روئیٹرز کے مطابق سیگرام کے وارث نے جنسی جرائم کے گروہ سے تعلق کا اعتراف کر لیا

" نتنیچا چورچ "

روئٹرز کے مطابق سیگرام کمپنی کی وارث کلیر برانف مین نے  جمعہ کے روز عدالت کے رو برو اعتراف کیا کہ وہ  جنسی جرائم کے مرتکب ایک گروہ کے ساتھ غیر قانونی  مہاجرین کو پنا دینے اور کریڈٹ کارڈ فراڈ میں ملوث  رہے ہیں ۔ گروہ کا کام اپنے زیر قبضہ غیر ملکی مہاجرین  کو زبردسی جسم فروشی پر مجبور کرنا تھا۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برانفمین جو سیگرام کمپنی کے  سابق چئیر مین ایگر ایم برانف مین کی بیٹی ہیں  نے حال ہی میں بروکلن نیو یارک کے فیڈرل کورٹ میں اپنا جواب جمع کروایا۔ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے خلف ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنی نیکسیوم نے تحقیقات کے دوران  الزامات عائد کیے تھے۔ نیو یارک میں قائم فرم 'دی البانی'  کی بنیاد کیتھ رانئیر نے رکھی تھی جنہیں میکسیکو میں گرفتار کر کے ان پر سیکس ٹرافکنگ اور زبردستی لوگوں کو کام کرنے پر مجبور کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہیں ضمانت کی سہولت دیے بغیر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وارثہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جعلی ویزہ پر  امریکہ ہجرت کرنے والی  خاتون کو اپنے زیر تسلط رکھنے اور ایک مردہ خاتون کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے میں رینی کی مدد کے گناہ کی مرتکب ہوئی ہیں۔ دو الزامات کے جواب میں انہوں نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے  اعتراف کیا کہ وہ 6 ملین ڈالر جرمانہ دینے کے لیے تیار ہیں اور 27 ماہ یا اس سے کم عرصہ کی قید کے خلاف اپیل نہیں کریں گی۔ برانف مین  کے وکیل مارک گیراگو نے  سماعت کے بعد روئیٹر کو بتایا کہ ان کی موکل نے پراسیکیوٹر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہوا۔

دوسرے ممبران

ایکٹریس ایلیسن میک نے رواں ماہ اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے نیکسوم سے تعلق کی وجہ سے دو افراد کو بلیک میل کیا ۔ کیتھی ریسل جن کا تعلق نیکسیوم سے ہے نےایک شخص کے لیے  جعلی ویزا درخواست تیار کرنے کا اعتراف کیا۔

برانف مین اپنے والدین کے 7 بچوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ سیکنڈ جنریشن وارث کی بیٹی ہیں جنہوں نے سیگرام کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ برانف مین، رسل ، سابقہ نیکسیوم پریزیڈنٹ نینسی سالزمین اور ان کی بیٹی لارن سالزمین رینی کی ٹیم کے خفیہ ممبر تھے جو افراد کو بھرتی کر کے ٹریننگ فراہم کرتے اور انہیں رینی کے لیے جسم فروشی پر مجبور کرتے تھے۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ نیکسیوم ایک پیرامڈ سکیم کی طرح کام کرتی تھی ۔ کورس میں شمولیت اختیار کرنے والوں سے ہزاروں ڈالر لیتی تھی اور انہیں مزید لوگوں کو رجسٹریشن کے لیے لانے کی ترغیب دیتی تھی ۔ رینیئر نے  تنظیم کے اندر ہی ایک خفیہ سوسائٹی 2015 میں قائم کی تھی جسے ڈی او ایس کا نام دیا گیا۔ اس میں کام کرنے والی خواتین کو غلام کہا جاتا تھا جنہیں ان کے آقا کی نگرانی میں کام کرنا پڑتا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ عوام کو بھرتی کرنے والوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ ادارہ جائن کرنے سے قبل 'کولیٹرل' فراہم کریں۔ وہ اپنے دوستوں اور فیملی ممبران کے بارے میں بھی معلومات افشا کرتے تھے جو ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ ان کی ننگی تصاویر اور جائیداد اور ملکیت کی تفصیلات بھی لیک کرتے تھے تھے۔ یہ چیزیں ان کے پکڑے جانے پر ان کے خلاف استعمال کی جا سکتی تھیں تا کہ ادارے کے خلاف کوئی شخص کام کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ بہت سے غلاموں کے جسم پر کمپنی کی مہریں لگائی جاتی تھیں  جن میں رینی کے نام کے ابتدائی ہجے ان کے جسم پر کشیدے جاتے تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *