ذیابیطس: کیا ادویات کی بڑھتی قیمتیوں کی وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے؟

رواں برس کے آغاز میں حکومت کی جانب سے چند ادویات کی قیمت میں نو سے 15 فیصد تک اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔

اس منظوری کے بعد سے ادویات کی قیمت میں اضافے کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور ادویہ ساز کمپنیوں پر یہ الزامات عائد کیے گئے کہ انھوں نے حکومتی نوٹیفیکیشن کی آڑ میں منظور شدہ اضافے سے کہیں زیادہ قیمتیں بڑھائی ہیں۔

جبکہ 400 کے قریب وہ ادویات جن کی قیمتیں کم کرنے کو کہا گیا تھا اس کے خلاف ان بڑی ادویہ ساز کمپنیوں نے عدالتوں سے حکمِ امتناعی حاصل کر کے پرانی قیمتیں تاحال بحال رکھی ہوئی ہیں۔ فارمیسی کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے اور اس کے بعد حکومتی ردِ عمل کے باعث کئی ادویات کی مارکیٹ میں مبینہ مصنوعی قلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ حکومتی وزرا کی بارہا یقین دہانیوں اور ادویہ ساز کمپنیوں کے خلاف 'کریک ڈاؤن' جیسے اعلانات بھی صورتحال میں بہتری کا باعث نہیں بن رہے ہیں جبکہ عوام اس صورتحال پر اپنا آرا کے اظہار کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔ سوموار کو پاکستان میں اس حوالے سے بنا ایک ٹرینڈ ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔

ذیابیطس اور ادویات

پاکستان میں تیزی سے پھیلتا ایک مرض ذیابیطس یا شوگر ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سنہ 2030 تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد اندازاً ایک کروڑ 38 لاکھ 53 ہزار ہو گی۔

ادویات میں ہونے والے حالیہ اضافے کی وجہ سے ذیابیطس کے مرض میں استعمال کی جانے والی بنیادی دوا انسولین کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔

امریکہ میں سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1997 سے سنہ 2017 کے درمیان امریکہ میں انسولین کی قیمت میں 1171 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ذیابیطس

پاکستان میں سنہ 2030 تک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد اندازاً ایک کروڑ 38 لاکھ 53 ہزار ہو گی

پاکستان میں اگرچہ انسولین کی قیمتیں اس قدر نہیں بڑھیں تاہم گذشتہ برسوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے اس کا تعین مشکل کام ہے۔

پاکستان ڈرگز لائیرز فورم کے صدر نور مہر کہتے ہیں کہ حالیہ اضافے سے دوسری ادویات کے علاوہ ذیابیطس اور بلند فشار خون کے امراض کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرگز ایکٹ 1976 کی شق آٹھ کے تحت تمام ادویات کی قیمتوں کا گزٹ نوٹیفیکیشن (سرکاری طور پر باضابطہ اندراج) ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے یہ جاننا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ کسی مخصوص دوا کی سرکاری طور پر متعین کی گئی قیمت ایک یا دو دہائی قبل کیا تھی اور گذشتہ برسوں میں اس میں کتنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ 18 سال سے فارمیسی کے شعبے سے وابستہ رفیق خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برسوں میں انسولین کی قیمت میں اضافے کا پتا چلانا مشکل کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مارکیٹ میں انسولین کے تین فارموے دستیاب ہیں جبکہ درجنوں کمپنیاں انھیں فارمولوں میں تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ مختلف ناموں اور قیمتوں سے انسولین فروخت کر رہی ہیں۔

ادویات

'زیادہ اندازہ لگانا مشکل ہے مگر سب سے سستی اور پاکستان میں زیادہ فروخت ہونے والی انسولین جو میں 10 برس قبل 280 روپے میں فروخت کرتا تھا وہ آج 645 روپے میں دستیاب ہے جبکہ مہنگی سے مہنگی انسولین 3597 روپے میں دستیاب ہے۔'

ان کے مطابق سستی انسولین وہ ہے جو پرانے ’مینول‘ طریقے سے ہر بار نئی سرنج کے ذریعے روزانہ کی بنیاد لگائی جاتی ہے بلکہ جدید انسولین جو اس وقت سب سے مہنگی ہے وہ ہفتے میں ایک بار لگائی جاتی ہے۔

ادویات میں ہونے والے حالیہ اضافے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'لگتا ہے حکومت نے پچھلے پانچ سال کی کسر ایک ہی دفعہ نکالی ہے۔'

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ایک عہدیدار کے مطابق حکومت نے قیمتوں کے حوالے سے نوٹس لے رکھا ہے اور جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بغیر حکومتی اجازت کے کیا گیا ہے وہ واپس لینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے نہ صرف چھاپے مارے گئے ہیں بلکہ ادویات ضبط بھی کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کا مسئلہ آئندہ چند روز میں حل ہو جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ زیادہ اضافہ جسے 200 سے 300 فیصد کہا جا رہا ہے وہ صرف چند ادویات پر ’ہارڈ شپ‘ بنیادوں پر کیا گیا اور اس کا تعلق حالیہ 9 سے 15 فیصد اضافے سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تپا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس ریگولر کیسیز کے علاوہ ’ہارڈ شپ‘ بنیادوں پر کیسیز آتے ہیں جن میں عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

قیمت کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے عہدیدار کے مطابق ڈالر کی قیمت، بین الاقوامی مارکیٹ میں ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمت، ادویات کو محفوظ کرنے اور ان کی ترسیل پر آنے والے اخراجات کسی بھی دوا کا تعین کرتے ہوئے مدِنظر رکھے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ادویات کے حالیہ اضافے کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور اس کے باعث ادویہ سازی کی صنعت کے بڑھتے اخراجات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کی ادویات میں اضآفے کی درخواستیں موصول ہوتی رہتی ہیں تاہم حکومت تمام پہلو سامنے رکھتے ہوئے اضافے کا فیصلہ کرتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *