’جانتے نہیں میں کون ہوں؟‘

ایک صبح ٹی وی کھولا تو ایک بھولا بسرا مصرعہ یاد آ گیا۔ لگا کہ ہم کچھ حرکت تیز تر اور سفر آہستہ والی صورت حال کا شکار ہیں۔ نواز شریف جیل سے چھ ہفتے کی میڈیکل چھٹی پر باہر آ رہے تھے، بلاول بھٹو ٹرین پر سوار ہو کر لاڑکانہ جا رہے تھے احتجاج کرنے، شیخ رشید ٹی وی پر کسی تعلیمی ادارے سے خطاب کر رہے تھے اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ سمارٹ فونوں پر پابندی لگا دیں۔

اس کے بعد بچے کو لے کر حجام کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ وہاں زیادہ تر لوگ فواد چوہدری کے دیوانے ہیں اور ابو مارچ پر تبصرے کر رہے ہیں۔ بچے کو ہیئر کٹ پسند آ گیا اور میں نے خوش ہو کر حجام کی دکان کے سیاسی تجزیے ٹھنڈے دل سے سنے اور دل کو تسلی دی کہ عظیم قومیں ایسے ہی بنتی ہیں۔

شام کو ٹوئٹر کھولا تو اس قوم کے عظیم سپوت، کم از کم کراچی کے عظیم سپوت اور کبھی کبھی دھانسو صحافت کرنے والے فہیم زمان کچھ پولیس والوں کو ایسی گالیاں دے رہے تھے جو عموماً بچوں کے سامنے نہیں دی جاتیں۔

نوے کی دہائی میں فہیم زمان کراچی کے دو دفعہ ایڈمنسٹریٹر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کراچی کو نوجوان قیادت دینے اور ایم کیو ایم کا دف مارنے کے لیے میئر کا عہدہ ختم کر کے سارے اختیارات فہیم زمان کو دے دیے تھے۔

فہیم زمان اپنے زمانے میں متحرک مانے جاتے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ بارش میں انھیں لمبے بوٹ پہن کر گلیوں میں پھرتے دیکھا تھا۔ یہی فیشن بعد میں پنجاب کے خادم اعلیٰ نے اپنایا اور ہمارے محبوب صدر عارف علوی تو کراچی کی ایک بارش میں اتنے جوش میں آ گئے کہ لائف جیکٹ پہن کر کشتی میں چڑھ بیٹھے۔

راؤ انوار کی وجہ سے کراچی پولیس بدنام ہے اور صحیح بدنام ہے لیکن جس ویڈیو میں فہیم زمان صاحب پولیس کی ماں بہن ایک کر رہے تھے وہ کچھ ماٹھے سے لگے، ’آپ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں‘ ٹائپ بات کر کے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔

فہیم زمان کی تسلی نہیں ہوئی اور وہ فون پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ابھی تمہارے آئی جی صاحب کو فون کرتا ہوں اور اسے بھی یہی گالیاں دیتا ہوں۔ وہ تو آئی جی صاحب کی قسمت اچھی تھی کہ انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔

کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ فہیم زمان صاحب کو رینجرز نے روکا ہوتا تو پھر وہ کس کو فون کر کے اپنی گالیاں دہراتے۔

جو لوگ فہیم زمان کو جانتے ہیں انھیں پتہ ہے کہ وہ مرنجان مرنج قسم کے آدمی ہیں۔ کبھی ان کو اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا۔ شام کو ایک ٹی وی پروگرام میں انھوں نے پولیس والوں سے، اپنے گھر والوں سے، شہر والوں سے معافی بھی مانگی لیکن اس بات پر مصر رہے کہ ان کا غصہ بجا تھا، اظہار کا طریقہ غلط۔۔

لیکن میری سوئی اس بات پر اٹکی رہی کہ جب وہ پولیس والوں سے کہہ رہے تھے کہ میں کراچی کا دو دفعہ ایڈمنسٹریٹر رہا ہوں، مجھے نہیں پہچانتےتو تم کراچی میں (ایک بڑی سی گالی) پھر کس کو پہچانتے ہو؟

پولیس والے اگر اتنے سہمے نہ ہوتے تو شاید کہتے کہ جب آپ ایڈمنسٹریٹر تھے اس وقت تو ہم پرائمری سکول کے طالب علم تھے اور سندھ پولیس میں بھرتی ہو کر آپ سے گالیاں کھانے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔

کراچی

بات یہ نہیں کہ کراچی کے لوگ احسان فراموش ہیں اور فہیم زمان کے احسانات بھول گئے لیکن زیادہ تر لوگ اس وقت کراچی میں یا اس دنیا میں موجود ہی نہیں تھے۔ جب آپ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر تھے تو شہر کی آبادی نصف سے بھی کم تھی۔

شہر میں ایک ہی اوور ہیڈ برج تھا جس کی وجہ سے پل کے اُس پار والی کلاس ڈویژن وجود میں آئی تھی۔

الطاف بھائی ون ٹو تھری کہتے تھے تو پورا شہر خاموش ہو جاتا تھا۔ کسی شہری منصوبہ ساز نے نہیں سوچا تھا کہ اس شہر کو ڈیفنس فیز 8 کی ضرورت ہے۔

اُس وقت تو ریگل چوک پر ایدھی جھولی پھیلا کر کھڑا ہو جاتا تھا، جب تھر سے آئی ہوئی عورتیں ٹریفک کے اشاروں پر کھڑی ہو کر رسالہ تکبیر بیچا کرتی تھیں، جب پرانی سبزی منڈی ہی واحد سبزی منڈی تھی اور بچوں کا عسکری پارک نہیں بنا تھا، جب عبداللہ شاہ غازی کے مزار کو ایک حویلی نما عمارت میں قید نہیں کیا گیا تھا۔

اتنا وقت گزر گیا، بیچارے پولیس والے کیسے پہچانتے۔

اور اگرچہ ’جانتے نہیں میں کون ہوں‘ ہمارا قومی نعرہ ہے لیکن یہ شاہد آفریدی کہے تو سمجھ میں آتا ہے، شہر کے سابق خادمین کے منہ پر نہیں جچتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *