الیکشن کمیشن میں اراکین اسمبلی کے اثاثوں کا آڈٹ شروع

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے 30 جون 2018 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے اراکینِ اسمبلی کے اثاثہ جات اور اخراجات کا آڈٹ کرنا شروع کردیا۔

باخبر ذرائع نے  بتایا کہ اس سلسلے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کی جانب سے جمع کروائے گئے اسٹیٹمنٹس میں کسی بھی قسم کے تضاد کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل سیاسی مالیت (پولیٹیکل فنانس) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم نے اراکین قومی اسمبلی کے اسٹیٹمنٹس سے آڈٹ کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ دسمبر 2016 میں بھی اسی قسم کی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اسے بغیر کسی باضابطہ اعلان کے درمیان میں ہی ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے جب ایک الیکشن کمیشن کے عہدیدار سے پوچھا گیا کہ گزشتہ آڈٹ مکمل کیوں نہیں کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات پر کام کرنا شروع کردیا تھا جس کے باعث سیاسی مالیات کے سربراہ اس ٹاسک کو مکمل نہیں کرسکے تھے تاہم اب اس عہدے پر سیاسی مالیات کے مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ 2016 میں ای سی پی نے ابتدائی طور پر اثاثوں کے 25 فیصد اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی جانچ پڑتال کر کے دیکھا جائے گا کہ اس میں کوئی تضاد یا غلط بیانی تو نہیں۔

اس ضمن میں منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اس کارروائی میں اثاثوں کے اسٹیٹمنٹس کی درجہ بندی کی جائے گی اور ان اسٹیٹمنٹس کو 10 لاکھ سے ایک ارب سے زائد کے 4 سلیبس میں تقسیم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ضرورت پڑنے والے ڈی جی سیاسی مالیات کسی بھی رکن کے اسٹیٹمنٹس کا موازنہ اس کے گزشتہ 2 سالوں کے اسٹیٹمنٹس نے بھی کرسکتے ہیں جس میں 2 سالوں کے دوران لاگت کے تناظر میں، کاروبار میں تبدیلی، حاصل کیے گئے اور استعمال شدہ اثاثے اخراجات کی مالیت شامل ہوسکتی ہے۔

اس کے ساتھ اگر اثاثوں میں سامنے آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات ناکافی لگے تو شعبہ سیاسی مالیات، فارم جمع کروانے والے سے ان تضادات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد بھی طلب کرسکتی ہے اور وہ ریاستی ایجنسیوں سے مطلع شدہ فیصلے کے حوالے سے تصدیق کے لیے بھی درخواست کر سکتا ہے۔

ای سی پی عہدیدار کا کہنا تھا کہ جو افراد اثاثےچھپانے یا اس کے حوالے سے غلط بیانی کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس کے نیتجے میں 3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے جبکہ یہ سزا رکنِ اسمبلی کی نااہلیت اور آئندہ 5 سالوں تک انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *