ریڑھ کی ہڈی بھی ’’سوچنے‘‘ کا کام کرتی ہے!

کینیڈا: قارئین کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل ہم نے حرام مغز میں چھپے دماغ کے ایک نئے گوشے کی دریافت کا اعلان کیا تھا اور اب خبر یہ ہے کہ ریڑھ کی ہڈی عین دماغ کی طرح بعض معلومات کی پروسیسنگ میں مدد دیتی ہے۔    

اس سے قبل ہم سمجھتے آئے ہیں سوچنے سمجھنے کا سارا کام صرف دماغ ہی کرتا ہے۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی میں بھی کئی اعصاب پائے جاتے ہیں اور وہ سادہ حرکات کی انجام دہی اور موٹر افعال (حرکات و سکنات) میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں حرام مغز بعض پیچیدہ عمل انجام دیتے ہیں جن ہوا میں ہاتھ کی پوزیشن کا ادراک بھی شامل ہے۔

اس ضمن میں پی ایچ ڈی ماہر اینڈریو پروزنسکی کہتے ہیں کہ حرام مغز کی سطح پر کم ازکم ایک پیچیدہ عمل کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی اور اس سے متعلقہ اعضا ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے۔ اسے سمجھ کر نہ صرف دماغ کو مزید جاننے میں مدد ملے گی بلکہ پیچیدہ امراض کے علاج کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

ماہرین نے مسلسل محنت سے نوٹ کیا کہ ہاتھ، کلائی، کہنی اور دیگر اعضا کی حرکت سے ملنے والی حسی معلومات اور حرکتی کمانڈز کی پروسیسنگ میں ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اس علم سے چوٹ یا حادثے میں معذور ہونے والے افراد کے لیے بھی امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح اپاہج افراد کو تربیت دے کر ان کی زندگی بہتر بنائی جاسکے گی۔ تاہم اس سے پہلے ریڑھ کی ہڈی کے پورے عمل کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *