ہمارے احتجاج کو صرف لفظی بات مت سمجھا جائے، خورشید شاہ

قومی احتساب ادارے (نیب) کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گزشتہ روز ہونے والی گرفتاری پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر سطح پر احتجاج کریں گے، آج اے کو پکڑا گیا کل بی کو پکڑا جائے گا‘۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام سے ووٹ لے کر آنے والوں کے لیے ہمارے دل میں احترام ہے، اسپیکر کی کرسی پر چاہے کوئی بیٹھا ہو ہمارے لیے قابل احترام ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہاسپیکر کا ایک آئینی کردار ہوتا ہے، پارلیمنٹ تمام اداروں سے سپریم ہے، ایک منتخب ایوان کے اسپیکر کو گھسیٹ کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’ہوسکتا ہے آغا سراج درانی کسی چیز میں ملوث ہو لیکن یہ رویہ قابل قبول نہیں، آغا سراج درانی کے خاندان کی ایک سیاسی تاریخ ہے‘۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اسپیکر اسمبلی کسٹوڈین ہوتا ہے، اسپیکر خود کمزور ہوگا تو اسمبلی کیسے چلے گی، جیلیں سیاست دانوں کے لیے بنی ہیں، کسی اور کا احتساب کبھی نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر سیاست دان ایک دوسرے کو چور کہیں گے تو عوام کیا کہے گی، ہم ایک دوسرے کے لئے ہی مصیبت بنے ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’کیس بنائے جاتے ہیں‘، اور کہا کہ سراج درانی پر کونسا کیس تھا؟ ان پر بھی کیس بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منتخب اسپیکر کو گھسیٹا جانا نئے پاکستان کا کارنامہ ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان پر غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ ’ملک کے سربراہ کو ایک ایک بیان سوچ کر دینا چاہیئے، وزیراعظم نے یہ بیان کیوں دیا کہ نئے پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہوگی‘۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا پہلے دہشت گردی خود کرائی جا رہی تھی؟

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج کو صرف لفظی جنگ نہیں سمجھا جائے، حکومتی بنچز نے صرف ایک کروڑ 81 لاکھ ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن نےدو کروڑ 32 لاکھ ووٹ لیے ہیں۔

قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں، لیکن اداروں کو مضبوط اور ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک منتخب اسپیکر کے گھر ان کی فیملی کو یرغمال بنایا گیا، ہم اس کا ہر سطح پر احتجاج کریں گے، آج اے کو پکڑا گیا کل بی کو پکڑا جائے گا۔

انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ ’وفاق کی اکائی کے اسپیکر کی گرفتاری پر آپ کو بھی احتجاج کرنا چاہیے، اگر آپ نے احتجاج نہیں کیا تو آپ سندھ کے لوگوں کو پیغام دیں گے آپ کو جینے کا حق نہیں‘۔

انہوں نے احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ ’میں احتجاج کرتا ہوں، ہم احتجاج کرتے ہیں، اپوزیشن احتجاج کرتی ہے، ہمارے احتجاج کو صرف لفظی بات مت سمجھا جائے اور ساری پارلیمنٹ احتجاج کرے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آج کا دن آپ نے گنوایا تو آنے والی نسلوں میں بھی کوئی احتجاج کرنے والا نہیں ہوگا‘۔

بعد ازاں اسپیکر اسمبلی کی جانب سے خورشید شاہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شفقت محمود کو مائیک دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔

سابق اسپیکر ایاز صادق نے اپوزیشن ارکان میں سیاہ پٹیاں تقسیم کیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *