"اعلی تعلیم یافتہ" قیدی کا چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام کھلا خط...،

" شاہد نسیم چوہدری "
ڈسٹرکٹ جیل لاہور کی بیرک نمبر5 اور چکی نمبر 18 میں قید سرگودہا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب آصف سعید کھوسہ کے نام کھلا خط لکھا ہے،جس میں ہوشربا انکشافات کے ساتھ انصاف کی اپیل کی گئی ہے،واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری ،سابق وائس چانسلر۔ایم اے عربی ،ایم اے فلسفہ،پی ایچ ڈی جامعہ ام القری مکہ المکرمہ،گلاسگو یونیورسٹی برطانیہ،فل برائٹ فیلو،یونیورسٹی آف کولو راڈو،یونیورسٹی آف ایریزونا(امریکہ) جیسی دنیا کی اعلی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہیں،اور آجکل 8 اکتوبر2018 سے نیب کے ہاتھوں misuse of authority کی مد میں ڈسٹرکٹ جیل لاہور کی بیرک نمبر5 کے مسکن ہیں،انہوں نے چیف جسٹس صاحب سپریم کورٹ کے نام جو عرض داشت کی ہے وہ جوں کی توں بغیر کسی اضافے کے رقم کی گئی ہے،
واجب الاحترام جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان، آصف سعید کھوسہ صاحب
السلام وعلیکم و رحمت اللہ علیہ،بہت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ زیر دستخطی پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری سرگودہا یونیورسٹی میں 2007 سے لیکر 2015 تک (آٹھ سال)وائس چانسلر تعینات رہا،اس دوران PMLN کی ایک ایم پی اے ڈاکٹر نادیہ عزیز صاحبہ ممبر سنڈیکیٹ یونیورسٹی(جو آجکل PTI میں ہیں)کے حسب خواہش 53 لاکھ کا جعلی بل پاس نہ کرنے کی پاداش میں تحریک استحقاق،CMIT اور سپیشل آڈٹ کا سامنا کیا،بحمداللہ میرے خلاف کبھی کوئی بدعنوانی ثابت نہ ہو سکی،بحثیت وائس چانسلر میری دوسری ٹرم 11 اکتوبر2015 کو مکمل ہوئی اور میں لاہور آگیا،محترمہ نادیہ صاحبہ 2014 سے مختلف ذرائع سے NABنیب کو میرے خلاف اقدام کیلئے کہتی رہیں،انجام کار مارچ2018 میں نیب کی جانب سے انکوائری کے احکامات ہمیں اخبارات کے ذریعے پتہ چلے...،بڑا الزام یہی ہے کہ میں نے پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپPPP)) کے تحت پانچ سب کیمپس کیوں قائم کئے،اس سلسلے میں عرض ہے کہ سنڈیکیٹ نے یونیورسٹی ایکٹ کی روشنی میں ایک پالیسی وضع کر کے حکومت پنجاب کی vetting کے بعدیہ کیمپس قائم کئے،جنہوں نے 2012 سے2016 تک نہایت تسلی بخش انداذ میںaffordable education کو غریب بچوں کے دروازے تک پہنچایا،واضح رہے ہمارے ان اداروں میں بالعموم سمیسٹر کی فیس 30 ہزار روپے سے کم تھی،جبکہ جملہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں انہی مضامین کی فیس 80 ہزار سے ایک لاکھ دس ہزار روپے وصول کرتی ہیں،میرے بعد نئے آنے والے وائس چانسلرڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب ہر کیمپس کے CEO کو بلا کر رقوم طلب کرتے رہے،اور یہ کہ وہ اقبالی بیان دیں کہ وہ سابق وائس چانسلر(مجھے)باقاعدہ رقوم دیا کرتے تھے،اس سلسلے میں سبھی CEOs کی ایک درخواست (بیان حلفی کے ساتھ)چانسلر/ گورنر پنجاب،چیف جسٹس پاکستان،اور چیئر مین نیب کو پیش کی گئی،جو ابھی تشنہء توجہ ہے،ان CEOs سے رقوم کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی پاداش میںیونیورسٹی انتظامیہ نے2017-18 میں سب کیمپسز کیلئے دشواریاں پیداکیں،اور کام،یاب ہونے والے طلباء و طالبات کے امتحانات کے بعدرزلٹ روکے،امتحانات پاس کرنے کے باوجود،رزلٹ کارڈ اورڈگریاں نہ ملنے پر 2018 میں طلباء وطالبات احتجاج کرتے رہے،طلباء کا احتجاج بے قابو ہونے پرسابق چیف جسٹس صاحب نے پانچ اکتوبر2018 کو اس کا از خود نوٹس لیا،تو نیب نے میرے یونیورسٹی چھوڑنے کے تین سال بعداحتجاج کو میرے ساتھ منسلک کرتے ہوئے میرے رجسٹرار بریگیڈیر (ر) راؤ جمیل اصغرSI(M) اور دو کیمپس کے ذمہ دارانکل چھ افراد کو ہتھکڑیاں لگا کرگرفتار کرلیا، جبکہ زیر دستخطی اکتوبر2015 میں اور بریگیڈیر (ر) راؤ جمیل اصغر جون2015 میں یو نیورسٹی چھوڑ چکے تھے،معاملہ یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ اور سب کیمپس کی انتظامیہ کے درمیان تھا،سب کیمپسز کے اجراء کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اور کرپشن کے الزامات میں مجھے اور رجسٹرار کو مورخہ 8 اکتوبر 2018 کو گرفتار کر لیا گیا،مورخہ 13 نومبر2018 کو ہماری درخواست برائے ضمانت لاہور ہائی کورٹ میں زیر غور آئی،اور اس لئے رد کر دی گئی کہ ابھی نیب نے چیف جسٹس صاحب کے ازخود نوٹس کا جواب نہیں دیا،ہم نے سپریم کورٹ میں23 دسمبر2018 کو ضمانت کیلئے د رخواست دی،جس کیلئے ابھی تک سات آٹھ پیشیاں ہو چکی ہیں،واضح رہے کہ میرے یا بریگیڈیر (ر)راؤ جمیل اصغرکے خلاف کسی سے رقوم وصول کرنے یا غیر قانونی سہولیات لینے کا کوئی الزام نہیں ہے، ہمیںmisuse of authority کے ملزم قرار دیا گیا ہے،اور یہ misuse بغیر مالی مفادات کے ہے،جناب چیف جسٹس صاحب !میرے اور میرے قرابت داروں کے مملوکہ اثاثے اور بنک بیلنس نیب کے سامنے ہیں،بایں ہمہ عمر کے 69 ویں سال نیب کے انکوائری افسران کا حد درجہ توہین آمیز رویہ اور نیب کے جج حضرات کابات تک نہ سننا میرے لئے سوہان روح ہے،میں گزشتہ کئی سال سے بلڈ پریشر اور دل کی غیر متوازن دھڑکن کا مریض ہوں،اور مارچ 2018 میں اپنی بابت:"کرپشن" کی میڈیا میں دل آزار خبروں کے بعد 16 کلو گرام وزن کھو چکا ہوں،آپ سے درخواست ہے کہ زیر دستخطی کوکم از کم ضمانت پر فوری طور پر رہا کرنے کیااحکامات جاری فرمائے جائیں،
نوٹ:1۔میری وائس چانسلر شپ کے دورانیے میںیونیورسٹی کی کارکردگی HEC کیرینکنگ سے معلوم کی جاسکتی ہے،اور میری پرسنل پروفائل کیلئے linkeden اور گوگل browse کر سکتے ہیں،
2۔کسی بھی وضاحت کیلئے بندہ کو طلب فرمائیں توعین انصاف ہوگا
تحریر:27 مارچ،2019،والسلام علیکم،محمد اکرم چوہدری )دستخط شدہ )سابق وائس چانسلر۔ایم اے عربی(PU )،ایم اے فلسفہ(GC,PU )،پی ایچ ڈی جامعہ ام القری مکہ المکرمہ،گلاسگو یونیورسٹی برطانیہ،فل برائٹ فیلو،یونیورسٹی آف کولو راڈو،یونیورسٹی آف ایریزونا(امریکہ)،اس خط میں کتنی حقیقت اور صداقت ہے،یہ تو اللہ اور ڈاکٹر صاحب ہی جانتے ہیں،لیکن سنڈیکیٹ کی ممبر ایم پی اے ڈاکٹر نادیہ عزیز بارے ڈاکٹر صاحب نے جو جعلی بل پاس کرانے بارے الزامات لگائے ہیں، وہ معمولی الزام نہیں، اداروں کواسکی مکمل چھان بین کرنی چاہیے،اور معاملے کی تہ تک پہنچنا چاہیے، مختلف ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلراکرم چوہدری کی وجہ شہرت بہت اچھی تھی، ان کا دور بھی اچھا تھا،طالب علموں اور سٹاف کے ساتھ برتاؤ بہت اچھا تھا،لیکن جو کوئی بھی غلط کام کرتا تھا،اسکو سزا ضرور دیتے تھے،اورڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے....،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *