کامیڈین یوکرین کے صدارتی انتخاب میں ’کامیاب‘

ولودومیر زیلینسکی یوکرین کے صدارتی انتخاب میں ’کامیاب‘

یوکرین میں صدارتی انتخاب کے ایگزٹ پولز کے مطابق ٹیلی ویژن پر طنزیہ مزاحیہ پروگرام پیش کرنے والے کامیڈین ولودومیر زیلینسکی نے اس الیکشن میں واضح برتری سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ایگزٹ پول کے مطابق تین ہفتے قبل صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں بھی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے نوآموز سیاست دان کو 70 فیصد سے زیادہ ووٹروں کی حمایت ملی ہے۔

41 سالہ زیلینسکی نے اس الیکشن میں ملک کے موجودہ صدر پیٹرو پوروشنکو کو چیلنج کیا تھا اور پوروشنکو نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ان نتائج کو ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو ولودومیر زیلینسکی نے ان کی فتح کا جشن منانے والے حامیوں سے کہا کہ وہ کبھی انھیں مایوس نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں باقاعدہ طور پر ابھی صدر نہیں بنا لیکن یوکرین کے شہری کے طور پر میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والے تمام ممالک سے کہتا ہوں کہ ہمیں دیکھیں، سب کچھ ممکن ہے۔‘

اگر انتخابی جائزے درست ہیں تو ولودومیر پانچ برس کے لیے یوکرین کے صدر بن جائیں گے۔ انتخاب کے سرکاری نتائج جلد ہی متوقع ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق 2014 سے برسراقتدار صدر پوروشنکو کو 25 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’اس الیکشن کی نتائج نے ہمیں غیریقینی صورتحال کا شکار کر دیا ہے۔ میں عہدہ چھوڑ دوں گا لیکن یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ میری سیاست کا خاتمہ نہیں۔‘

اپنی ایک ٹویٹ میں انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ایک نیا غیر تجربہ کار صدر جلد ہی روس کے اثرورسوخ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ادھر روس نے کہا ہے کہ یوکرین نے ووٹرز نے سیاسی تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ پروشینکو، یوکرین کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک سیاستدان ہیں اور وہ اچانک ایک وسط مدتی انتخابات میں صدر منتخب ہو گئے تھے۔

اس وقت روس نواز صدر وکٹر یانوکووِچ کی حکومت کا سنہ 2014 کے 'میدان انقلاب' نامی تحریک کی وجہ سے خاتمہ ہوا تو اچانک نئے انتخابات کرائے گئے اور پروشینکو کو صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔

بعد میں یوکرین میں روس کے حامیوں نے شورشوں کا آغاز کیا اور ماسکو نے یوکرین کے ایک حصے کریمیا کو روس میں ضم کر لیا۔

پیٹرو پروشینکو

ولودومیر زیلینسکی کون ہیں؟

زیلینسکی ایک مقامی ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے طنزیہ ڈرامے میں استاد کا کردار ادا کرتے ہیں جو کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے صدر منتخب ہو جاتا ہے اور ممکنہ طور پر اب انھوں نے اس خیال کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

انھوں نے اپنی سیاسی جماعت کا نام بھی وہی رکھا جو ڈرامے میں دیا گیا تھا۔

انھوں نے انتخابات کے تمام روایتی اصولوں اور ضابطوں کے برخلاف کوئی جلسے منعقد نہیں کیے اور چند ایک انٹرویو دیے۔

ان کے بظاہر کوئی سیاسی نظریات نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں پچھلے صدور سے مختلف اندز میں ملک چلاؤں گا۔

زیلینسکی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال ہیں اس لیے نوجوان ووٹرز میں ان کی بہت اپیل ہے۔

اس وقت یوکرین میں یوکرینی اور روسی زبانیں بیک وقت بولنا کافی مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک علاقائی سیاست کی وجہ سے زبانوں کی سیاست پر تقسیم ہو چکا ہے۔

تاہم ولودومیر دونوں زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ یوکرین کے روسی زبان بولے جانے علاقوں میں کافی مقبول ہیں۔

یوکرین کے اگلے صدر کو یوکرین کے مشرق میں اپنی فوجوں اور روسی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان خانہ جنگی کے ایک سلسلے کا سامنا کرنا ہو گا۔

اس دوران یوکرین کو یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے کئی ایک اقتصادی اصلاحات کو بھی دیکھنا پڑ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *