سعودی عرب کا امریکی سفیر کے طور پر پہلی خاتون کا انتخاب

سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی ریما بنتِ بندر ال سعود امریکہ میں اس کی نئی سفیر ہوں گی۔ وہ پہلی سعودی خاتون ہیں جنھیں اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ان کی تقرری کا اعلان سنیچر کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے کیا گیا۔

شہزادی ریما نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ واشنگٹن میں گزارا ہے۔

وہ یہ عہدہ ایک ایسے مشکل وقت میں سنبھال رہی ہیں جب سعودی عرب صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر ہونے والے بین الاقوامی شوروغل پر قابو پانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس واقعے کی متضاد وضاحتیں دینے کے بعد آخر کار سعودی حکومت نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ جمال خاشقجی جو پہلے سعودی شاہی خاندان کے لیے کام کرتے تھے، کو گذشتہ برس استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں داخل ہونے کے بعد قتل کر دیا گیا۔

جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرتے تھے اور اپنے کالموں میں اکثر سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔

سعودی عرب، خاشقجی کے قتل میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ جس پر امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کو شبہات ہیں۔

امریکی قانون دانوں نے اس معاملے کی مذید تحقیقات کے لیے وائٹ ہاؤس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی کانگریس کے اراکین نے حال ہی میں دیگر شعبوں میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی تحقیقات کی ہیں، جن میں یمن جنگ کے دوران جوہری ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

اپنے والد کے نقشِ قدم پر

شہزادی ریما، سعودی ولی عہد کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان سے اس عہدے کا چارج لیں گی، جھنیں مملکت کے نائب دفاعی وزیر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

ٹرمپ اور ولی عہد

وہ اپنے والد، بندر بن سلطان ال سعود کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں جو سنہ 1983 سے لے کر سنہ 2005 تک امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر تعینات رہے۔

اپنے والد کے اس عہدے کے باعث، ریما نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ امریکہ میں گزارا۔ انھوں نے میوزیم سٹڈیز میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

سنہ 2005 میں ریاض واپس آنے کے بعد شہزادی ریما نے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں کام کیا ہے۔

وہ کئی کاروباری عہدوں پر تعینات رہی ہیں جن میں ایک ریٹیل کمپنی ہاروی نکولس ریاض کی سی ای او کے طور پر ان کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

ایک ایسا ملک جسے اس کی صنفی مساوات کے ریکارڈ کی بنیاد پر اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، شہزادی کو وسیع پیمانے پر خواتین کے حقوق کی وکیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے حالی میں مملکت کی جنرل سپورٹس اتھارٹی کے طور پر کام کیا ہے جہاں ان کی توجہ سپورٹس اور ایکسرسائز میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر مرکوز رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *