پرانے اور نئے لاہور کی ایک جھلک

یہ تصاویر جوہر ٹاؤن لاہور ڈی بلاک کی ہیں ۔ تصویر میی آپ فیملی اسپتال دیکھ رہے ہیں ۔ اس سے ملحق یعنی بالکل ساتھ کی عمارتوں میں مصعب پبلک اسکول، لاہور گرائمر سکول اور چند قدم پر بحریہ یونیورسٹی اور دیگر اہم پبلک عمارتیں ہیں ۔ مصعب پبلک اسکول جہاں میرے بچے پڑھتے ہیں اور جس کی وجہ سے میں وہاں رہنے پر مجبور ہوں ، کے سامنے پرانے لاہور میں کئی برسوں تک ا یل ڈے اے کے" تعاون " سے پکھی واسوں کی بستی آباد تھی ، جس سے بے پناہ غلاظت پیدا ہوتی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کوڑے کو وہاں ڈمپ کرکے اس سے کچرا بیچتے تھے۔ پاکستان کے کرپٹ ترین صوبے کے نااہل ترین ( جہانگیر ترین نہیں ) وزیر اعلیٰ شہباز غیر شریف نے وہاں ایک بڑا پارک اور شاپنگ مال

تعمیر کرنا شروع کیا۔ اور کئی برسوں کے اہم مسءلے کو حل کرا دیا۔ عمارت جب اتنے فیصد ہی مکمل ہوئی تھی کی جتنے فیصد اورنج ٹرین کی ، اور پاکستان نیا ہو گیا۔ صوبے پر ہومیو پیتھک وزیر اعلیٰ عثمان بزدل اور معاف کیجئے گا بزدار کا پھریرا لہرانے لگا۔ لاہوریوں نے الیکشن میں کیونکہ پیچھے مڑ کر دیکھا تھا اس لیے پتھر کے ہو گئے۔ اور اس وقت سے پتھر کے دور میں داخل ہونے کا عمل جاری ہے۔ اورنج ٹرین کی طرح یہ پارک اور عمار بھی اپنے سازوسامان کی طرح گل سر رہی ہے۔ 

اسپتال اور سکولوں کے بیچوں بیچ غلاظت کے ان ڈھیروں کی ایک وجہ کچھ کم سواد اور کینہ پرور یہ بتاتے ہیں کہ یہ ان بھینسوں کا گوبر مبارک ہے جنھوں نے اپنے چودھری کے کہنے پر نۓ پاکستان کو ووٹ دیا تھا۔ اس لیے وہ اپنی بھینسوں ، کٹوں ، کتوں ، گھوڑوں ، گدھوں اور پتا نہیں کیا کیا سمیت عین لاہور میں آباد ہو چکے ہیں ۔اس لیے ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بس پولیس نے ایک بورڈ اتمام حجت کے لیے لگا دیا ہے کہ یہاں غلاظت پھینکنا جرم ہے اور اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔۔۔ تصوہر میں آپ اس بورڈ کا دیدار کر سکتے ہیں ۔ 

لاہور کی وہ آبادیاں جہاں کی صفائی ستھرائی وہاں کی سوسائٹیاں کرتی ہیں مثلاً ماڈل ٹاؤن ، ڈیفنس وغیرہ وہاں ابھی پرانے پاکستان جیسے ہی حالات ہیں ۔ باقی جوہر ٹاؤن جس طرح آٹھ مہینوں میں " جوہڑ ٹاؤن" میں بدل رہا ہے اسی طرح باقی لاہور بھی حسب توفیق " نیا پاکستان" بن رہا

ہے ۔ تو دوستو سب آنکھیں بند کرکے ، بازو اوپر کر کے ، کولہے مٹکاتے ہوئے نعرہ بلند کریں :

نیا پاکستان ۔۔۔۔۔۔ زندہ باد

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *