دور جدید کے بہادر شاہ ظفر کون ؟‬

لکھنے والوں نے اس موضوع پر کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ ایسا ہی ہونا تھا۔ مگر اس واقعے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں۔ عمران خان اپنی سیاسی جماعت کو نظریاتی بنیاد پر لے کر چلے۔ ان کی اس جدوجہد میں بنیادی طور پر دو طرح کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو ان کی سوچ اور فکر کے ساتھ کھڑے ہوئے اور دوسرے وہ جو چڑھتے سورج کے پجاری تھے۔ اس میں شاید کسی کو اختلاف نہ ہو کہ اسد عمر کا تعلق پہلے گروہ کے ساتھ تھا۔ گویا یہ ان کے گھر کے لوگ تھے۔ یہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے تھے۔ ان کی صلاحیتوں کو عوامی سطح پر خود خان صاحب نے متعارف کرایا۔ عمران خان اپنی کابینہ کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جایزہ بھی لیتے رہے۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں وہ آج تک اپنی مرضی کرتے رہے ہوں گے اور انھوں نے اپنے اقدامات  کے حوالے سے عمران خان سے کوئی رہنمائی نہیں لی ہوگی۔ اس لیے یہ کسی صورت میں  مانا نہیں جا سکتا کہ اسد عمر کی صلاحیتوں کو جاننے اور ان کی  غیر تسلی بخش کاکردگی  میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ یہ بھی نہیں مانا جاسکتا کہ اسد عمر فارغ بیٹھے فواد چودھری کی طرح الٹے سیدھے بیان داغتے رہے ہوں گے۔ ان حقائق کے بعد یہ بھی ذہن میں رکھیں تحریک انصاف کی ٹاپ کی قیادت کو اس فیصلے کا کوئی علم نہیں تھا۔ ایک دن پہلے  فواد چودھری سمیت کوئی اس سے آگاہ نہیں تھا بلکہ وہ اس یقین کے ساتھ تھے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ اس کے بعد برطرفی اور ریشفلنگ دھماکا ہو گیا ۔ وہ بھی اس طرح کہ تحریک انصاف کی ٹاپ قیادت کی جگہ پرویز مشرف دور کے آزمودہ لوگ واپس آگئے۔ اب ذرا خان صاحب کی عوامی جلسے میں تقریر کو ذہن میں لا ئیں۔اس تقریر کا خلاصہ یہ ہے اصل چیز صرف اور صرف میں ہوں ۔ اگر یہ حکومت کچھ کر پائے گی تو یہ ان کی وجہ سے ہو گا اور ناکامی کی ساری زمہ داری ان کی جیب میں موجود کھوٹے سکوں کی وجہ سے ہوگا۔ لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آزمائے ہوئے یہ کارتوس دوبارہ  چل پڑیں گے۔
 کیا اپنی نظریاتی ٹیم کے اہم ترین لوگوں کو یوں سر عام ذلیل کرکے نکالا جاتا ہے ؟ کیا اپنے آپ کو درست اور اپنے سب سے قابل (آپ کی نظر میں ) کو یوں ناکام ثابت کرنا پرلے درجے کی خود غرضی نہیں ؟ کیا اپنے ان  وزراءاور رفقائے کار جن پر آپ بیسیوں دفعہ اظہار اعتماد کر چکے ہیں ، جلسہ عام میں ان کو تنبیہہ کرنا اس کے سوا کیا ہے آپ اپنی ساکھ بچانے کی خاطران کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں ؟ کیا اس سے یہ خوف جنم نہیں لے گا کہ کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ۔ کوئی کسی بھی وقت شکار ہو سکتا ہے۔کیا یہ رویہ  سیاسی عدم استحکام کو جنم نہیں دے گا؟
کیا آپ ایک گینگسٹر کی طرح حکومت چلانے کے قائل ہیں؟ آپ نے انھیں کسی کو ٹپکانے کا کہا اور وہ کام نہ ہوا تو آپ نے اسے ٹپکا دیا۔
یا صورتحال کچھ اور ہے ۔ جس کی تصویر یہ بنتی ہے کہ زرداری کی ٹیم کے سترہ لوگ آپ کی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں اور زرداری حکومت کیسی تھی، یہ آپ ہمیں خود بتا چکے ہیں۔  یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس  وقت حکومت کے بنیادی شعبوں میں آپ کا کوئی نظریاتی رفیق کار نہیں ۔ سب کے سب یا تو زرداری کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں یا پرویز مشرف کی ٹیم کا ۔ یہ صورتحال کیا یہ پیغام نہیں دے رہی کہ آپ سے فیصلے کوئی اور کرا رہا ہے اور آپ صرف اور صرف اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ اگلے آٹھ مہینوں کے بعد اصل فیصلہ کرنے والے سامنے آ جائیں گے ۔ اور آپ کو بس یہ فیصلہ  کرنا ہوگا کہ آپ ٹیپو سلطان بنیں گے یا بہادرشاہ ظفر۔ آپ نے جو کچھ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ کیا اور جو کچھ عن قریب ہونے جا رہا ہے اس سے آپ بہادر شاہ ظفر ہی بن پائیں گے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو پنجاب کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر چودھری نثار علی یا اسی طرز کے کسی اور چہرے کو روک کر دکھائیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *