سیندک: بلوچستان کا سونا مقامی آبادی کی زندگی بدلنے میں مددگار کیوں نہیں؟

پاکستان اور ایران کی سرحد پر واقع قصبے تفتان کی حدود شروع سے کچھ پہلے انگریزی اور چینی زبان پر آسمانی رنگ کا ایک بورڈ آویزاں ہے، جس پر تحریر ہے کہ ’ویلکم ٹو سیندک پراجیکٹ‘ لیکن یہ خیرمقدم ہر شہری کے لیے نہیں بلکہ کچھ لوگوں کے لیے ہے۔

اس پراسرار جگہ پر سونے اور چاندی کے ذخائر ہیں مگر یہ معدنیات کیسے نکالی جاتی ہیں، کہاں فروخت ہوتی ہیں اور کیا منافع ہوتا ہے یہ ایک راز ہے جو چند سینوں یا پھر بعض دستاویزات میں موجود ہے۔

سیندک کیا ہے

سیندک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ سیائن دک بلوچی زبان میں سیاہ پہاڑی کو کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز 1990 میں ہوا تھا، جس میں چینی کمپنی کو کان کی کھدائی، دھات کی صفائی کے کارخانے، بجلی، پانی کی فراہمی اور رہائشی کالونی کی تعمیر کی ذمہ داری دی گئی۔

1995 میں سیندک کا آزمائشی آپریشن شروع کیا گیا اور 1500 میٹرک ٹن تانبے اور سونے کی پیداوار کی گئی جبکہ اگلے ہی سال تیکنیکی اور مالی وجوہات کی بنا پر اس منصوبے کا آپریشن معطل کردیا گیا جس کے بعد 2003 سے دوبارہ آپریشن بحال ہوا۔

یہاں کان کنی اور صفائی و پیداوار کا کام چینی کمپنی ایم آر ڈی ایل کے پاس ہے۔

سیندک

24 گھنٹے کام جاری رہتا ہے

سیندک میں اس وقت مغربی کان میں کھدائی مکمل ہو چکی ہے جبکہ مشرقی اور شمالی کانوں سے خام مال حاصل کیا جارہا ہے۔ یہ کام 24 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے جاری رہتا ہے۔

10 ڈمپر 80 سے 90 ٹن خام مال کو سیمولیٹر کے پاس ذخیرہ کرتے ہیں جہاں سے یہ ریت بن کر دوسرے سیکشن میں جاتا ہے، وہاں سے مختلف رولرز سے گزار کر پانی اور کیمیکل سے اس کو پراسیس کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ بھٹی میں پہنچتا ہے جہاں اس کے بلاک بنائے جاتے ہیں۔

سات برس تک اس منصوبے میں بطور کاسٹنگ آپریٹر کام کرنے والے احمد یار کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں تین کاسٹنگ ہوتی تھیں اور ہر کاسٹنگ میں 44 سے 52 بلاکس بنتے تھے جن کا وزن پانچ سو کلوگرام سے سات سو کلوگرام ہوتا تھا۔

سیندک سے ملازم خوش کیوں نہیں

علی احمد خان نے 2003 سے 2008 تک سیندک میں ملازمت کی اس کے بعد ملازمت چھوڑ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں تنخواہ بہت کم تھی، چینی کمپنی بین الاقوامی کمپنی ہے لیکن ملازمین کو 80 سے لے کر 120 ڈالر ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی جس وجہ سے ملازم طبقہ بدحال ہے۔

سیندک

احمد یار نے 2003 سے 2010 تک سمیولیٹر سیکشن میں بطور کاسٹنگ آپریٹر کام کیا۔ ان کے مطابق وہاں ملازمت کانٹریکٹ پر ہوتی ہے، جب سال پورا ہوتا ہے تو پھر اس میں توسیع کردی جاتی ہے اگر کسی ملازم کا کوئی مسئلہ اٹھے تو بغیر اس کا موقف جانے بات سنے اسے فارغ کردیا جاتا ہے۔

’یونین سازی کی اجازت نہیں اگر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسے ملازمت سے فارغ کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی تم تو لیڈر بن گئے ہو۔‘

ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ’جو ملازم دیہاڑی دار ہیں انھیں چار ماہ کی مسلسل ملازمت کے بعد چھٹی ملتی ہے۔ ماسک اور شوز وغیرہ ہوتے ہیں جو ماسک دیے جاتے ہیں وہ گیس ماسک نہیں بلکہ ڈسٹ ماسک ہوتے ہیں جبکہ سلفر گیس کی بو شدید آتی ہے۔ حادثے میں اگر کوئی ملازم مر جائے تو کوئی انشورنس نہیں۔‘

سیندک اور مقامی ترقی

سیندک ممنوعہ علاقہ ہے، مرکزی سڑک سے لے کر منصوبے تک ایف سی، لیویز اور پولیس کی درجن کے قریب چوکیاں قائم ہیں۔ اس علاقے میں چار گاؤں بھی واقع ہیں جن کے رہائشی لوگوں کو خصوصی پاس جاری کیے گئے ہیں جن کی مدد سے انھیں آمدورفت کی اجازت ہے۔

سیندک

ایف سی کی ہر چوکی گاؤں کے داخلی راستے پر بھی موجود ہے۔ ان گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک ہائی سکول اور ہسپتال کی سہولت فراہم کی گئی ہے لیکن حاملہ خواتین شہر کے ہسپتال جاتی ہیں۔

سیندک کے متصل گاؤں کی سڑکیں آج بھی کچی ہیں جبکہ بچے کھلے پتھریلے میدان میں کھیلتے ہیں۔ کوئی گراؤنڈ موجود نہیں۔ کمپنی نے دو دیہات کو بجلی فراہم کی تھی جبکہ دو اس سے محروم رہے بعد میں انھیں سولر پلیٹس لگا کر دی گئیں۔

سیندک کے آس پاس تافتان، نوکنڈی اور ضلعی ہیڈکوارٹر دالبندین واقع ہیں۔ مقامی لوگوں کو پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک پائپ لائن بچھائی گئی ہے لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔

پانی صرف چند کلومیٹر تک پہنچ پاتا ہے جبکہ بجلی کی عدم فراہمی اور موٹروں کی فنی خرابی کے باعث مقررہ مقامات پر پانی نہیں پہنچ سکا۔

سیندک

حالیہ بارشوں سے قبل چاغی بلوچستان میں قحط سالی سے شدید متاثرہ علاقے میں شامل تھا، جہاں مال مویشی کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جبکہ خواتین اور بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

دالبندین کے ایک مقامی سماجی کارکن ظفر خان کا کہنا ہے کہ مقامی ترقی میں سیندک کا کوئی کردار نہیں۔ ’ہاں اس منصوبے سے فائدہ یقیناً پہنچا ہے، ایک چینی کمپنی کو اور دوسرا وفاقی حکومت کو۔ باقی چاغی کے عوام اور بلوچستان کو کچھ نہیں ملا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بیشک انہوں نے ہمارے چوکیدار اور مالی وغیرہ رکھے ہیں، جنھیں دس ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے کم از کم اجرت 14 ہزار مقرر کی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘

سیندک

پوزیشن ہولڈرز کے لیے بھی ملازمت نہیں

سیندک منصوبے کی بحالی 2003 میں ہوئی۔

تقریباً دس سال کے بعد دالبندین میں وفاقی حکومت نے ٹیکنیکل کالج قائم کرنے کا اعلان کیا اور یہ کالج 2017 میں فعال ہوا یہاں ویلڈنگ اور وائرنگ سمیت 6 ماہ کے شارٹ کورسز کرائے جاتے ہیں۔

اب تک یہاں سے دو بیچ فارغ ہوچکے ہیں لیکن اس تربیت نے بھی سیندک میں ان کے لیے روزگار کے دروازے نہیں کھولے۔

کالج کے پرنسپل عالم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ جو ٹاپ ہولڈر ہیں انھیں تو ملازمت فراہم کی جائے انھوں نے کہا کہ وہ چینی کمپنی سے بات کریں گے۔

سیندک

بلوچستان اور وفاق کا تنازع

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کے تحت سیندک منصوبہ بلوچستان کو دیا گیا تھا اور قرار دیا گیا کہ اگر بلوچستان اس کا کنٹرول حاصل کر لیتا ہےتو اسے منافعے میں سے 35 فیصد حصہ ملے گا، لیکن وفاقی حکومت نے اس منصوبے پر ہونے والی سرمایہ کاری کی واپسی کا مطالبہ کر دیا جو 27 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔

سابق وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے میاں نواز شریف کی حکومت کو کہا تھا کہ وفاق کا وعدہ ہے لیکن انھوں نے منصوبہ نہیں دیا جب معاہدے کی مدت پوری ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ اس کی توسیع کریں تو میں نے انکار کر دیا۔

’پچاس فیصد چین لے جائے، 48 فیصد وفاقی حکومت لے، باقی بلوچستان کو صرف 2 فیصد رائلٹی ملے گی۔ لیکن بدقسمتی سے بلوچستان کی آنے والی حکومت نے معاہدے میں توسیع کر دی۔‘

سیندک

سیندک میٹل لمیٹڈ کا موقف

حکومت پاکستان کی جانب سے سیندک میٹل لمیٹیڈ اس منصوبے کی نگرانی کرتی ہے۔ کمپنی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پروجیکٹ میں چینی کمپنی اور حکومت پاکستان کی نفع میں حصے داری پچاس، پچاس فیصد ہے، جبکہ بلوچستان حکومت کو پانچ فیصد رائلٹی دی جاتی ہے جبکہ ایم آر ڈی ایل نفع میں سے 5 فیصد کان کی بہتری کی مد میں ادا کرتی ہے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ 2016 کی پیدوار کے مطابق 14 ہزار 136 ٹن تانبا نکالا گیا جبکہ 11 ہزار 33 کلو گرام سے زائد سونا اور 1706 کلو گرام چاندی بھی نکلی۔

کمپنی کی مارچ 2019 کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ملازمین کی تعداد 1659 تھی جن میں سے 125 ڈیلی ویجز پر جبکہ 1634 کانٹریکٹ ملازم ہیں جن میں 75 فیصد کا تعلق بلوچستان سے ہے ان میں بھی اکثریت ضلع چاغی کی ہے۔ ان ملازمین کی کم از کم تنخواہ 150 ڈالر ماہانہ (21 ہزار روپے) جبکہ زیادہ سے زیادہ 1500 ڈالر ماہانہ ہے۔

سیندک میٹل لمیٹڈ نے ملازمین کی حفاظت اور مقامی ترقی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات نہیں دیے، تاہم چینی کمپنی ایم آر ڈی ایل کے صدر خوشو پنگ نے حال ہی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بلوچستان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیندک

عوام اور سیاست دانوں میں بےچینی

سیندک منصوبے سے ملنے والی آمدنی سے بلوچستان کے سیاست دان اور عوام دونوں ناخوش ہیں۔

یہ بلوچستان کے سیاسی بیانیے کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ سینیٹ سے لے کر صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر اس منصوبے پر بات کی جاتی ہے۔

پاکستان کے آئین کے مطابق معدنیات پر صوبے کا حق ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن ثنا بلوچ کی درخواست پر بلوچستان اسمبلی نے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اس حوالے سے سفارشات پیش کرے گی، جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست زیر سماعت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *