اظہار الحق کا ’’اظہارِ حق ‘‘۔۔۔

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

اظہار الحق کا ’’اظہارِ حق ‘‘۔۔۔
’’طاقتوروں ‘‘کے حق میں،’’کمزوروں‘‘ کے خلاف

موصوف ایک بیوروکریٹ کے طور پر ریٹائر ہوئے جو پاکستان میں برسرِ اقتدار آنے والی ہر حکومت میں، چاہے وہ سویلین تھی یا فوجی، آئینی تھی یا غیر آئینی۔ اپنے فرائض پوری تندہی سے انجام دیتے رہے۔ شاعری تو پہلے بھی کرتے تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد اخبارات میں سیاسی معاملات پر بھی لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان چند برسوں میں روزنامہ 92نیوز چوتھا اخبار ہے، جس میں ان دنوں اپنے قلمی جوہر دکھا رہے ہیں۔ شریف فیملی سے خدا واسطے کا بیر چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ بروزنِ بیت زرداری اینڈ کمپنی کی طرف بھی ایک آدھ تیر پھینک دیتے ہیں لیکن سارا زور’’شریفوں‘‘ کے خلاف رہتا ہے۔ اپنی ’’غیر جانبداری‘‘ کے اظہار کے لیے کبھی کبھار پی ٹی آئی حکومت پر تنقید بھی کرگزرتے ہیں، حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی۔
روزنامہ 92نیوز میں ان کا تازہ کالم ’’وہ فرشتہ ہے، نہ ساحر‘‘ زیر نظر ہے۔ یہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں حالیہ تبدیلی پر ہونے والی تنقید ی تبصروں اور تجزیوں کا جواب ہے۔ فرماتے ہیں: آج عمران خان میدان میں کھڑا ہے، اس پر تیروں کی بارش ہورہی ہے۔ ہر چہار طرف سے ! زہر میں بجھے ہوئے تیر ! غیر وں کی طرف سے اور اپنوں کی طرف سے۔۔۔ اپنے چہیتے وزیر اعظم کی مظلومیت کا کیا شاعرانہ نقشہ کھینچا ہے۔ ہمیں تو یوں لگا جیسے کربلا کا منظر ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے، غیر منتخب مشیر اکٹھے کرلئے گئے ہیں۔ گویا اسحاق ڈار، سرتاج عزیز، رضا ربانی اور کئی اور ون مین ون ووٹ سے آئے تھے۔ حیرت ہے، اتنے عالم فاضل کالم نگار کو علم نہیں کہ اسحاق ڈار، سرتاج عزیز اور رضا ربانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (سینٹ )کے منتخب رکن تھے۔ ۔۔کوئی الزام لگا رہا ہے کہ فلاں پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وزیر تھا، جیسے وہ پاکستانی نہیں۔ لیکن آپ کے ممدوح لیڈر(موجودہ وزیراعظم) ہی کہتے رہے ہیں کہ یہ سب چورتھے۔ جنہوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔ گزشتہ دس سال میں ملک کو اربوں ڈالر کا مقروض کردیا، ان10سال میں5پیپلز پارٹی کے ہیں اور اربوں ڈالر قرضہ لینے والوں میں اس دور کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ بھی تھے،جو خیر سے اب ’’تبدیلی سرکار‘‘ کے مشیر خزانہ ہیں۔۔۔ایک طرف سے شہنائی بجائی جارہی ہے کہ پنجاب میں شہبازشریف کی بیروکریٹ ٹیم لے آئے ہیں۔ لیکن ان آٹھ ماہ میں خود وزیر اعظم اوران کا رفقا ہر اہل بیوروکریٹ کو یہ کہہ کر مسترد کرتے رہے کہ یہ تو شہبازشریف کی ٹیم میں رہا ہے۔ کوئی شہبازشریف کا ہے، کوئی پیپلز پارٹی کا خدا کے بندو کوئی پاکستان کا بھی ہے یا نہیں؟ کیا زرداری یا شہبازشریف کے ساتھ کام کرکے انسان نااہل ہوجاتاہے؟ یہ سوال تو موصوف کالم نگار کو اپنے محبوب حکمرانوں سے کرنا چاہیے تھا جنہوں نے اہل بیوروکریٹس کی خدمات سے آٹھ ماہ تک قوم کو محروم رکھا۔
سرکاری ملازم ریاست کا ملازم ہوتاہے، اگر وہ احد چیمہ ،توقیر شاہ یا فواد حسن فواد نہ بن جائے لیکن احد چیمہ ، توقیر شاہ یا فواد حسن نے ایسا کیا کِیا ، جس پر کالم نگار موصوف نے انہیں طعنہ بنا لیا ہے۔ احد چیمہ گزشتہ سوا سال سے اور فواد حسن فواد 9ماہ سے نیب کی تحویل میں ہیں اس دوران نیب نے ان کے خلاف کیا کچھ نکلوالیا، اربوں کی کرپشن کے الزامات سے شروع ہونے والا معاملہ چند کروڑ تک آگیا ہے اور اسے بھی ابھی ثابت ہونا ہے۔ احد چیمہ اورفواد حسن فواد کا اصل ’’جرم ‘‘یہ ہے کہ وہ شہبازشریف کے خلاف جھوٹے وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ حمزہ شہبازنے 2001میں دوکروڑ بیس لاکھ کے اثاثے ظاہر کئے، جو2017میں 41کروڑ سے بڑھ گئے۔ وراثت میں ایک فیکٹری ملی، پھر ایک سے گیارہ ہوگئیں۔اپنی فیکٹری کو فائدہ پہنچانے کے لیے نالہ تعمیرکرایا، قومی خزانے سے اس پر بیس کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کی گئی۔ کیا فاضل کالم نگار کو واقعی علم نہیں کہ سرکاری خزانے سے بیس کروڑ روپے کی لاگت سے نالے کی تعمیر کے الزام پر ، لاہور ہائی کورٹ ، شہبازشریف کی ضمانت کے فیصلے میں نیب کی کس طرح گوشمالی کرچکی ہے اور اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دے چکی ہے۔۔۔؟ باقی رہ گئی ، حمزہ کے اثاثوں میں اضافے کی بات تو یہ سب دعوے(الزامات) نیب کے ہیں، جن کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ فاضل کالم نگار میڈیا ٹرائل کا حصہ کیوں بن گئے؟ 
جب دختر نیک اختر عملاً بادشاہی کررہی تھیں، جب وہ سرخ قالین پر چلتی تھیں اور منتخب سپیکر اس غلامانہ انداز سے ساتھ چلتا تھا کہ قالین پر پاؤں نہ پڑے کہ کہیں شہزآدی کے جاہ وجلال پر آنچ نہ آجائے۔ اپنے ناپسندیدہ لیڈر سے نفرت کا یہ عالم کہ اس کی بیٹی بھی محفوظ نہیں رہی۔ لیکن کہتے ہیں کہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ زیر عتاب لیڈر کی زیرعتاب بیٹی کے خلاف اس ’’اظہارِ حق‘‘ کو کیا نام دیا جائے؟ ان خاندانوں (شریف فیملی) کے شاہانہ اخراجات جو بیت المال سے پورے کئے جاتے تھے۔ اتنے بڑے الزام کا کوئی ثبوت؟ اور یہ الزام تو اب تک نیب نے بھی نہیں لگایا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *