کتوں کے بارے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟

جب میں اپنے کتے کو کراچی میں اپنے گھر کے قریبی ساحل پر سیر کے لیے لے جاتا ہوں تو لوگوں کا رد عمل یوں ہوتا ہے: مائیں اپنے بچوں سے کہتی ہیں دیکھو، کتا؛ بچے مجھ سے کتے کا نام پوچھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اس کو چھو سکتے ہیں؛کئی جوان یا تو ڈر کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا اس کی قیمت اور نسل کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ بعض اوقات جب میں کسی کو قریبی مسجد جاتے دیکھتا ہوں تو میں دوسری گلی میں مڑ جاتا ہوں۔ صوفیوں کے  ہاں مشہور ہے کہ اگر وہ کسی کتے کے سامنے آ جائیں تو وہ ناپاک ہو جاتے ہیں۔ آپ کو نماز ادا کرنے سے پہلے فرضی غسل کرنا پڑتا ہے۔

کراچی میں عبادت گزار عام طور پر جلدی میں ہوتے ہیں۔ یہ اوقات خطرے سے بھرپور ہوتے ہیں اور میں خدا کے بندوں اور خدا کے درمیان نہیں آنا چاہتا کہ ان کی نماز لیٹ ہو جائے۔ آخر کار وہ اپنا فرض پورا کر رہے ہیں جیسے کہ میں کرتا ہوں۔

میں ایک انتہائی مذہبی گھرانے میں پلا بڑھا ہوں جہاں کتوں سے محبت نہیں کی جاتی تھی، لیکن  کسی بھی کتے کے سامنے آنے سے ہمارے ایمان کو کوئی خطرہ لا حق نہیں ہوا۔  ہمارے گاؤں وسطی پنجاب میں بطور نوجوان ، میں نے اپنے مقامی امام صاحب کو دیکھا جو نمازیں پڑھاتے تھے،اپنے رشین پوڈل (کتے) کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ ان کے پوتے جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئے تھے اسے ساتھ لائے تھے اور یہیں چھوڑ گئے تھے۔ میں امام صاحب کو اس رشین کتے کے ساتھ باہر گلی میں، تھپتھپاتے ہوئے اوراسے محبت کے ساتھ گلے لگاتے ہوئے دیکھتا۔ کبھی کبھی ان کی لمبی سفید ڈاڑھی اور کتے کے گھنگھریالے چمکیلے بال ایک دوسرے کے ساتھ ٹچ ہوتے۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے دوران اس دہائی میں میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ ان کے کتے کے ساتھ جسمانی تعلق پر اعتراض کرتا۔ شاید یہ امام صاحب کی اتھارٹی تھی۔ شاید وہ کتا ہم عبادت گزاروں سے صاف دکھائی دیتا تھا۔ شاید لوگ سوچتے تھے کہ ایک بوڑھا اور نیک انسان ہے جسے پتہ ہو گا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

آج کوئی پبلک کے بیچ اپنے کتے کو محبت کے ساتھ گلے لگانے کی کوشش کرے تو اگر اس کا سر نہ بھی کاٹا جائے تو کم از کم اس سے امامت کا درجہ چھین لیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر جگہ مسلمانوں کی طرح ہم بھی زیادہ اچھے وقتوں کی خواہش کرتے ہیں جہاں ہم ساحل پر اپنے کتے کے ساتھ کچھ دیر پر سکون کھڑے رہ سکیں۔ اب مسجدوں میں اور بھی بہت سے عبادت گزار جتنے میرے بچپن میں ہوتے تھے لیکن اب ایسے امام نہیں ہیں جو کتوں سے محبت کی مذہبی کہانیاں بتائیں۔

اگر آپ آج کے مذہبی سکالرز کے جاری کیے گئے فتووں کی طرف آئیں، کچھ کتوں کے رکھنے کی اسلام میں اجازت ہے اور کچھ کی نہیں۔ کسی بھی طرح وہ ایسا احساس پیدا کر دیتے ہیں جیسے اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب نہ ہو جو مختلف ثقافتی تاریخوں، قدیم داستانوں اور جانوروں سے تعلق کے ہزاروں طریقوں پر مشتمل ہے، بلکہ ایک کتوں کا کلب ہے۔

بعض اوقات میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے مقامی امام سے پوچھوں کہ وہ ہمیں وہ کہانی بتائیں جو ہم نے بچپن میں  بہت سے جمعے کے خطبوں میں سنی تھی۔ یہ شفقت، درگزر اور کتوں کے بارے میں ایک اسلامی کہانی ہے۔ چونکہ زیادہ تر مذاہب ہمیں اخلاقیات سکھانے کے لیے عورت کی نیکی کی مثال دیتے ہیں، یہ ایک طوائف کے بارے میں ہے جس نے اپنی ساری زندگی گناہ میں گزار دی۔ ایک دن وہ پانی پینے کے لیے ایک کنوین پر رکی اور اسے ایک کتا نظر آیا جو بہت پیاسا تھا اور دیوار کے پاس پڑا کانپ رہا تھا۔ اس نے کنوین میں جوتا پھینکا اور پانی نکال کر کتے کی پیاس بھجائی۔ اس ہمدردی کے عمل کی وجہ سے اللہ نے اس کے تمام گناہ معاف کر دیے۔ یہ کہانی ان گناہگاروں کے بارے میں ہے جن کے پاس معافی کا ایک موقع ہوتا ہے لیکن یہ دیوار کے ساتھ پڑے ایک پیاسے کتے کا تصور ہے جو میرے دماغ میں گھس گیا ہے۔ کچھ کہانیوں کے مطابق کتا اتنا پیاسا ہے کہ وہ گارا کھانے کی کوشش کرتا ہے۔

قرآن خود بھی کتوں کے موضوع پر زیادہ تر خاموش ہے۔ واحد کتا جو قرآن کے مضمون کا حصہ ہے وہ غار کے لوگوں (اصحاب کہف)، مردون کا ایک چھوٹا سا گروہ جو ایک قدیم بادشاہ جس نے ان کا مذہب اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا کے خطرے سے بھاگ کر ایک غار میں 309 سال تک چھپے رہے کے ساتھ موجود کتے کا ذکر ہے۔ چھپے ہوئے ان تین صدیوں کے دوران وہ کتا اس غار کے دھانے پر بیٹھا رہا تا کہ کسی کی مداخلت کو روک سکے۔ یہ کہانی بغاوت کو بیان نہیں کرتی بلکہ وقت کے سفر اور ساتھ کی داستان بیان کرتی ہے۔ قرآن میں کتے کا دوسرا واضح ذکر ایک ایسے شخص کی کہانی کے حوالے سے ہے جو دنیا کی خواہشات میں دھنس چکا تھا جس کے بارے میں کہا گیا ہے "اگر اس پر حملہ کرو تو زبان نکالے رہے یا اس کو یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔"

زیادہ تر مسلمانوں کی کتوں سے نفرت ایک حدیث سے ثابت ہوتی ہے، جو کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک فرمان ہیں۔ مختلف، اکثر ضعیف حدیثیں ہیں جو اس بات پر روشنی ڈٖالتی ہیں کہ آپ کو کتا رکھنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ ایک حدیث کہتی ہے کہ حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہے۔ ان کے بال تو ٹھیک ہو سکتے ہیں لیکن ان منہ کی جھاگ ناپاک ہوتی ہے، ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے۔ لیکن ان کے بال گیلے ہو جائیں تو یہ ناپاک ہو جاتی ہے۔ آپ کتوں کو پال سکتے ہیں لیکن آپ ان سے پیار نہیں کر سکتے۔ آپ کتے رکھ سکتے ہیں اگر انہیں گھر کے اندر نہ آنے دیا جائے۔ آپ کتوں کو تب تک اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں جب تک آپ انہیں شکار کے لیے استعمال کرتے رہیں۔ جہاں تک اس جہاگ کا تعلق ہے جو شکار کیے جانور پر لگتی ہے تو وہ پاک ہی قرار دی گئی ہے۔

کتوں کے بارے میں ایک  معروف حدیث کہتی ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا ہو۔ بظاہر فرشتوں کو برا نہیں لگتا اگر کتا گھر سے باہر صحن میں کھیل رہا ہو۔ جو آپ کو اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ فرشتون کو ان مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں جو چھوٹے اپارٹمنٹس اور چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں جن میں کوئی صحن نہ ہو۔

فرشتوں کی کتوں سے مخالفت کے بارے میں حدیث کو بعض اوقات پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابہ سے  منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کا نام ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تھا۔ وہ اسلامی تاریخ میں بلیوں سے محبت کرنے کے حوالے سے ایک مشہور صحابی بھی تھے۔ اصل میں ان کے نام کا مطلب ہے، 'بلیوں کا باپ'۔ اس دور کے کچھ فقہا نے انہیں ناقابل یقین راوی قرار دیا ہے، لیکن کوئی بھی انہیں کتوں سے نفرت کے حوالے سے بیان نہیں کرتا۔ وہی معافی پانے والی طوائف کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

بہت سی دوسری کہانیاں اس حقیقت کی حمایت کرتی ہیں کہ کتوں کا خیال رکھنے سے آپ از خود غیر مسلم نہیں بن جاتے۔ ایک کہانی میں پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سربراہی میں اپنی فوج کے ساتھ جنگ پر جا رہے تھے جب آپ کو اپنے بچوں کے ساتھ ایک کتیا نظر آئی۔ آپ نے ایک صحابی کی ذمہ داری لگائی کہ ان کی حفاظت کرے۔ خلیفہ ثانی عمر رضی اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ اگر ان کے دور خلافت میں اگر کوئی کتا بھی بھوکا سو جاتا ہے تو یہ ان کی ذمہ داری ہے۔

بہت سے لوگ ہیں جو کتوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن انسانی حالت کا خیال رکھتے ہیں، وہ گلیوں میں بھیک مانگنے والے بچوں کا خیال رکھتے ہیں، یا مفلوج لوگوں کا جنہیں ملازمت نہیں مل سکتی۔ ان کی طرح مجھے یہ بات نا گوار گزرتی ہے کہ ایک کتے کی فکر کی جائے جب دنیا تباہ ہو رہی ہو۔ پھر میں خود کو سمجھاتا ہوں کہ جب دنیا تباہی کے دہانے پر ہو تو آپ کو کتوں کی فکر کرنی چاہیے۔ آخر کار ہمارے نبی ﷺ نے جنگ کے دوران کتوں کی حفاظت کے بارے میں فکر فرمائی ہے۔

ہماری کلاسیکل، مذہبی اور رومانوی، اور صوفیانہ شاعری ان شعروں سے بھر پور ہے جہاں ایک عاشق چاہتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی گلیوں میں گھومنے والا کتا ہو۔ صوفی شعرا نے کتوں کو وقف ہونے کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن جب صوفیا شہر مدینہ کا کتا ہونے کی خواہش کرتے ہیں وہ ایک کتے کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے اگر ان کا آمنا سامنا ہو جائے۔

مجھے اپنے کتے کو تقریروں اور بیانات سے دور لے جانا پڑا کیوں کہ وہ جوش میں آ جاتا ہے اور بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔ غالبا وہ ان کے ساتھ مل بیٹھنا چاہتا ہے لیکن شعرا اور احتجاجی لوگ، مذھبی اور غیر مذہبی لوگ کتے کو اپنی محفل میں شریک نہیں کرنا چاہتے۔ مجھے عربی کا ایک مقولہ یاد آتا ہے: کتے بھونکتے اور قافلے چلتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات قافلے بھونکتے ہیں اور کتوں کو چلنا پڑتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *