک کی معیشت کا فیصلہ کر دے گا کہ کس ملک کی معیشت ترقی کرتی ہے اور کس کا بھٹہ بیٹھتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *