ڈاکٹر نے بچے کی جنس کے خانے میں سوالیہ نشان لگا دیا

جب ڈاکٹروں نے کیتھرن کے نومولود بچے کے پیدائش کے موقع پر بنائے جانے والے کاغذات میں جنس کے آگے ایک سوالیہ نشان لگایا تو انھوں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ کر دیا اور ان کے اس مقدمے نے کینیا کی ریاست کو مجبور کر دیا کہ وہ انٹرسیکس بچوں کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرے۔

یہ 2009 کا سال ہے۔

کیتھرن (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) کے بچے کی عمر پانچ دن ہو چکی ہے۔ انھوں نے اسے اپنے گھر میں جنم دیا جہاں وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہتی تھیں۔

لیکن کچھ گڑبڑ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے بچے کے جسم کے ساتھ کوئی مسئلہ تھا۔‘

کیتھرن نے اپنی ہمسائی کو بلایا تاکہ وہ بچے کو دیکھ کر کچھ بتائے۔ انھوں نے بچے کے جنسی عضو کی طرف اشارہ کیا، ہمسائی دیکھنے کے لیے جھکی اور خاموشی سے دیکھتی رہی۔

پھر اس نے کیتھرن سے کہا کہ وہ فکر نہ کرے بچہ ٹھیک ہو جائے گا لیکن کیتھرن کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔

انھوں نے مزید رائے لینے کے لیے اپنی کزن کو بلایا۔ ’میری کزن نے مجھ سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ بچے کو دیکھو۔‘

کیتھرن کی کزن نے ان سے اتفاق کیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ بچے کو لے کر مقامی ہسپتال جائیں۔

اگلے ہی دن کیتھرن اور ان کے خاوند مقامی ڈاکٹر کے پاس گئے جس نے انھیں فوراً ملک کے سب سے بڑے ہسپتال کینیاٹا نیشنل ہاسپٹل جانے کو کہا۔

ہسپتال میں ہونے والی تشخیص نے اس جوڑے کو حیران کر دیا۔ کیتھرن اور ان کے خاوند کو بتایا گیا کہ ان کے بچے کی جنس واضح نہیں اور اس میں مرد اور عورت دونوں کے جینیٹیلیا موجود ہیں۔

بچے کے شناختی کاغذات جن میں اس کی جنس لکھی جاتی ہے، اس میں ڈاکٹر نے جنس کے خانے میں ایک سوالیہ نشان لگا دیا۔

کیتھرن کہتی ہیں کہ ’کینیاٹا سے ڈاکٹروں کی رپورٹ لے کر واپس آنے کے بعد میرے خاوند مجھ سے دور ہونا شروع ہو گئے۔ انھوں نے کھانے کے لیے مجھے پیسے دینا بند کر دیے۔‘

ان کے درمیان لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ کیتھرن کے خاوند نے ان پر چیختے تھے اور کہتے تھے کہ ان کے خاندان میں کبھی ایسا بچہ نہیں پیدا ہوا جس کے پاس مرد اور عورت دونوں کے اعضائے مخصوصہ ہوں لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ بچہ ان کا ہو۔

’وہ مجھے گالیاں دیتے تھے، مجھے جسم فروش کہتے تھے۔‘

کیتھرن بتاتی ہیں ’میں نے ان سے پوچھا کہ اگر یہ بچہ ان کا نہیں ہے تو یہ کہاں سے آیا ہے، خدا ہی ہے جو ہر چیز کے بارے میں منصوبہ بناتا ہے۔‘

ان کے خاوند نے بچے کو دوبارہ ہسپتال لے کر جانے سے انکار کر دیا۔ اس وقت تک کیتھرن کو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ انھیں اکیلے ہی اس انٹرسیکس بچے کو پالنا پڑے گا اور اس بارے میں سوچ کر وہ سخت خوفزدہ ہو رہی تھیں۔

کیتھرن

کیتھرن زہر اور دال کے ساتھ

’میں بہت اکیلی اور پریشان محسوس کر رہی تھی۔ ایک دن میں نے چوہوں کو مارنے والا زہر خریدا تاکہ میں اپنے آپ کو اور بچے کو مار لوں۔ میں نے کھانے میں اسے ملایا ۔ مجھے یاد ہے وہ دال تھی۔‘

’لیکن میں نے آخری لمحے اپنے آپ کو روک لیا اور پادری سے بات کرنے کے لیے چرچ کی جانب بھاگی۔ انھوں نے مجھے تسلی دی کے میں اکیلی نہیں ہوں اور میرے بچے جیسے اور بھی بچے دنیا میں ہیں۔

’انھوں نے مجھے کہا کہ زندگی آگے بڑھتی رہے گی۔ خدا مجھ پر اور مرے بچے پر رحم کرے گا اور ہم دونوں سلامت رہیں گے۔‘

پھر کیتھرن نے فیصلہ کر لیا اور بچے کی پیدائش کے ایک مہینے بعد انھوں نے اپنے خاوند کو چوڑ دیا اور اپنی بہن اور اس کے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگیں.

انھوں نے بہت گالیاں اور شرمندگی برداشت کی تھی اور وہ اپنے اور اپنے بچے کے لیے ایسی زندگی نہیں چاہتی تھیں۔

کیتھرن کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، زچگی کے کچھ ہفتوں بعد ہی انھوں نے بچوں کے لیے بنائے گئے فلاحی ادارے میں کام شروع کر دیا.

ایک مشورہ جس کی وجہ سے وہ بہت فکرمند تھیں وہ یہ تھا کہ ان کے بچے کی سرجری ہونی چاہیے.

’ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ بچے کے نر ہارمونز مادہ سے زیادہ مضبوط ہیں، ہمیں سرجری کر کے ویجائنا کو سی کر (اسے) نر ہارمونز دینے چاہییں۔‘

کافی عرصے تک وہ اس خیال سے دور ہی رہیں لیکن بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد انھوں نے سرجری کی اجازت یہ سوچ کر دے دی کہ اس میں بچے کی بہتری ہے لیکن جلد ہی انھیں اس فیصلے پر پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسرا مسئلہ برتھ سرٹیفیکیٹ کا تھا۔

کینیا میں برتھ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ بچے کی جنس لکھی جائے لیکن کیتھرن کے بچے کی پیدائش کے وقت ہسپتال کے عملے نے فارم پر جنس کے خانے میں سوالیہ نشان ڈال دیا تھا۔

سوالیہ نشان کا مطلب تھا کہ انھیں برتھ سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کینیا میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مل سکتا ہے.

کیتھرن کو معلوم تھا کہ ان کاغذات کے بغیر وہ اپنے بچے کو سکول میں داخل نہیں کروا سکتیں اور وہ جوان ہونے کے بعد ووٹ بھی نہیں ڈال سکے گا۔

آخرکار انھوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھی سے اس بارے میں بات کی۔ اس نے انھیں ایک شخص کے بارے میں بتایا جو شاید ان کی مدد کر سکے۔

یہ وہ وقت تھا جب کیتھرن جان چیگیٹی سے ملیں۔ 2010 کے شروع میں جان چیگیٹی، رچرڈ مواسیا کی وکالت کرنے کی وجہ سے مشہور ہوئے تھے۔ وہ ایسے فرد ہیں جن کی جنس واضح نہیں ہے اور انھیں مردوں کی جیل میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔

عدالت نے رچرڈ کی عورتوں کے جیل میں منتقلی کی درخواست کو تو مسترد کر دیا لیکن اس وقت تک ایسے ملک میں جہاں عوام کی رائے زیادہ تر مخالفانہ ہوتی ہے وہاں جان چیگیٹی ایسے لوگوں کے لیے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے مشہور ہو گئے جن کی جنس واضح نہ ہو۔

ایسے بچے جن کی پیدائش کے وقت جنس واضح نہ ہو، ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش گھر والوں کے لیے لعنت یا بدشگونی ہوتی ہے، اس کی وجہ سے بہت سے ایسے بچوں کو بچپن میں ہی مار دیا جاتا ہے۔

کیتھرن کو تین چیزیں چاہیے تھیں۔ بچے کے لیے شناختی دستاویز تاکہ وہ سکول جا سکے، ایک قانون جو ایسے بچوں کی سرجری پر پابندی لگائی جائے جن کی جنس واضح نہیں ہے جب تک اس کی طبی طور پر ضرورت نہ ہو اور والدین کے لیے صحیح معلومات اور نفسیاتی مدد۔

جان بغیر معاوضے کے کیتھرن کی مدد کے لیے تیار ہو گئے۔ ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم، ’دی کریڈل دی چلڈرن فاؤنڈیشن‘ کی مدد سے انھوں نے سال کے اختتام سے پہلے کینیا کی ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کر دیا۔

اپنے بچے کی پہچان کو خفیہ رکھنے کے لیے کیتھرن نے اپنے بچے کو ’بےبی اے‘ کے نام سے بلایا، اسی وجہ سے یہ مقدمہ بےبی اے بمقابلہ اٹارنی جنرل، کنیاٹا نیشنل ہاسپٹل اور رجسٹرار پیدائش و اموات کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سنہ 2014 میں عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو یہ حکم دیا کہ کیتھرن کے پانچ سالہ بچے کو برتھ سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے۔

اس کے ساتھ انھوں نے اٹارنی جنرل کو بھی حکم دیا کہ وہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں جو ایسے بچوں کو بہتر مدد فراہم کرنے کے طریقوں پر سفارشات پیش کرے۔

اس ٹاسک فورس نے اسی ہفتے اٹارنی جنرل کو اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں یہ بات شامل تھی کہ سرجری اس وقت تک نہ کی جائے جب تک بچہ اپنا فیصلہ خود نہ کر سکے اور ایک جامع سروے بھی کروایا جائے تاکہ کینیا میں انٹرسیکس افراد کی تعداد کا تعین کیا جا سکے۔

کینیا کے قانونی اصلاحات کی کمیٹی کے چیئرمین اور اس ٹاسک فورس کے سربراہ ممبگے گنانگا کہتے ہیں کہ یہ سفارش بھی تھی کہ بجائے اس کے کہ ہماری ریاست فقط دو جنسوں کو اپنے دستاویز میں تسلیم کرے، ایسے افراد کے لیے الگ نشان ’آئی مارکر‘ ہونا چاہیے جو حکومتی دستاویزات میں بھی استعمال ہو۔

نر، آئی مارکر اور مادہ کے نشان

مادہ، آئی مارکر اور نر جنس کے نشان

دنیا میں کافی ایسے ملک ہیں جہاں شناخت واضح ہونے کے بعد لوگ تیسری صنف کے طور پر اپنے آپ کو سرکاری دستاویز میں رجسٹر کر سکتے ہیں لیکن ٹاسک فورس کا منصوبہ مختلف ہے وہ صنف کے بجائے پیدائش پر جنس کو رجسٹر کرنے کی بات کر رہی ہے۔

ممبگے گنانگا کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے سفارشات کی بھرپور حمایت کی ہے اور سنہ 2019 میں ایسے افراد کے حقوق کے بارے میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی جن کی جنس واضح نہیں ہے۔

آج کل کیتھرن صابن بنا کر بیچتی ہیں۔ ان کے قریب کے رشتہ داروں کو بےبی اے کے بارے میں علم ہے اور وہ ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

کچھ ایسے بھی دن آتے ہیں جب ان کا کوئی صابن نہیں بکتا۔ تاہم وہ کہتی ہیں ’ہمارا گزارہ ہو جاتا ہے۔‘

بےبی اے کی عمر اس وقت دس سال ہے۔ انھوں نے اسے لڑکے کی طرح پالا ہے۔

وہ اس بارے میں اکثر سوچتی ہیں کہ کیا ان کا یہ فیصلہ ٹھیک تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ بےبی اے لڑکے کے طور پر سکون محسوس نہیں کرتا لیکن کیتھرن نے اس سے نہیں پوچھا کہ وہ خود کو کس صنف میں شناخت کرتا ہے۔

وہ فکرمند ہیں کہ وہ اکیلا رہتا ہے۔ ’اسے لوگوں کی صحبت پسند نہیں، آپ اسے دوسرے بچوں کے ساتھ نہیں پائیں گے۔‘

ان کے پاس والدین کے لیے ایک پیغام ہے۔ ’اگر آپ کے بچے کی جنس واضح نہیں تو اس کے ساتھ کچھ نہ کریں، جب وہ بڑے ہو جائیں تو انھیں خود فیصلہ کرنے دیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ طبی مشوروں کی بنیاد تحقیق پر ہونی چاہیے ڈاکٹر کے تعصب کی بنیاد پر نہیں کیونکہ ’ڈاکٹر خدا نہیں ہوتے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *