اکیسویں صدی ۔۔۔زمانہ جارحیت

ایک زمانہ جاہلیت تھا جس کے بارے میں ہم نے پڑھا اور سنا کہ وہ ختم ہو گیا، پھر قوموں نے ترقی کی راہ لی۔ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم  بیسویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ہم نے اب تک ہونے والی ترقی کی اعلی ترین صورت دیکھی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایم ایس سی کا ماکلہ لکھنا تھا تو میرا بھائی میرے ہاتھوں سے لکھے صفحات لے کر جاتا اور کسی سے ٹائپ کروا کر لاتا، میں اس میں غلطیاں نکالتی اور وہ پھر جا کر اس کی درستگی کرواتا، اس کے بعد میرے اساتذہ اس میں تبدیلی کرواتے تو پھر سے یہ عمل دہرایا جاتا۔ پہلے سال تو یہ عمل ایسے ہی دہرایا گیا اور پھر دوسرے سال کا مکالہ لکھنے سے پہلے میرے بھائی نے گھر پہ ایک کمپیوٹرخرید لیا، ٹائپ تو ابھی بھی بہر ہی سے کرواتے لیکن ایک فلاپی میں لے آتے اور غلطیاں ہم گھر پہ ہی صحیح کر لیتے۔مجھے تبھی لگنے لگا کہ آئندہ آنے والے سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے بغیر کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔

سن ۲۰۰۰ میں میرا بھائی انگلینڈ چلا گیا، بھابھی اور بھائی نے جانے سے پہلے مجھے  ای میل اور میسنجر استعمال کرنا سکھایا۔ میں تین سال سے ایک سکول میں پڑھا رہی تھی اور کمپیوٹر سیکھ رہی تھی جب کمپیوٹر پراسیسر بنالے ولی کمپنی انٹیل نے اخبار میں اشتہار دیا اورمیں نے ایک ٹرینر کے طور پر ان کے ساتھ کام شروع کیا۔ تب سے اب تک میں نے اس ٹیکنالوجی کا پرچار پاکستان کے کونے کونے تک کیا۔ میں نے امریکہ میں قیام کے دوران اپنے ذاتی اور پشہ ورانہ روابط اس ٹیکنالوجی کے زریٰعے استوار کیے۔ میں سمجھنے لگی تھی کہ انسان نے اپنی آئندہ زندگی کے لیے بہترین مواصلاتی روابط اور زرائع ابلاغ ایجاد کر لیے ہیں۔ انہی کی بنا پر انسان اور دنیا ایک خوبصورت تعلق میں بندھ رہی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہماری یونیورسٹی پر دو بڑی کانفرنسز ہوئیں۔ ایک کانفرنس صرف اور صرف کمپیوٹراور موبائل  ٹیکنالوجی کے زریعے دی جا سکنے والی تعلیم پر کی گئی۔ کچھ دیر کو لگا کہ ہم بھی اکیسویں صدی میں داخل ہو ہی گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور مواصلات نے انسانوں کو ایک نئی شناخت دی ہے ایک گلوبل ولیج میں رہنے والے ایک آدم کی اولاد۔لیکن ابھی میں اسی خوش فہمی میں تھی کہ انہی تمام لوگوں کے درمیان میں نے کسی کو کہتے سنا کہ ہمارا مذہب انسانی روابط پر زور دیتا ہے اس لئے ہمیں ایک حد سے ذیادہ ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ اس سوچ نے مجھے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمیں اکیسویں صدی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ایسے بیانیے ہی کافی ہیں۔ مذہب نے تو کبھی منع نہیں کیا لیکن ہم ایسی محدود سوچ کا کیا علاج کریں۔

کانفرنسز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ حالات کشیدگی اختیار کر گئے۔ میں نے پہلی ہی خبر سنی تو اسی غیر مذہب کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے امن پر قائم رہنے کا پرچار شروع کر دیا۔ اگر انسان نے آج بھی قبیلوں میں بٹے رہنا ہے اور آج بھی ہمسایہ ممالک کی دشمنی ہی پر سیاست کرنی ہے، اگر آج بھی ہم نے انسانیت کشی کے لیے بہانے تلاشنے ہیں اور اگر آج بھی ہم نے فیس بک ٹویٹر اور انسٹا گرام کو نفرت پھیلانے کے لیے ہی استعمال کرنا ہے تو پھر تف ہے اس تمام تر ترقی پر۔ انسانیت اور امن کا پرچار کرنے پر میری حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا دیے گئے۔ میرے قریبی دوستوں اور طلبہ تک کو یہ پریشانی لاحق ہو گئی کہ میں بھارت کے خلاف کیوں نہیں بولتی۔ اور میں نے قطعا" یہ ضروری نہیں سمجھا کہ میں تاویلیں دوں۔ بلکہ میں نے تواتر سے امن کا پیغام سناتے رہنا ضروری سمجھا۔ ان تمام دنوں میں ایک دو دوستوں نے مجھے یہ بھی سمجھایا کہ ہم پاکستان میں امن کا پرچار کیوں کریں، دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں بھی دی۔ اور یہ بھی بتایا کہ جنگ کب ضروری اور لازم ہو جاتی ہے۔ جب کچھ اور نہ سمجھا سکے تو کفر اور حق کا بیانیہ ایک بار پھر صادر کر دیا۔

آج میں یہ سوچنے ہر مجبور بیٹھی ہوں کہ انسان نے صدیوں کا سفر طے کیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے زریعے ناممکنات کو ممکن کر لیا لیکن سچ پوچھیں تواتنی صدیوں کا سفر کرنے کے بعد بھی انسان جاہلیت سے نکل کربس جارحیت تک ہی پہنچا ہے۔ ابھی جانے اور کتنی صدیاں لگیں گی ہمیں انسانیت تک پہنچنے میں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *