سیاحوں کو ملک کی طرف راغب کرنے میں تین بڑی مشکلات

"اللہ تعالی نے پاکستان کو  صحراؤں، ساحلوں اور پہاڑوں کی خوبصورتی اور تنوع سے نوازا ہے اس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی ۔ " یہ بیان وزیر اعظم نے حال ہی میں منعقد ہونے والے پاکستان ٹورز سمٹ پر  جاری کیا۔ "تنوع اور خوبصورتی" جس کے بارے میں انہوں نے بات کی کو پاکستان حکومت کی طرف سے سیاحوں کو پاکستان کی راغب کرنے کے لیے رفتہ رفتہ ڈویلپ کیا جا رہا ہے تا کہ معیشت کو فروغ دیا جا سکے اور غربت کو ختم کیا جا سکے جو اربوں شہریوں کو متاثر کرتی ہے۔  اگر ملائشیا اور ترکی کے پاس اربوں ڈالر کی ٹورزم انڈسٹریاں ہو سکتی ہیں تو پاکستان کے پاس بھی ہو سکتی ہیں۔ آنے والے سیاح، خاص طور پر جو مغربی ممالک سے آتے ہیں، سیر پر آئیں گے اور پہاڑوں پر چڑھ کر اس خوبصورتی کا نظارہ کریں گے جو پاکستان کے کئی حصوں کی خاصیت ہے۔

یہ کم از کم  ہمارا ایک خواب  ضرور ہے۔ زیادہ تر تازہ ترین لانچ کیے گئے پروگرام  پالیسی سازوں کے ہاں زیر بحث ہیں لیکن یہ اقدامات  دنیا بھر سے سرمایہ کاری کو اپنی طرف راغب کرنے اور   پاکستان کی حالت بہترکرنے میں اہم قدم ثابت ہو ں گے۔  اس آئیڈیا کی سنجیدگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ای-ویزہ سکیم بھی شروع کی جا رہی ہے۔ ایک دوسری تقریر میں صدر علوی نے یاد دلایا کہ پاکستان "سیاحوں کے لیے جنت" ہے اور  دعوی کیا کہ سیاحوں  کی پاکستان تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے حکومت سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ای-ویزہ سکیم جو ویزہ کے عمل کو آن لائن کرنے جا رہی ہے، کے علاوہ آن ارائیول ویزہ سکیم بھی چین ، ترکی، یو کے اور یو اے ای جیسے ممالک کے لیے شروع کی گئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں اب وہ چیز حقیقت بننے والی ہے جس کا ذکر ٹیلی گراف کے ایک آرٹیکل میں کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا:  "The Next Best Thing in Tourism"

ان سب اقدامات اور تشہیر کے طریقوں کے بعد جس میں بہت سے مغربی سفید فارم سوشل میڈیا اشخاص نے بھی کردار ادا کیا ، نے ایک عجیب سی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ سب سے پہلے پاکستان کے بلاگرز نے  شکایت کی کہ انہیں سیاحوں کو پاکستان لانے کی اس مہم میں حصہ دار نہیں بنایا گیا۔ ان لوگوں کے بارے میں جن سے حکومت نے رابطہ کیا تھا ، ایک کو اس  وقت علیحدہ کیا گیا جب یہ معلوم ہوا کہ  وہ اس منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کی خواہش رکھتی ہیں۔  توقع کے مطابق انہوں نے معاملے کو سوشل میڈیا پر عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔  یہ واضح نہیں تھا کہ  آواز اٹھانے والوں میں سے لوگوں کو منتخب کیسے کیا گیا (صرف اتنا معلوم تھا کہ یہ بلاگرز تھے سفید فام تھے اور سفر کا شوق رکھتے تھے)۔

شہریت اور رنگت پر مسئلہ کے علاوہ بھی ٹورازم سمٹ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن کا شاید پاکستانی عوام اور سمٹ میں شامل لوگوں کو اندازہ بھی نہ ہو۔بات یہ ہے کہ اونچے پہاڑوں اور وادیوں کی قدرتی خوبصورتی مسافروں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کافی ہے۔ ابھی یہ کسی کے ساتھ ہوا نہیں ہے کہ  اسے معلوم پڑا ہو کہ یہ حقیقت غلط یا ناقص ہو ۔ وجہ کا تعلق اس ابتدائی سوال سے ہے کہ لوگ آخر سفر کا شوق کیوں رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے اس کا جواب تفریح کرنا، آرام کرنا  اورنئے تجربات سے مستفید ہونا ہے ۔

اس وقت، پاکستان ان تین میں سے ایک چیز کی پیشکش کر سکتا ہے: نئے تجربات کی صلاحیت۔ جو لوگ ترقی یافتہ ممالک سے آئیں گے ان کے لیے سفری مشکلات، لوڈ شیڈنگ ، پانی کی کمی وغیرہ جیسے نئے نئے مسائل نئے تجربات کی شکل اختیار کر لیں گے۔ پاکستان بلا شبہ نئے تجربات کے مواقع تو پیش کر سکتا ہے ، لیکن یہ تجربات پسند کرنے اور تفریح فراہم کرنے والوں ہوں اس بات کی گارنٹی نہیں ہے۔

پھر تفریح اور آرام کا مسئلہ ہے۔ ای-ویزہ سسٹم اور ویزہ آن ارائیول سکیم کے ساتھ بھی اور ٹور کمپنیوں اور سفر سے متعلق کاروباری کمپنیوں کے لیے سہولیات کے باوجود  پاکستان اس علاقے کے دوسرے ممالک کے مقابلے مین بہت پیچھے ہے۔  یہ اس لیے ہے کہ ٹورزم فرینڈلی ملک  وہ ہوتے ہیں جہاں آنے والے سیاحوں کو اپنی مرضی کے مطابق حرکات و سکنات کی مکمل آزادی ہو۔ ٹورزم معیشتیں عام طور پر وہ ہوتی ہین جنہیں اپنے اقدار کے تحفظ کا یقین ہوتا ہے اور وہ دوسرے معاشروں کے لوگوں پر اپنی اقدار تھونپنے سے گریز کرتی ہیں۔

یہ آخری پہلو پاکستان میں تقریبا نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر ایک ملک جہاں عورتوں کو روزمرہ کی بنیاد پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ہر کوئی اس مسئلے کو نظر انداز کر دیتا ہے،  ایسے ملک میں خواتین سیاحوں کو تحفظ کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ سیاح چھوٹے اور کھلے کپڑے پہن کر سیاحت سے لطف اندوز ہوتے ہوں کیونکہ انہیں اپنے ہی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے ڈریس پسند کرنے ہیں نہ کہ ملک کے حالات کو دیکھنا ہے۔ اسی طرح،  کچھ  لوگ شاید تفریح کے لیے الکوحل والے مشروبات پینا چاہتے ہوں اور چاہتے ہوں کہ ان پر کسی قسم کا مذہبی شکنجہ یا دباؤ نہ ہو۔ دونوں میں سے کوئی بھی، خواتین کا اپنی مرضی کے لباس میں گھومنا پھرنا، یا سیاحوں کا شراب پینا پاکستانیوں کے لیے قابل برداشت ہونا چاہیے۔

اس حقیقت میں حالات کی سچائی پوشیدہ ہے،  جس کی وجہ سے ملک کی خوبصورتی ہمارے لیے دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ پاکستان لوگوں کے کردار پر اپنی سخت اور پر اصرار رکاوٹوں کی وجہ سے سیاحوں کوآزادی  دینے کے لیے اتنا لچکدار نہیں ہے جو ملک کی خوبصورتی سے لطف اٹھانا چاہتے ہوں لیکن اس چیز پر عمل کرنے کو تیار نہ ہوں کہ پاکستان کی انتظامیہ کے مطابق کیا کرنا اور کیا کہنا ہے۔ تمام ویزہ اقدمات ا ور سوشل میڈیا شخصیات اور بلاگرز اس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ پاکستان سیاحوں پر اپنے فیصلے تھونپے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ رہنے دے سکتا ہے اور سیاحوں کو ان کی تفریحی سرگرمیوں کے مطابق سہولیات دینے کے قابل نہیں ہے ۔

پاکستان میں ٹورزم کو پروموٹ کرنے  سب سے زیادہ ضروری اس عادت کو ترک کرنا ہے جس کے  تحت لوگوں کو  ہماری اقدار پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اسے اپنے تفریح اور لطف کی تعریف سے ہٹ کر دوسرے ممالک کے انہی الفاظ کی تعریف کو اپنانا پڑے گا جہاں سے یہ سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے، پھر تمام اونچے پہاڑ اور سبز وادیاں اور شاندار کھانے دنیا کے سیاحوں کو اس کی طرف متوجہ نہیں کر سکتے جو 'لونلی پلانٹ ' کے مطابق  "جنوبی ایشیا کا مشکل بچہ"  قرار دیا گیا ہے۔ سیاحت کے ذریعے آنے والے  ڈالروں کے ملک میں آنے اور اسے غربت سے چھٹکارے کے لیے استعمال کرنے کی توقع سے پہلے ملک اور اس کے شہریوں کو خود کو بدلنا ہو گا۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *