460 بلین روپے کا سوال

" نعمان احمد "

کئی سٹیک ہولڈرز کے لیے سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاؤن کی 460 بلین روپے کی آفر کو قبول کرنا ایک ریلیف اور مدد ثابت ہوا ہے۔اس میگا سکیم اور اس سے بڑے دوسرے پراجئکٹس کے لیے جو طریقہ استعمال کیا گیا تھا سے کو دیکھتے ہوئے اس کے مالک اس فیصلے کو ایک فتح کے طور پر دیکھتے ہیں ۔

حکام کے ساتھ مل کر ریاستی زمین کو ڈسپوز کرنے کے قابل بنانا، ریٹائرڈ لیکن با اثر لوگوں کو بھرتی کرنا، متوسط طبقے کے لوگوں  کو تسلی دے کر عوام کی حمایت برقرار رکھنا ،اسٹیٹ ایجنٹس کی شکل میں اور ان کے درمیان جا کر ایک کمرشل سٹیک ہولڈر فورس کو پروان چڑھانا، اور ترقی کو ایک ایسی سطح تک چڑھانا جو بغیر محنت کے موثر طور پر ناقدین کو خاموش کر دے، سب سے بڑی حکمت عملیاں تھیں۔

یہ بے مثال واقعہ تھا  جس میں ایک بڑے فراڈ کو قانونی شکل دے دی گئی لیکن پھر بھی بہت سے سوالات ایسے ہیں جو جواب کے متقاضی ہیں۔

زیر بحث زمین غریب لوگوں کے لیے گھروں کی فراہمی کے لیے استعمال کی جانی تھی۔غریب لوگوں کی مدد کے لیے  یہ فارمیٹ سب سے زیادہ قابل عمل اور فائدہ مند نظر آتا ہے  جس میں درخواستوں، کمپیوٹر بیلٹنگ اور الاٹمنٹ کی مشقت سے عوام بچے رہتے تھے۔  زمیں کے 60، 80 اور 120 مربع گز کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے  جس کا پلان  متعلقہ محکمہ کے لینڈ سب ڈویژن نے تیار کیا ہے۔ کم سے کم انفراسٹرکچر، پانی کی سہولت  اور ٹرانسپورٹیشن کی سہولت  فراہم کے زمین کو افورڈیبل بنایا گیا۔

عام لوگ جو اس سکیم کی سہولت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سازو سامان کے ساتھ  ریسپشن ایریا میں رہنا شروع کر دیں  تا کہ یہ ثابت ہو کہ ان کو کی ضرورت کس حد تک ہے ۔ پھر ان کو ایک طے شدہ پلاٹ میں منتقل کیا جائے گا  اور وہ اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے تعمیر شروع کر سکیں گے ۔ انہیں مختلف اداروں کی طرف سے تکنیکی اور معاشی رہنمائی  بھی فراہم  کی  جائے گی۔

نتیجتا، شہری غریب اور کم آمدنی کے حامل لوگ قیاس آرائیوں، تاخیر اور مہنگائی کے جھانسے میں آئے بغیر ہاؤسنگ سے مستفید ہو تے ہیں۔  یہ ماڈل، جو حیدر آباد میں1980 کی دہائی میں پہلی بار متعارف ہوا اور پھر اس میں بہتری آتی گئی ، دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے  اور اس کے فائدہ مند ہونے کی وجہ سے اسے کامیابی سے کراچی، غارو، لاہور، پشاور وغیرہ میں  اپنایا گیا۔ اگرچہ اس میں کسی طرح کی کوئی سبسڈی نہیں ہے، لیکن ماڈل کا یہ تقاضا ہے کہ زمین کی مالک ایجنسی  ہی زمین مختص کرے۔  زمین کا ایک بڑا حصہ اب میگا ایجنٹوں کےقبضہ میں دیکھ کر یہ  گمان ہونے لگتا ہے ہے کہ کبھی ایسا ممکن بھی ہو گا کہ غریب لوگ سستی رہائش کی سہولت سے فیضیاب ہو سکیں گے۔

عام طور پر، جب منافع کے کسی ذاتی مقصد کے لیے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، عدلیہ سرکاری اراضی پر قبضے کو روکنے کے لیے اچھل کر عمل میں آئی۔ کراچی کی لائنز ایریا میں کھیل کے میدان میں 2009 میں ایک سپر سٹور کی تعمیر اس کی ایک مثال ہے۔ جیسے کہ سپریم کورٹ کا معمول ہے، اس عمارت کو گرانے کا حکم جاری کیا گیا  اور زمین اصل مقصد کے لیے مختص کر دی گئی۔ ریویو پٹیشنز کے باوجود  معزز عدالت نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔

تاہم، اگر لینڈ مینیجمنٹ میں بد کرداری بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے، اور ہزاروں دوستوں اور خفیہ ایجنٹوں کی طرف سے اس کی حمایت کی جاتی ہے، تو کیا قانونی نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے؟ در اصل یہ  فیصلہ بہت سے چھوٹے رئیل اسٹیٹ  سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ شہہ دیتا ہے کہ وہ بھی ملک ریاض کی طرح کا رویہ اختیار کریں ۔ ایسا کرنے سے زمین کا حصول غریب عوام کے لیے نا ممکن ہو جائے گا ، خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے جن کے پاس کوئی چھت نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہاؤسنگ کے لیے مقامی اور شہری زمین کا حصول ناممکن ہو جائے گا ۔

اس کی موجودہ قیمت پر، جس مجموعے کی پیشکش بحریہ ٹاؤن کی طرف سے کی گئی وہ آنے والے متوقع بجٹ کے پبلک ڈویلپمنٹ پروگرام کا 68 فیصد ہو گا۔ اس نمبر سے کئی نتائج برآمد کیے جا سکتے ہیں، جس میں سے کم سے کم یہ ہے کہ کچھ افراد اور تاجر ایسے ہیں جن کی معاشی سطح قومی ڈویلپمنٹ بجٹ کے برابر ہے۔ لیکن، کسی طرح، اس دولت کا خفیہ رہنا  ان دولت مند لوگوں کو ٹیکس سے بچاے رکھتا ہے۔

عدالت نے ابھی ان  تمام پیشکشوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے  جن  کے تحت یہ رقم جمع کروائی جائے گی۔ اگر یہ فیصلہ اسی حکومتی گروہ کے پاس جاتا ہے جس نے اس ریئل اسٹیٹ سکیم کو حقیقت کی شکل دی، تو یہ ان کے لیے ایک بڑی فتح ہو گی۔

ایک آپشن یہ ہے کہ شہری غربا کے لیے انڈومنٹ فنڈ  قائم کر کے انہیں  ہاؤسنگ کی سہولت فراہم کی جائے ، وہی  شہری آبادی  جو اس زمین کے اصل مالک تھے اور پھر یہ واقعہ ہو گیا۔  اس  فنڈ کو یہ خاصیت  حاصل ہو کہ  اس کے ذریعے کم قیمت میں مکانات  کی فراہمی بہترین طریقے سے شہریوں کو مہیا کی جائے۔

ہاوسنگ سیکٹر میں تجربہ رکھنے والے ایک دیانتدار اور قابل بھروسہ  خود مختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نگرانی میں ایک ادارہ قائم  کیا جانا چاہیے جس زمین حاصل کرے اور اس سے متعلقہ تمام پراجیکٹس  پر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے۔  اسے مختلف  مالی  آپشنز کے ذریعے  اپنی کیپٹیل بیس کو مضبوط کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہییے۔ آخر کار، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ  غریب لوگوں کو اچھے گھروں کی فراہمی  یقینی بنائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *