عالمی اردو کانفرنس اور ہندوستان کا سفر

ہندوستان جانا محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ میری پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے جس کی وجہ سے میرا ہندوستان جانا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آج بھی ہمارے خاندان کے لوگ وہاں آباد ہیں اور چاہنے والوں کا ایک جم غفیر ہے جو ہمیشہ بانہیں پھیلائے میرا استقبال کرنے کو تیار رہتا ہے۔ ہندوستان کی ثقافت، تہذیب ، زبان پکوان تو دنیا بھر میں مقبول ہے۔ لیکن میں ان تمام باتوں کے علاوہ ہندوستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ ، تعصب ، تعلیم، طبقاتی تفریق اور دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دیتا ہوں۔ جو شاید موجودہ حالات میں انسان کے لیے دردِ سربنا ہوا ہے۔
ہر سال میں ہندوستان کا سفر کسی نہ کسی بہانے کر ہی لیتا ہوں لیکن اس بار کا سفر کچھ خاص تھا ۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن نے دلی میں عالمی اردو کانفرنس منعقد کیا تھا اور مجھے بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم لندن کی مصروف زندگی سے کانفرنس کے تینوں دن کے لیے وقت نکالنا میرے مشکل تھا اس لیے میں نے آخری دن ہی شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔
30جنوری کی دوپہر لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے اتحاد کے جہاز پر سوار ہو کر پہلے ابو ظہبی پہونچا اور دو گھنٹے کے وقفے کے بعد صبح آٹھ بجے ہندوستان کی راجدھانی دلی پہنچ گیا۔ ائیر پورٹ پر سیکورٹی اور امیگریشن کے بعد جیسے ہی باہر نکلا پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم اپنی بانہیں پھیلائے میرا استقبال کرنے کو کھڑے تھے۔ ہم دونوں بچھڑے بھائیوں کی طرح بغل گیر ہوئے اور جذبات پر قابو رکھنے کی کوشش میں آنکھیں نم ہوگئیں۔ پھر ہم دونوں نے خود کو سنبھالا اور تیزی سے پروفیسر کاظم کی گاڑی کی طرف چل دئیے۔
گاڑی پروفیسر کاظم خود ہی ڈرائیو کر رہے تھے۔ گاڑی چلاتے ہوئے انھوں نے خیر و عافیت دریافت کیا اور مجھ سے ملنے کی خوشی کا اظہار کیا۔ پورے راستے ہم لوگ دہلی اور لندن کے حال و احوال پر گفتگو کرتے ہوئے ایسے مصروف ہوئے کہ راستہ کب ختم ہوا اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ہم سیکورٹی گیٹ کو پار کر کے ایک عمارت کے پاس رکے۔ گاڑی سے سامان نکال کر اندر داخل ہوئے تو معروف ادیب اور الہ آباد کے ریٹائرڈ پروفیسر علی احمد فاطمی سے ملاقات ہو گئی۔ کچھ رسمی گفتگو کے بعد ہم اپنے کمرے میں چلے گئے جہاں نیند کے غلبے نے ہمیں تھوڑی دیر کے لئے آرام کرنے پر مجبور کر دیا۔
دوپہر کے ایک بج رہے تھے اور کمرے میں کھڑکیوں سے چھنتی ہوئی ہلکی ہلکی روشنی داخل ہورہی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی میں فوراً تیار ہو گیا۔ کمرے سے باہر آکر ریسیپشن پر پروفیسر کاظم کے بارے میں دریافت کیا ۔ تبھی کاظم میاں اپنی گاڑی کو پارک کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ میں پروفیسر کاظم کے ساتھ کانفرنس ہال کی طرف چل پڑا۔ کانفرنس ہال پہنچ کر پتہ چلا کے تمام لوگ لنچ کرنے کے لئے قریب ہی ڈائننگ ہال میں گئے ہیں۔ ہم بھی ہال پہنچ گئے اور داخل ہوتے ہی سب سے پہلے کانفرنس کے روحِ رواں ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین نے ہمیں گرم جوشی سے گلے لگا لیا۔ خواجہ صاحب نے والہانہ انداز میں کہا کہ ’فہیم بھائی آپ کے آنے سے محفل میں رونق آگئی‘ ۔ پھر ہم سب بیٹھ کر کھانا کھانے لگے تبھی میرے بھائی ڈاکٹر شہاب عنایت ملک (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس، جموں یونیورسٹی) آ دھمکے اور کہا: فہیم بھائی ہم آپ کو بہت مِس کر رہے ہیں۔ گویا کہ لوگوں کی محبت اور گرم جوشی نے میری ساری تھکان اتار دی اور مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہوا کہ میں سات ہزار میل دور کا سفرطے کر کے آرہا ہوں۔
کانفرنس ہال پہنچتے ہی کانفرنس کا آخری دور شروع ہوا اور مندوبین نے اپنے اپنے پرچے پڑھے جسے سامعین نے خوب پسند کیا۔اس دوران میری ملاقات ڈاکٹر اطہر فاروقی سے ہوئی جو انجمن ترقی اردو ہندکے جنرل سیکریٹری ہیں۔ اطہر فاروقی نے بھی اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں نمایاں رول نبھایا ۔اس کے علاوہ برسوں سے بچھڑے بھائی سید اختر حسین سے بھی ملاقات ہوئی جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں فارسی زبان کے پروفیسر ہیں۔ اختر بھائی مولانا آزاد کالج کے ایک ذہین اور ہونہار طالب علم تھے۔
اس کانفرنس کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ اسے براہِ راست پوری دنیا میں دیکھا جا رہا تھا۔ میں نے خود کانفرنس کا پہلا دن براہِ راست لندن میں دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ نئی ٹکنالوجی کا بھر پور انتظام کیا گیا تھا جس سے اس کا پتہ چل رہا تھا کہ اردو زبان کو نئی ٹکنالوجی سے جوڑنے میں ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین نے کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔جو کہ وقت کے لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
کانفرنس کا اختتام مہمانوں کے پر مغز تقاریر سے ہوا اور تمام لوگوں نے ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے عہدے داران کی کاوش کو سراہا۔ مجھے اردو کے کئی کانفرنس میں شرکت کرنے کا موقعہ مل چکا ہے لیکن ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے اس کانفرنس میں جن باتوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی وہ تھی کانفرنس کا عنوان ’اردو زبان میں رزمیہ شاعری‘ ۔ یہ ایک ایسا عنوان تھا جس پر شاید اب تک نہ ہی تو کسی نے دھیان دیا تھا اور نہ ہی مقالے پڑھے گئے تھے۔اس کے علاوہ کانفرنس کا عمدہ انتظام ، نظامت، اور بیرون ممالک کے مندوبین کی شرکت نے بھی مجھے کافی متاثر کیا۔ جس میں سب سے پہلے الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامر کا نام لینا اہم سمجھتا ہوں جنھوں نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اس اہم کانفرنس میں شرکت کی۔ عین شمس یونیورسٹی کی ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی، ڈاکٹر رانیہ فوزی اور مروہ لطفی ہیکل السباعی اور ایران سے تشریف لائی ہوئی ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی کا نام قابلِ ذکر ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان بھر کی یونیورسیٹیوں سے درجنوں پروفیسرس اور ریسرچ اسکالرس نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ رزمیہ شاعری پر نہ صرف مقالے پڑھے گئے بلکہ حمد و نعت و رزم خوانی کی محفل کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں جناب سلیم امروہوی،رضوان عباس، سید غلام سجاد، عرفان رضا نقوی اور سید مہران نے اپنی مسہور کن آواز سے محفل پر رقت طاری کردی۔
میں نے کانفرنس میں گفتگو کے دوران مشورہ دیا کہ اب مندوبین کو اپنے خرچ سے ایسے کانفرنس میں دنیا بھر سے شرکت کرنی چاہیے اور مقالہ پڑھنے کے علاوہ کچھ ٹھوس باتیں بھی کرنی چاہیے۔ جس کا اب تک فقدان پایا جا رہاہے۔تاہم ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کی یہ ایک اچھی کوشش ہے اور اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اب ضرورت ہے کہ اردو زبان کی ترقی و تریج کے لیے ایک پلیٹ فارم بنے جہاں دنیا بھر کے لوگ جمع ہوں اور اردو زبان کے مسائل اور اس کا حل تلاش کرتے ہوئے اس کی بقاء کی بات کریں۔
کانفرنس کے اختتام پر ہم سب ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کے دولت کدے پر عشائیہ کے لیے پہنچے جہاں ہماری عزت افزائی ہوئی۔بہترین میزبانوں کے ساتھ ہم نے عمدہ ہندوستانی کھانے کا خوب لطف لیا اور ڈھیر ساری باتیں مندوبین کے ساتھ شئیر کئے۔خواجہ اکرام الدین صاحب کے شاگردوں اور ریسرچ اسکالروں نے اپنی صلاحیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے کانفرنس کو بلندی پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ مندوبین کی خدمت کرتے ہوئے ان سے کامیاب کانفرنس کے انعقاد کی مبارک باد قبول کی۔
پہلی فروری کی صبح پانچ بجے خواجہ اکرام الدین کی ایما پر ہم تیار ہو کر اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے لیے نکل پڑے۔ شاید دلی اب تک سو رہی تھی اور رات کی سیاہی ابھی پوری طرح چھٹی بھی نہیں تھی۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی موجودگی سے اس بات کا علم ہو رہا تھا کہ دلی کس قدر مصروف شہر ہے۔ ائیر پورٹ پہنچ کر عالمی اور ہندوستانی مندوبین کے علاوہ ریسرچ اسکالر کا قافلہ پورے آب و تاب کے ساتھ کلکتہ جانے کے لیے بے قرار تھا۔ تاہم میری موجودگی نے تمام لوگوں میں اس بات کا بھروسہ دلا دیا کہ کلکتہ کے اس سفر میں کلکتے کا ایک میزبان ان کا ہم سفر ہے اس لیے انھیں فکر کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
جہاز میں سوار ہونے کے بعد میں ڈاکٹر یوسف عامر کے ساتھ بیٹھ گیا اور پہلی بار مجھے ڈاکٹر یوسف عامر کے ساتھ اطمینان سے بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ ابھی ہم محو گفتگو ہی تھے کہ وستارا کا جہاز شان سے اڑان بھرتے ہوئے ہمیں لے کے کر کلکتہ روانہ ہوگیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *