سعودیوں کی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی خواہش، اوباما کا بائیکاٹ!

 obamaعرب رہنماؤں کے ساتھ صدر باراک اوباماکا اجلاس، کسی منصوبہ بندی کے تحت چلتا نہیں لگتا۔
پہلے سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اوباما انتظامیہ کو اس وقت شرمندہ کیاجب انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اس اعلان کے بعد کے شاہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے، اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
آخری لمحے میں کی جانے والی اس حرکت کو بڑی حد تک ایک ارادی سردمہری یا بائیکاٹ سمجھا گیااور سعودیوں نے شاہ سلمان کی غیرحاضری کے جواب میں محض ایک مبہم بہانہ پیش کیا۔
ولی عہد اور وزیر دفاع محمد بن نائف اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے شاہ کی جگہ اجلاس میں شرکت کی۔
تب اوباما نے نائب ولی عہد کا غلط تعارف کرایا اور سلطنت کے بانی کا نام بھی غلط بولا۔
پھر آج کی بڑی خبر آئی: نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک، ایران کی جوہری صلاحیت کا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جاتا ہے جو ملک کے جوہری پروگرام کے کچھ پہلوؤں کو کام کرنے کی اجازت دے دیتا ہے، بشمول یورینیم کی افزودگی اور بیلسٹک میزائل ریسرچ تو عرب ممالک کا یہ اصرار جاری رہے گا۔
ایک بے نام عرب رہنماجنہوں نے ان مذاکرات میں شرکت کی، ’’ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ سنی عرب ممالک ’’خاموش بیٹھ نہیں سکتے اور اس مقام کے قریب بھی نہیں ہیں جہاں ایران(شیعہ مملکت) اپنی صلاحیت میں سے بہت سی کو برقرار رکھنے اور اپنی تحقیق کو پھیلانے کی اجازت ملنے کے بعد پہنچ گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *