بھارت کا اگر مگر،پاکستان کا چونکہ چنانچہ‬

آگے بڑھنے سے پہلے نریندرا مودی کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں جان لیں ۔موصوف تیلی خاندان  سے ہیں ، جسے نچلی ذات سمجھا جاتا ہے۔ لیکن معاشی طور پر مڈل کلاس کے لوگ ہیں۔ مگر مودی کا باپ ایک صدی اور غیر متوازن شخصیت کا مالک تھا۔ مودی کو اپنی مرضی کے خلاف  کام سے لے شادی تک کرنی پڑی۔ اسی وجہ سے وہ لڑ کر خاندان سے علیحدہ ہو گئے۔ نفرت اور محرومی نے انھیں راشٹریہ سیوک سنگھی بنا دیا۔ ان کی زندگی محبت اور نرمی کی نعمتوں سے محرومی کی زندگی ہے۔

وہ گاندھی جی کے قاتل نتھورام گوڈسے کو بہت پسند کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کی آمد کو بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب سمجھتے ہیں اور کانگریس دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوۓ ۔ محنتی ، ذہین ، چالاک اور موقع پرست تھے،اس لیے خوب ترقی کی۔ ان کی طبیعت میں ہار نہیں ۔ فائٹر ہیں ۔ فتح کے لیے کسی بھی حد کو پار کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں ۔ سیاسی فلسفے میں چانکیہ اور میکیاولی کے عقیدت مند ہیں ۔ ہندو قوم کے لیے وہی جذبات رکھتے ہیں جو کہ ھٹلر جرمن قوم کے لیے رکھتے تھے۔اسی لیے انھوں نے بھارتی آئین میں قومیت کی تعریف تک میں تبدیلی کی کوششیں کیں ،جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔  اب آئیے موجودہ حالات کی طرف۔

اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کی ناکامی اور شدت پسندی  کے تباہی کن نتائج کے بعد  غیر مقبول ہوئے۔ ایسے صوبوں سے الیکشن ہار گئے جن کا تصور بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ آنے والے الیکشن میں پٹ جائیں گے لہٰذا پاکستان دشمنی کا چورن بیچنے کے لیے پلوامہ کا ڈراما کروایا۔ ایک بھارتی چینل نے ثابت کیا ہے کہ کشمیر کی اینٹیلی جنس نے منع کیا تھا کہ فوجی قافلہ سڑک کے ذریعے سے نہ بھیجا جائے کیونکہ تخریب کاروں کے لیے بہترین موقع ہو گا۔ بلکہ باقاعدہ مطالبہ کیا گیا کہ طیارے فراہم کیے جائیں مگر انکار کیا گیا۔ پھر اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ شدید سیکورٹی حصار میں بارودی گاڑی کیسے فوجی قافلہ سے جا ٹکرائی۔ چنانچہ اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دہشتگردوں کو غیر محسوس طریقے سے یہ حملہ کرنے کا موقع دیا گیا۔اور ان سے فاصلہ بھی رکھا گیا تاکہ ان کو پرو پاکستانی ثابت کیا جا سکے۔ اور اس کے بعد کیا ہوا سب جانتے ہیں۔ مگر جس طرح جنرل ایوب نے یہ سمجھا تھا کہ آپریشن جبرالٹر کا جواب نہیں دیا جائے گا اور پرویز مشرف نے یہ خیال کیا تھا کارگل میں مجاھدین ڈراما چل سکتا ہے اور انڈیا ردعمل نہیں کرے گا اسی طرح مودی یہ غلط اندازہ لگا بیٹھے کی پاکستان جواب نہیں دے گا۔ جواب تو بہت کرارا مل گیا۔  ساری تدبیریں الٹی ہو گئیں ۔ بھارتی اپوزیشن  جو کل تک  پاکستان دشمنی کو حب الوطنی قرار دینے پر مجبور تھی،  اس کو نئی لائن  مل چکی ہے۔ انھیں پاکستانی کامیابی سے یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ مودی نے ان کے فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کی ہے۔ چنانچہ اب ہار نہ ماننے والے مودی کے پاس بہت کم آپشن بچے ہیں : پاکستان کے شہروں میں جہادی کیمپوں پر میزائل سے حملہ کیا جائے۔ اس حماقت کی کچھ خبریں اور کچھ اشارے ملنے پر امریکہ ، روس اور عربوں کے ذریعے سے صاف بتا دیا گیا کہ ہمارے پاس چلانے کے لیے ایک ہی چیز ہے ،وہی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے جب یہ کہا تھا کہ ہم ٹیپو سلطان کو ہیرو سمجھتے ہیں تو اس کا یہی مطلب تھا۔ چنانچہ اب مودی بہادر کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے ،  وہ کہے گا کہ :
اگر پاکستان کو کوئی سزا نہ دی گئی تو پھر ہندوستان پر اسی طرح حملے ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اگر آپ اپنے لیے اسے " ڈو مور " کہہ سکتے ہیں تو ہمارے لیے کیوں نہیں ؟ آپ ان کے علاقے میں ڈرون اٹیک کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ؟ آپ اپنا اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے اٹھا سکتے ہیں تو ہم اپنا حافظ سعید کیوں نہیں ؟ تب ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ  شکل دیکھی ہے شیشے میں ؟ آپ امریکہ نہیں اور دور بھی نہیں ۔ آپ ان کے بائیں ہاتھ کے نیچے ہیں اور جھانپڑ رسید کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن مودی کے لیے یہ زندگی موت کا سوال ہے۔ اس نے یہ سارا کھیل ذلیل ہونے کے لیے نہیں کھیلا۔ وہ کم سے کم اس بات پر  کامیابی حاصل کر سکتا ہے کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے کسی بکرے کو قربان کیا جائے۔ اور ہمارے خیال میں یہ قربانی دینی پڑے گی۔ اور مودی کے لیے یہ فیس سیونگ کامیابی ہو سکتی ہے۔اگر ہماری طرف سے انکار ہوا تو فضائی جھڑپ کا ایک اور راونڈ ہونا نا گزیر ہے!
ابھی نندن کا چھوڑنا اسی طرح ضایع جاۓگا جس طرح ماضی میں نچکیتیا کی حوالگی ضایع ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *