سی سیکشن سالانہ تین لاکھ خواتین کی ہلاکت کی ’وجہ‘

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تقریباً تین لاکھ خواتین سی سیکشن کے نتیجے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

برطانوی سائنسی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے لیے کم اور درمیانی آمدن والے 67 ممالک سے ایک کروڑ بیس لاکھ حاملہ خواتین کے ڈیٹا کی جانچ کی گئی جس کے مطابق ہر ایک ہزار سی سیکشنز میں تقریبا آٹھ خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔

ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد صحرائے افریقہ کے زیریں علاقوں سے ہے جہاں فی ہزار دس خواتین سی سیکشن کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں۔

کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں میں ایک ہزار میں سے تقریباً 57 بچے مردہ حالت میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ صحرائے افریقہ کے زیریں علاقوں میں یہ تعداد 82 ہے۔

اس تحقیق کے مطابق صحرائے افریقہ کے زیریں علاقوں میں زچگی کے دوران خواتین کی ہلاکت کی تعداد امیر ممالک کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ ہے۔ اس کی وجہ زچگی کے دوران میسر وسائل میں کمی اور اس میں ہو جانے والی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔

حاملہ خواتین

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کو اس مسئلے پر کی جانے والی سب سے وسیع ریسرچ کہا جا رہا ہے۔ اس تحقیق میں متاثرہ ممالک کی خواتین پر تربیت یافتہ میڈیکل اسٹاف تک رسائی پر زور ڈالا گیا ہے۔

محققین کے مطابق اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سی سیکشن سے ہونے والی اموات کا خدشہ کہیں زیادہ ہے۔

اس عام طریقہ کار کو اکثر ماؤں اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. لیکن بہت سے علاقوں میں خاص طور پر صحرائے افریقہ کے زیریں علاقوں میں یہ عمل جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔

اس خطے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد برطانیہ جیسے امیر ممالک سے سو گنا زیادہ ہے۔ اور 10 فیصد بچے سی سیکشن کے دوران یا اس کے فوراً بعد ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔

نومولود

سی سیکشن کیا ہے؟

سینٹرل پارک میڈیکل کالج کی پروفیسر ڈاکٹر طیبہ مجید کے مطابق سی سیکشن بچے کی پیدائش کا ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے بچے کو آپریشن کے ذریعے پیٹ سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں حاملہ خاتون کے پیٹ کے نچلے حصے اور بچہ دانی میں کٹ لگا کر بغیر کسی درد یا تکلیف کے بچے کو باہر نکال لیا جاتا ہے۔

یہ عمل دراصل ایسے کیسز کے لیے بنایا گیا تھا جن میں حمل کا وقت مکمل ہو چکا ہو اور اسے آگے بڑھانا ماں یا بچے یا دونوں کی زندگی کے لیے خطرناک ہو۔

پاکستان میں سی سیکشن کی صورتحال کیا ہے؟

پاکستان ڈیمو گرافکس اور ہیلتھ سرویز کے مطابق سنہ 2013-1990 کے دوران سی سیکشن کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 91-1990 کے دوران سی سیکشن کے ذریعے ڈلیوری کی شرح 2.7 فیصد سے بڑھ کر 13-2012 میں 15.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ سروے کے مطابق دیہی خواتین کی 11.5 فیصد کے مقابلے 25.6 شہری خواتین سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دیتی ہیں۔

نومولود

ڈاکٹر طیبہ مجید نے بی بی سی اردو کی ثنا آصف کو بتایا کہ پاکستان میں گذشتہ 20 برسوں میں سی سیکشن کے بڑھتے ہوئے اس رحجان کی وجہ صحت کے حوالے سے کم علمی، ملک میں پیشہ ورانہ میڈیکل اسٹاف کی کمی اور طب کے شعبے کی نگرانی کے لیے کسی مؤثر نظام کی عدم موجودگی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں اکثر خواتین نارمل ڈلیوری میں ہونے والے درد کے خوف اور لوگوں کی سنی سنائی باتوں میں آکر سی سیکشن کا مطالبہ کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کچھ ڈاکٹر بھی پیسوں کے لالچ میں آکر مریض کا سی سیکشن کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر طیبہ نے مزید بتایا کہ دراصل یہ ایک مافیا ہے جو سی سیکشن کو کاروبار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بہت چھوٹی چھوٹی جگہوں پر کلینکس کھول کر اور سی سیکشن کی تمام ترپیچیدگیوں کو نظر انداز کر کے یہ عمل سرانجام دیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *