تھر کی ہندو لڑکیاں اور مسلمان گڈریے

مستنصر حسین تارڑMHT

مجھے بہت سے وسوسے تھے، کچھ وہم دل گیر ہوتے تھے کہ بالآخر جب ہم ننگر پار کر پہنچیں گے تو شب بسری کا بندوبست جانے کیسا ہو۔۔۔ شاید کوئی تھری گھاس کا جھونپڑا جسے سندھی میں ’’چونرو‘‘ کہا جاتا ہے۔ کوئی بد بو دار کمرہ اور شاید ٹائلٹ کے لیے صحرا میں جا بیٹھنا پڑے۔ اس قدیم جینی گھر میں کھوسہ صاحب نے اپنا ذاتی بیڈ روم میرے لیے مخصوص کر رکھا تھا جہاں کیسی کیسی گھریلو آسائشیں تھیں۔
جی خوش ہو گیا۔۔۔
ایک مخملی پردوں میں پوشیدہ شاندار پلنگ اور ستھرے بیڈ کور۔۔۔ صوفے اور ایک وسیع سب سہولتوں والا واش روم۔۔۔ جی خوش ہو گیا۔
میں ننگر پارکر سے خوش ہو گیا۔
میں سفر کی تھکن اور صحرا کی ریت ایک شاور کے پانیوں میں بہا کر قدرے نوخیز ہو گیا۔۔۔ بیڈ روم سے متصل لوِنگ روم میں کھوسہ صاحب میرے منتظر تھے۔۔۔ اب میں اس خیال میں تھا کہ وہ ایک بڑا سارا پگڑ باندھے، بڑی بڑی خونخوار مونچھوں والے بوڑھے کھوسٹ ہوں گے پر وہ تو ایک خوش وجاہت اور خوش لباس قسم کے کھوسہ صاحب تھے جو کسی پرانی فلم کے ہیرو لگتے تھے۔۔۔ اُنہیں دیکھ کر پھر جی خوش ہو گیا۔
وہ صحرا کے اندر کسی گاؤں میں کوئی خاندانی جھگڑا نمٹانے کے بعد ایک اور گاؤں میں کسی شادی میں شریک ہونے کے بعد کشاں کشاں ہمارے لیے واپس آ گئے تھے۔۔۔ چائے کے ساتھ دیگر لوازمات کا دور چلا اور پھر کھوسہ کہنے لگے ’’تارڑ صاحب کھانا تیار ہے۔۔۔ کیا کھانے سے فارغ ہو کر آپ آرام کرنا پسند کریں گے۔۔۔ آپ یقیناًبے حد تھک گئے ہوں گے‘‘۔
’’میں غسل فرمانے کے بعد اتنا تازہ دم ہو چکا ہوں کہ آپ کے تھر کے اندر ایک غزال کی مانند چوکڑیاں بھر سکتا ہوں۔۔۔ قدرے عمر رسیدہ غزال کی مانند بس دو چار چوکڑیاں‘‘۔
جیسے میں خوش تھا ایسے کھوسہ بھی میرے اس بیان سے خوش ہو گئے ’’میری ایک درخواست ہے، ننگر پارکر سے کچھ دور صحرا کے اندر میرا ایک ڈیرہ ہے۔ ایک سادہ سا مہمان خانہ ہے۔۔۔ وہاں بھی آپ کے لیے کچھ بدوبست ہیں، مجھے خدمت کا موقع دیں۔ آپ اس ماحول کو پسند فرمائیں گے۔۔۔‘‘ اب ذرا کھوسہ صاحب کی معصومیت ملاحظہ فرمائیے کہ وہ ایک حافظ جی سے پوچھ رہے ہیں کہ حافظ جی آپ کو حلوہ پسند ہے۔۔۔ ہم تو حافظ ہی اس لیے ہوئے تھے کہ حلوہ کھانے کو ملے گا۔۔۔ ننگر پارکر کے صحرا کے اندر، اُس شاندار ریتلے ویرانے کے درمیان کہیں آج کی رات۔۔۔ کون کافر انکار کر سکتا تھا۔
کھوسہ صاحب کی لینڈ کروزر شب کے سناٹے میں چپ صحرا کے اندر چلی جا رہی تھی اور اُس کے عقب میں جو سرخ روشنیاں بریکوں کے لگنے سے جلتی بجھتی تھیں، دیدہ دل کی پراڈو ان پر آنکھیں رکھتی اس کے تعاقب میں چلی جاتی تھی۔
دیکھا، میں نے اپنے دل سے کہا، تم سے کہا تھا ناں کہ ذرا ہمت کرو۔۔۔ بے شک تمہاری دھڑکن اب بے ربط ہوتی ہے کسی بھی لمحے رُک سکتی ہے لیکن ذرا ہمت کرو تمہیں انعام ملیں گے۔۔۔ دیکھا، میں نے اپنے بدن سے کہا، تم کہتے تھے ناں کہ تم میں سکت نہیں رہی، مجھے مت طویل مسافتوں کے لیے مجبور کرو اور میں نے کہا تھا، گھر سے نکلو، چاہے ایک اپاہج کی مانند گھسٹتے ہوئے نکلو، تمہیں انعام ملیں گے۔
اب اے دل کی دھڑکن اور خزاں رسیدہ بدن دیکھ، انعام مل رہا ہے۔۔۔ صحرائے تھرپار کر کی رات ہے۔۔۔ آس پاس ویرانیاں دم بخود ہیں، ریت کے ٹیلے چپ ہیں اور خار دار جھاڑیاں ایک سناٹے میں ہیں اور اے دل اور اے بدن یہی تو انعام ہے کہ صحرا کی رات میں ہم کسی اجنبی مقام کی جانب چلے جاتے ہیں۔۔۔ پراڈو کی ونڈ سکرین میں سے ریت اڑاتے ایک لینڈ کروزر کی عقبی روشنیاں نظر آ رہی ہیں اور ہم اُن کا تعاقب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جانے کہاں چلے جا رہے ہیں۔۔۔ یہی تو انعام ہے۔۔۔ معلوم سے نامعلوم تک کا سفر۔۔۔ جیسے دم نکلے تو رُوح کا معلوم سے نامعلوم تک کا سفر۔۔۔
بائیں جانب صحراکے گھپ اندھیروں میں کچھ روشنیاں ظاہر ہوئیں۔ ہم ایک چار دیواری کے اندر داخل ہوئے، یہ وہ مہمان خانہ تھا جس کا وعدہ کھوسہ صاحب نے ہم سے کیا تھا اور اس کے آگے چار دیواری کے اندر جو ایک وسیع احاطہ تھا وہاں ایک الاؤ کب کا روشن ہو چکا بھڑکتا تھا اور اُس میں سے جو چنگاریاں پھوٹتی تھیں وہ صحرا کے تاریک آسمان کو اُٹھتی پھل جھڑیوں کی خانہ چھوٹتی تھیں۔
الاؤ کے گرد آرام دہ کرسیاں سجی تھیں اور اُن کے گرد دو تین تاریکی میں روپوش ہیولے منڈلاتے تھے۔۔۔ جو ہر نوعیت کے کھانے پینے کے بندوبست نہایت خاموشی سے کرتے پھرتے تھے۔
عجب صحراؤں کے بھید میں اترتی شب تھی۔
منیر نیازی نے کہا تھا ناں کہ۔۔۔ جس کو دیکھا خمار میں دیکھا، یہ کرشمہ بہار میں دیکھا تو میں نے یہ کرشمہ اُس شب ننگر پارکر کے صحرا کے فسوں میں دیکھا کہ سب کو دیکھا خمار میں دیکھا۔
دیدہ دل کی شکل پر الاؤ کی روشنی بھڑکتی تھی اور وہ واقعی موہنجو ڈارو کا ڈاڑھی والا پروہت دکھائی دے رہا تھا، ہم کیسے نصیب والے تھے کہ وہ اپنی نرتکیوں اور دیو داسیوں اور موہنجو کی ناریاں چھوڑ کر پانچ ہزار برس کا سفر طے کر کے ہمارا ڈرائیور ہو گیا تھا۔
جمیل عباسی کا چہرہ چنگاریوں کے چھوٹنے سے انار ہوتا تھا۔ گمان ہوتا تھا کہ وہ بھی دراصل موہنجو کے پروہت کا ایک چیلا ہے جو اُس کے ساتھ چلا آیا ہے۔
کامران ایک ہر کو لیس کی مانند بہتر تصویر کے زاویے کے لیے صحرا میں بھٹکتا تھا۔
اور اس صحرا کے درمیان میں بھڑکتے الاؤ کی روشنی میں، میں کیا دکھائی دیتا تھا۔ یہ میں کیا جانوں، وہ جانیں جو مجھے دیکھتے تھے کہ میں تو صحرا کے خمار کے کرشمے میں مخمور تھا۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *