غیر آئینی ٹیکسیشن

ڈاکٹر اکرام الحق ikram

حال ہی میں نافذ کیے گئے فنانس (ترمیمی) آرڈیننس 2015ء کے مطابق ایس آر او کے ذریعے ٹیکس میں سہولیات اور رعایت دینے کا اختیار ایف بی آر سے لے کرکابینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ECC) کو تفویض کردیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 77 کی خلاف ورزی ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق ٹیکسز کا نفاذ پارلیمنٹ کا حق ہے ؛ چنانچہ ٹیکسز کا اختیار ای سی سی کوتفویض نہیںکیا جاسکتا، اور پھر اس پر ''انجینئر اقبال ظفر جھگڑا اور سینیٹر رخسانہ زبیری بالمقابل فیڈریشن آف پاکستان 2013) 108 TAX 1 (S.C. Pak) ( و دیگر کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے: '' یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ وفاق کی ضروریات کے لیے ٹیکس لگانے کا اختیار مجلس ِ شوریٰ( پارلیمنٹ) کے سوا کسی کے پاس نہیںہے۔ اس سلسلے میں Cyanamid Pakistan Ltd. V. Collector of Customs (PLD 2005 SC 495) کیس کا حوالہ بھی موجود ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی کو قانون سازی کا اختیار نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ امید کی جانی چاہیے کہ سپریم کورٹ حکومت کی طرف سے روا رکھی جانے والی بے ضابطگی کا نوٹس لے گی اور اسے کسی بھی غیر آئینی اقدام سے باز رکھے گی۔
''فورتھ ٹریڈ ریویو آف پاکستان (March 24 & 26, 2015)‘‘ کے لیے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کہتی ہے: ''پاکستان میں محصولات کی وصولی میں خاطرخواہ کمی کی ذمہ داری جن کئی ایک عوامل پر عائد ہوتی ہے اُن میں ٹیکس چوری، ٹیکس کی مد میں دی گئی وسیع مراعات اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے میں ناکامی قابل ِ ذکر ہیں۔ مزید یہ کہ بعض افراد اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ایس آراوز کے ذریعے دی گئی ٹیکس چھوٹ بھی محصولات میں شدید کمی کا باعث بنتی ہے۔‘‘ اس رپورٹ میں 4,500 ایسے ایس آراوز کا ذکر ہے جن کی وجہ سے 650 بلین روپوں کے محصولات وصول نہ کیے جاسکے۔ گویا قومی خزانے کو اتنی بھاری رقم سے ہاتھ دھونا پڑے۔
یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ایڈہاک تجارتی پالیسی، جسے ایس آراوز سہارا دیتے ہیں، نہ صرف معمول کی تجارت کو سخت نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس کے ذریعے منافع خوری کا رجحان بھی فروغ پاتا ہے۔ اب جبکہ فنانس ایکٹ 2015ء میں ٹیرف کے نرخوں میں ترمیم کردی گئی ہے، ای سی سی ٹیرف میں چھوٹ اور مراعات دیتی دکھائی دے گی۔ دراصل ای سی سی کے ذریعے ایس آراوز کا اجرا محض دکھاوا ہے کیونکہ ایف بی آر کی طرف سے کی گئی سفارشات کے ذریعے طاقتور حلقوں کو خوش کرنے کی پالیسی جاری رہے گی اور اس طرح مالیاتی نظم اور شفافیت پر شکوک و شبہات کے سائے چھائے رہیں گے۔ ٹیرف کے ڈھانچے کو یکا یک تبدیل کرنے سے وسائل مختص کرنے کی کاوش غیر یقینی پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس غیر یقینی پن کی وجہ سے معاشی عمل ناہموار ی کا شکا ر ہوکر اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ برآمد کی جانے والی اشیا پر2013-14 ء کے مالی سال کے دوران 137ارب روپے کی چھوٹ دی گئی۔ اس دوران یہ بات بھی یاد رکھی جانی چاہیے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ دسمبر2015ء تک تمام ٹیکس مراعات واپس لے لے۔ ہم نے اس سے قرضہ اسی شرط پر حاصل کیا تھا ؛ چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس شرط کو کس طرح پورا کرتی ہے۔
ایف بی آر کے پاس درآمدی اور برآمدی اشیا پر دیے جانے والے ایس آر اوز کی فہرست موجود ہے۔ درآمدی اشیا پر کم از کم 92 ایس آراوز موثر ہیں۔ ان میں سے 38 ایس آراوز 1991ء سے 2010ء کے درمیان متعارف کرائے گئے، لیکن ان کی وجہ سے تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی پڑی اورکاروبار کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا طریق ِ کار پیچیدہ، من پسند اورشفافیت سے عاری ہے۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ایس آراوز کے ذریعے معاشرے کے طاقتور طبقوں کو زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا ''قانونی طریقہ ‘‘ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ان طبقوں کو دی گئی مراعات کا حجم 5,500 بلین روپے ہے۔ اس کا اعتراف چیئرمین ایف بی آر نے تیرہ مئی 2014ء کو سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیوکے سامنے کیا تھا۔ ان مراعات کا زیادہ تر رُخ شوگر اور سٹیل کی صنعتوں کی طرف ہے اور ملک پر حکمرانی کرنے
والے افراد کا تعلق انہی شعبوں سے ہے۔ بیوروکریسی بھی ان مراعات سے استفادہ نہ کرنا بدذوقی سمجھتی ہے۔ 26 مئی2012ء کو جاری ہونے والے ایس آر او 569(I)/2012 کے ذریعے گریڈ 20 سے 22 تک کے سرکاری افسران کو اجازت دی گئی کہ وہ ٹرانسپورٹ الائونس پر صرف پانچ فیصد ٹیکس ادا کردیں۔ یہ الائونس ان کی آمدنی کا ایک اور ذریعہ ہے۔
ٹیکسز پر مراعات دینا یا بوجوہ ان کے نرخ تبدیل کرنے کے معاملے کو ابھی تک آئینی نکتے سے زیر ِ بحث نہیںلایا گیا ہے۔ یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ دولت مند کاروباری حلقوں کو مراعات سے نوازنے کے عمل، جس میں ایف بی آر نے جو اُن پر شفیق ماں کی طرح مہربان دکھائی دیتا ہے، ٹیکس کے نظام کو ہلاکررکھ دیا۔ مختلف وجوہ کی بنا پر دی گئی ان مراعات کا حتمی بوجھ غریب آدمی کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح پاکستان ایک ایسی منفرد ریاست ہے جہاںدولت مند افراد غریب آدمی سے جبری وصول کردہ ٹیکس کی رقم پر عیش کرتے ہیں۔ یہ صورت ِحال آئین کے آرٹیکل 162کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ یہ آرٹیکل صدر ِمملکت کے سوا کسی اتھارٹی کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا اختیار نہیں دیتا ، لیکن یہاں یہ طاقت غیر آئینی طور پر ای ای سی کو دے دی گئی ہے۔ اس طرح فنانس (ترمیمی) آرڈیننس 2015ء آئین کے آرٹیکل 162سے متصادم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *