آخری دہشت گردتک

رؤف طاہرrauf

وزیراعظم نواز شریف نے چائنا پاک اکنامک کوریڈور پر آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی تھی کہ کراچی سے ’’سانحہ صفورا چورنگی‘‘ کی خبر آگئی۔ 18خواتین سمیت 45 بے گناہوں کے وحشیانہ قتل کی خبر، جن کے سر، سینے اور چہرے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ نشانہ بننے والے اسماعیلی برادری کے افراد تھے، ایک ایسی برادری جسے تحریکِ پاکستان میں شاندار کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1906 میں ڈھاکہ میں، آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو سر سلطان آغا خاں اس کے پہلے (بانی) سربراہ قرار پائے اور ان کی اسماعیلی برادری تحریکِ پاکستان کے دوران مسلم لیگ کی (خصوصاً)مالی امداد میں پیش پیش رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعداس نے عملی سیاست سے لاتعلق ہو کر خود کو پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کردیا۔رفاہی اور فلاحی کاموں میں بھی یہ کسی سے پیچھے نہ تھی۔ سانحہ صفورا میں یہی پُرامن لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔
پاکستان بُرے دنوں کا عشرہ، ڈیڑھ عشرہ گزارنے کے بعد ایک بار پھر اچھے دنوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
میں یقین رکھتا ہوں کامرانیوں کے دِن پھرسے لوٹ آئیں گے
چائنا پاک اکنامک کوریڈور کاآغاز کامرانیوں کے اس دور کی تمہید بننے جارہا ہے، جسے چین اور پاکستان کے لئے ہی نہیں، اس پورے خطے کے لئے گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے۔ کہنے والے اِسے ’’تقدیر بدلنے والا‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اُدھر اس منصوبے کا اعلان ہوا، اِدھر بعض حلقوں کی طرف سے اس کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار شروع ہوگیا۔ بعض ایسے مہربان بھی تھے، جنہیں اِسے دوسرا ’’کالاباغ‘‘ بنانے کا اعلان کرنے میں بھی عار نہ تھی۔کہا گیا، پنجاب کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس کا روٹ تبدیل کیا جارہا ہے۔ اور یہ سب کچھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مفادات کی قیمت پر ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان برپا تھا۔ بے چارے احسن اقبال بہت چیخے چلائے، وہ سوشل میڈیا پر ان نقشوں کو جعلی قرار دے رہے تھے۔ چینی صدر کے دورۂ پاکستان سے قبل انہوں نے وفاقی دارالحکومت کے چنیدہ اینکر پرسنز ، تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کو اس حوالے سے بریف بھی کیا(حیرت تھی ، جناب وزیراعظم کے صاحبِ فکر و نظر رفیق ِ کار کو لاہور، کراچی اور خود پشاور اور کوئٹہ کے میڈیا پرسنز کے سامنے حقیقت ِ احوال پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ حسنِ ظن کا تقاضا ہے کہ ہم اِسے احسن اقبال کی عدم فُرصتی پرمحمول کر لیں)۔ پرائم منسٹرہاؤس میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کی قیادت موجود تھی۔ کچھ عرصہ ہوا، عمران خاں نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ کسی ایسی کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے جس میں وزیراعظم نوازشریف بھی موجود ہوں۔ یُوٹرن کے لئے مشہور کپتان ابھی تک اس حوالے سے ’’سیدھی راہ‘‘ پر قائم ہے چنانچہ یہاں اِن کی نمائندگی کے لئے شاہ محمود قریشی آئے تھے (چند روز قبل جناب آصف زرداری کی دعوت میں بھی شاہ محمود قریشی کی زیرِ قیادت تحریکِ انصاف کے سہ رُکنی وفد نے شرکت کی تھی )لیکن اپنے سراج الحق بھائی کو ایسی کیا مصروفیت درپیش تھی کہ وہ ملک کے مستقبل کے لئے اہم ترین اس مسئلے پر وزیراعظم کی طلب کردہ کانفرنس کے لئے وقت نہ نکال پائے۔ ان کی نمائندگی جماعت کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کی۔کانفرنس کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا مشورہ تھا کہ سانحہ صفورا کے باعث اس کانفرنس کو ملتوی یا مختصر کردیا جائے اور وزیراعظم ان کے ساتھ کراچی کا رُخ کریں لیکن مولانا فضل الرحمن ، اسفند یار ولی اور مشاہد حسین کا خیال تھا کہ ان سب لوگوں کا دوبارہ جمع ہونا ، شاید اتنی جلدی ممکن نہ ہو(مولانا کو اگلے روز ایران جانا تھا لیکن ایرانی سفارت خانے نے ان کا ویزہ منسوخ کردیا)۔ان کا کہنا تھا کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور بھی اہم ترین قومی مسئلہ ہے، صفورا کا سانحہ تو ہوچکا، وزیراعظم شام کو بھی کراچی تشریف لے جاسکتے ہیں۔ احسن اقبال نے تفصیل کے ساتھ شرکاءکانفرنس کو بریف کیا اور وزیراعظم سے شاباش وصول کی۔
کانفرنس کے آغاز میں اس سانحہ کے مقتولین کے لئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دُعا بھی کی گئی۔ حیرت ہے، اسی شام ایک اینکر پرسن اس امر پر دُکھ کا اظہار کر رہا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اس سانحہ پر دو منٹ کی خاموشی کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی۔
آرمی چیف نے اپنا دورۂ سری لنکا ملتوی کر کے کراچی کا رُخ کیا، جہاں انہیں کور کمانڈر ہاؤس میں اس سانحہ کے حوالے سے بریف کیا گیا۔ وزیراعظم بھی آل پارٹیز کانفرنس سے فارغ ہو کر کراچی پہنچ گئے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس کی صدارت کی ، جہاں اس سانحہ کے مختلف پہلو زیرِ غور آئے۔ جناب وزیراعظم ، سابق صدر آصف زرداری اور ایم کیو ایم کے فاروق ستار کے ہمراہ پاکستان میں اسماعیلی برادری کے سربراہ کے ہاں تعزیت کے لئے بھی گئے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف نے اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا جناب پرنس کریم آغا خاں سے پیرس میں فون پر اظہارِ تعزیت کی۔ صدمے سے دوچار روحانی پیشوا حیران تھے کہ پاکستان میں ان کی پُرامن برادری بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہی۔
دہشت گرد اپنا کام کر کے چلے گئے تھے اور اب میڈیا کی باری تھی۔ تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کی نااہلی زیرِ بحث تھی۔ استعفے کا مطالبہ بھی تھا لیکن اس بات کو نظر انداز کیا جارہا تھا کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے۔ ایک ایسی جنگ جو روایتی جنگوں سے مختلف ہے۔ جس میں نادیدہ دُشمن سے واسطہ ہے۔ یہ جنگ پورے ملک پر محیط ہے۔ضربِ عضب دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کا صفایا کر رہی ہے۔ وزیرستان میں ان کی تربیت گاہیں، ان کے اسلحہ خانے، ان کے محفوظ ٹھکانے تباہ کئے جاچکے۔ افغانستان کی سرزمین بھی ان کے لئے تنگ ہونے لگی ہے لیکن شہروں میں ان کے سلیپنگ سیل ، ان کے سہولت کار ابھی موجود ہیں (انڈین رأکے ملوث ہونے کا ذکر تو اب کور کمانڈرز کانفرنس اور وزارتِ خارجہ کی طرف سے بھی ہونے لگا ہے)۔دُشمن دیوار کے ساتھ لگ رہا ہے، تو یہ توقع کیوں کی جائے کہ وہ پلٹ کر حملہ نہیں کرے گا۔ چنانچہ اس طرح کے اور سانحات بھی ہوسکتے ہیں۔ جن کے لئے قوم کو ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ کراچی میں سیکورٹی ایجنسیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں۔ قبائلی علاقوں (خیبر ایجنسی) کے آپریشن میں بھی پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبر آتی رہتی ہے۔ آپریشن آگے بڑھ رہا ہے۔ دُشمن پسپائی پر ہے لیکن یہ جنگ ابھی اور چلے گی۔ ہمیں اس میں اپنی کمزوریوں کو بھی رفع کرنا ہے لیکن دہشت گردی کے کسی واقعہ پر ہا ہا کار مچاکر، دُشمن کے کھیل کو آگے نہیں بڑھانا۔ یہ وقت پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کا ہے نہ میڈیا ریٹنگ کا۔ یہ دُشمن پر آخری کاری ضرب لگانے کا وقت ہے۔ اس عزم کے اظہار کا وقت کہ ہم خوف زدہ ہوں گے نہ مایوس، دُشمن کے تعاقب میں، ہم سب اپنی حکومت ، اپنی سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ آخری دہشت گرد بھی انجام کو پہنچ جائے۔ پاکستان پھر امن و عاقبت کا گہوارہ بن جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *