حکومتی دیگ کے تین چاول

قصہ تو کافی پرانا ہے مگر کردار اور واقعات اب بھی نئے ہیں۔"ایک سکھ سرار نے دعویٰ کیا کہ وہ خاص الخاص صلاحیت کا مالک ہے۔ وہ شراب کی بوتل سے ذائقہ چکھنے اور سونگ کر اس کے معیار، نام اور برانڈ کا نام بتا سکتا ہے ۔ دوستوں کی محفل میں وہ فخر یہ یہ بات کہتا۔ سردار کے دوست و احباب اس کی مہارت کے دعوی کرنے کا لطف اٹھایا کرتے۔ پھر ہوا یوں کہ ایک دن اس کے ایک مہما ن دوست نے اسے چیلنج کر دیا جسے سردار نے بصد شوق قبول کر لیا۔ دوست ایک کمرے میں گیا اور مختلف برانڈز کی شراب کی چار بوتلوں سے تھوڑی تھوڑی شراب ایک گلاس ڈالی اور اسے سردار کے سامنے رکھ دیا اور اسے کہا کہ "اب مجھے بتاؤ، یہ کون سا برانڈہے؟" انہوں نے سردار صاحب سے پوچھا۔ سردار صاحب نے گلاس اٹھانے سے پہلے اپنے دوستوں پر ایک نظر ڈالی ۔ احتیاط سے گلاس اٹھایا اور مسکراتے ہوئے اس میں سے ایک گھونٹ پیا، پھر انہوں نے شراب کو سونگ کر اندازہ کرنے کی کوشش کی ۔

کمرے میں ہر طرف خاموشی تھی ، ہر ایک کی سانس روکے کے انتظار میں تھا کہ اب سردار صاحب کیا جواب دیتے ہیں۔ چند منٹ کے بعد، سردار صاحب نے اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا " یہ جو بھی شراب ہے ، جس بھی کمپنی نے اسے بنایا ہے،" انہوں نے کمرے میں اعلان کیا، "اس کو مطلع کر دیں کہ ان کی کمپنی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکے گی"۔

اب جیسا کہ میں نے پہلے کہا، قصہ پرانا ہے، لیکن یہ آج بھی لاگو ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک دیگ کے صرف تین دانے نکال کراس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دیگ کا ذائقہ اور کھانے کا معیار کیا ہوگا ۔

مثال کے طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت کو ہی لے لیں تو اس کی دیگ کے صرف تین دانے، اسد عمر، عثمان بزداد اور محمود خان ، کو اس کے پکوان میں شامل دیکھنے کے بعد با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ پکوان بہت بد مزا اور جلد خراب ہو نے والا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ کمپنی بھی طویل عرصہ تک نہیں چلنے والی۔ اگر یہ تین اناج کھانے کی پتیلی میں شامل رہے تو، پورے کا پورا سالن ہی برباد ہو جائے گا ۔

اس میں شک نہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں لیکن اسد عمر کے ساتھ بر وقت فیصلہ کرنا ایک مسئلہ ہے۔اسد عمر مستقبل کی صورت حال کا اندازہ نہیں کر پاتے ، ان چند ماہ میں ہم نے دیکھا کہ وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ نہیں کرتے یا یوں کہیں کہ فیصلے میں تاخیر کر دیتے ہیں جو معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کی بات ہو تو ، اگرچہ یہ بہت پہلے ہی یہ واضح تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس مالیاتی پروگرام یا پیکیج کے لیے جانا ہوگا اور اگر اسد عمر بروقت مالیاتی فنڈ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے تو آج ملک کو جس اقتصادی بحران سامنا کرنا پڑا ہے ، اس سے بچا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کپتان کو خود ایک عجیب صورت حال درپیش ہے ، ان کی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ کپتان کے پاس اسد عمر کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی دوسرا موجود نہیں ہے۔

اب پنجاب کی بات کرتے ہیں۔ یہاں، عثمان بزدار کپتان کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کے باوجود وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی ان سے امید کی جا رہی تھی ۔ عمار یاسر ہی کو دیکھ لیں کہ وہ کس طرح پریشان ہیں ۔ عمار پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں عبدالعلیم خان نے بھی کپتان سے ملاقات کی تھی۔جس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ کے بارے میں شکایات کی ایک فہرست پیش کی ۔ وزیراعظم نے اس بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ، علیم خان، عثمان بزدار اور راجہ بشارت کو مل بیٹھ کر مصالحت کرنے کے لئے کہا۔ اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ علیم خان کو صوبائی وزارت منصوبہ بندی کی اضافی ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔ کپتان نے انہیں ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے کے لئے بھی کہا تھا، تاہم بعد میں علیم خان کو نیب نے بدعنوانی اور وسائل سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا اور انہوں نے وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

پنجاب میں ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ یہاں کی "ٹاپ بیوروکریسی"دو ماہ سے زائد عرصے سے غیر فعال ہے۔ جب اس معاملے پر ان سے بات کریں تو وہ شکایت کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ انہیں وقت نہیں دیتے جس کے نتیجے میں تمام اہم فیصلے تاخیر کا شکار ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار ایک شریف النفس اور اچھے انسان ہیں ۔ وہ لوگوں سے ملنے ملانے اور سماجی طور پر بھی نرم دل ہیں۔ ان کو وزارت اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور انہوں نے اب تک کسی میڈیا کے نمائندے کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ تاہم صوباِئی بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران احتسابی عمل کی تیز رفتار سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری افسران کسی بھی معاملے میں احکامات جاری کرتے یا کام کا آغاز کرنے سے گھبراہٹ میں میں ہیں کہ کہیں ان کو بھی نا دھر لیا جائے۔ اس صورت حال نے پورے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

کسی بھی ملک یا صوبے کی ترقی کے لئے مؤثر ترقیاتی منصوبہ بندی ریڑھ کی ہڈی کے حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن صوبہ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ میں پچاس فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سال کے اختتام تک صوبے کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کر گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہوں گی اور اگر گھروں کی تعمیر کے منصوبے جلد شروع نہ کیے گیے تو صوبائی ترقی کے بنیادی ڈھانچے میں کمی پی ٹی آئی حکومت کی کمزور ی بن جائے گی۔

پھر عثمان بزدار کو وزیر اعلی کیوں بنایا گیا؟ کیا اس لئے کہ وہ ایک کم ترقی یافتہ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا نام کسی "سحر انگیز برتن "میں نمودار ہوا تھا ؟ یا ان کی سادگی نے کپتان کا دل جیت لیا۔ جو بھی وجہ ہو ، یہ بات واضح ہے کہ بزدار صرف بنی گالا کا انتخاب تھا۔ ان کی نامزدگی میں "حقیقی ماسٹرز " کا کوئی کردار نہیں تھااور آج وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور کہ ملک کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ کس طرح چلےجائے گا؟

اگر کوئی مخلص شخص کپتان مشورہ دے کہ ان تین "نادر نمونوں " کو اہل افراد سے تبدیل کردیں تو وزیر اعظم اصرار کر تے ہیں کہ تھوڑا صبر سے کام لیں یہ " ہیرے " جلد چمک جائیں گے۔

ٹھیک ہے۔ ہم بھی صبر کیے بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب، پنجاب میں کوئی بھی خوش نہیں ۔ پنجاب کے گورنر، چوہدری محمد سرور نے وعدہ کیا تھا کہ صوبے کو صاف پانی کی منصفانہ تقسیم کا نظام رائج کرنا ان کی اہم ترین ترجیح ہو گی۔ تاہم انہیں کبھی مکمل اختیارات ہی نہیں ملے کہ وہ اس اہم معاملے پر کام کر سکیں ۔ لہذا انہوں نے ایک غیر سرکاری تنظیم "سرور فاؤنڈیشن" قائم کرکے اس کے تحت ریورس آسموسس Reverse Osmosis (RO) سے پانی صاف کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اختیار دیا گیا تو وہ پنجاب حکومت کے لئے بھی یہ کام کر سکتے ہیں ۔

چوہدری سرور کی شخصیت کو دیکھتے ہوئی یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندرونی احساسات کو زیادہ دیر تک چھپائے رکھیں۔ بہرحال انہوں نے ابھی تک خاموش رہنے ہی کو ترجیح دی ہے ۔

کپتان کے ساتھ صوبے میں چوہدری پرویز الہٰی جیسے سیاسی بساط کے ماہر کھلاڑی بھی ہیں۔جن کے ایک رکن عمار یاسر کا وزارت سے مستعفی ہونا ایک چھوٹی سی چنگاری تھی ۔ لیکن اگر صوبائی حکومت کے معاملات کو درست سمت پر نہیں ڈالا گیا تو یہ چنگاری آگ بھی بھڑکا سکتی ہے۔

دوبارہ عثمان بزدار کی بات کرتے ہیں ۔ مجھے پھر کہنے دیں کہ وہ ایک مہربان انسان اور سب کو سہل طریقے اور قرینے سے قائل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہی عادت انہیں بڑے فیصلے نہیں کرنے دیتی۔ لیکن حکومتی مشینری چلانے کا براہ راست تعلق فیصلہ سازی اور ان فیصلوں پر قائم رہنے اور عمل درآمد کروانے سے ہوتاہے۔

مغل دور کا شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا ایک زندگی سے بھرپور بادشاہ تھا۔ وہ ہر وقت شاہی رتنوں کے جھرمٹ میں رہتا ۔ اپنی اس کمزوری کے باعث وہ معاملات سلطنت چلانے کے لیے کبھی اپنا ذہن نہیں لگا سکا۔ یہی مسئلہ افغان حکمران باچا ساکا کے ساتھ تھا ، اس نے بھی اپنے دور اقتدار کے خوب مزے سمیٹے لیکن کبھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکا۔

عثمان بزدار یقینی طور پر بہترین ہیں لیکن ان کے پاس ایک اچھی ٹیم نہیں ہے۔ ان کے پاس ، ماسوا چند تعلیم یافتہ پرنسپل سیکرٹریوں ، کوئی قابل اور سمجھدار شخص نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ چاپلوس اور خوشامدی افراد میں گھرے ہوئے ہیں ، جو صرف وزارت اعلی کے اختیارات اور سہولیات کے مزے اڑا رہے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی حکومتی کارکردگی کی کوئی پروا نہیں اور نا ہی وہ فکر مند ہیں ۔ خواہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے معاملات ہوں یا غیر ملکی پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کی فکر ، پھل اور سبزی مارکیٹوں کے چیئرمینوں تعیناتی ہو یا مقامی حکومتوں کی اصلاحات کا معاملہ ، ہر فائل وزیراعلیٰ کے فیصلے اور ہدایات کی منتظر ہے۔

اگر عثمان بزدار نے حکومت چلانے کا انداز نہیں بدلا اور اپنی ٹیم تبدیل نہیں کی تو اس حکومت کے لمبے عرصے تک قائم رہنا مشکل ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *