عمران خان کی آٹھ ماہ کی حکومت

 

یہ ہفتہ عجیب و غریب واقعات  سے بھر پور تھا۔ وزیر اعظم کا شکریہ جنہوں نے آخر کار اپنی کنفیوژن کو ختم کر ہیی دیا اور کیبنٹ کے پورٹ فولیو کو بدل دیا جو وہ کچھ عرصہ سے کرنا چاہ رہے تھے۔

بلا شبہ زیادہ تر بڑی تبدیلیاں جن کا پچھلے ہفتے اعلان کیا گیا اسلام آباد کی چہ مہگوئیوں میں پہلے سے ظاہر تھیں۔

غلام سرور کی پیٹرولیم کو سنبھالنے کی نا اہلیت ایک کھلا راز تھا اور اسی وجہ سے  وزارت سے ان کی رخصتی ہوئی، فواد چوہدری کی نعیم الحق کے ساتھ ٹویٹر پر لڑائی اور ان کا کھلے عام اعتراف کہ وزیر اعظم سے انہوں نے  اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، نے ان کی قسمت کو تالا لگا دیا تھا،جیسا کہ  ان کے اپنے ساتھیوں کا کہنا ہے۔ پاک انڈیا بحران نے معاملے کو مزید گرمایا ۔

اور ایمانداری کی بات ہے کہ وزارت خزانہ پہلے دن سے ہی طوفان کے سامنے کھڑی تھی۔  پی ٹی آئی نے  معیشت کے مسئلہ کو پچھلی حکومت کی کارستانیوں  کی وجہ قرار دے کر اسے خبروں میں رکھنے میں مدد کی۔جب تک  پارٹی نے محسوس کیا کہ اس گندگی سے نمٹنا ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اس وقت تک دوسرے ذرائع سے یہ خبروں میں ہیڈ لائنز بننا شروع ہو چکی تھی۔  پچھلے کچھ دنوں سے خان کی معیشت کے حوالے سے پریشانیوں اور برہمی کے بارے میں خبریں باہر آ رہی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ  دوسرے حلقے بھی معیشت کے مسئلہ کی وجہ سے پریشانی کے عالم میں تھے ۔

بہر حال  اس کے لیے جو وقت چنا گیا اس پر سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ساتھ ،تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ اصل طاقتوں  نے وزیر اعظم کے نظریے  کو مسترد نہیں کیا۔انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی بغیر سوچے سمجھے کسی بھی وقت فیصلہ کرنے کی عادت پر قائم ہیں  اور نتائج کی پرواہ نہیں کرتے۔ (انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کا نگران پنجاب چیف منسٹر کے انتخاب کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا آپ کو یاد ہے؟) دوسرے الفاظ میں جب تک پی ٹی آئی اقتدار میں ہے، امکان ہے کہ ہمیں اچانک اور ناگہانی  فیصلے دیکھنے کو ملتے رہیں گے، بشمول کابینہ میں تبدیلیوں کے۔

خاص طور پر اس از سر نو تبدیلی نے کابینہ میں ٹیکنو کریٹس کی شمولیت پر کھلے ماتم کا راستہ کھول دیا ہے ۔ تاہم اس تبدیلی سے ، خان کی اپنی پارٹی  کابینہ پر عدم اعتماد  جس کا الزام وہ نواز شریف کو دیتے تھے  اور ٹیکنو کریٹس پر یقین  کا پول کھل گیا ہے ۔ 8 ماہ قبل انہوں نے غیر اہم وزارتوں کو ان لوگوں کے حوالے کر دیا تھا جنہیں انہیں سیاست کی وجہ سے اکاموڈیٹ کرنا تھا (مثال کے طور پر دفاع کی وزارت پرویز خٹک کے لیے، خارجہ امور کی شاہ محمود قریشی کو) اور اصلاحات کے لیے کئی ٹاسک فورسز تشکیل دی تھیں۔ وہ شاید پہلے پارٹی سربراہ بھی ہیں جنہوں نے گورنرشپ کے لیے منتخب پارلیمانی ارکان کو اپنے نشستیں چھوڑنے پر مجبور کیا، اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ وہ کابینہ  کےانتخاب کے معاملے میں اپنی محدود اکثریت کو خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہیں۔

صرف معاشی معاملات کے لیے انہوں نے ایک منتخب ممبر کو چنا جو ایسا سیاستدان تھا جو پہلے ٹیکنوکریٹ تھا۔ اسد عمر کی رخصتی شاید ہمارے سیاسی نظام میں معیشت کے حوالے سے سیاست دانوں کی بجائے ٹیکنو کریٹس پر یقین کے رحجان کو مستحکم کرے گی اور سیاستدانوں کی تریبت کو زیادہ اہمیت نہیں ملے گی۔  پی پی پی نے اپنے دور میں پانچ مختلف وزرا کو تعینات کیا اور پی ایم ایل این کے پاس بھی اسحاق ڈار کی رخصتی کے بعد کوئی ایک پکا امیدوار نہیں رہا۔ اور موخر الذکر کا اس پورٹ فولیو پر ہولڈ نواز شریف سے رشتہ داری کی وجہ سے تھا بجائے ان کی اہلیت کے۔ پی ایم ایل این کی کل قیادت کے پاس شاید وسیع تجربہ ہو لیکن اس سے صرف کابینہ میں شمولیت کا راستہ کھولے گا نہ کہ کسی خاص عہدہ کے لیے۔

کیا اس صورت میں کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہماری سیاست اور پارٹیوں کے نزدیک معاشی پالیسی کوئی معنی  نہیں رکھتی ؟ یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار پی پی پی کے وزیر خزانہ  بن گئے۔ پارٹی نے بعد میں حفیظ شیخ کو تعینات کیا جنہیں اب پی ٹی آئی نے اسد عمر کی جگہ لگایا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جو انہیں اندر لائے افواہوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، یہ ظاہرکرتا ہے کہ خان یا پی ٹی آئی کا معاشی پالیسی پر بھی کوئی واضح نظریہ نہیں ہے۔

خان صرف کرپشن کے خلاف لڑنے، تعلیم اور صحت میں اصلاحات لانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کو زیادہ سہولیات دینے کے بارے میں فکر مند ہیں، لیکن انہیں اس کی کوئی فکر نہیں کہ اس کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ اگر عمر یہ کرنے کے اہل ہوتے تو اچھی بات تھی۔ اگر نہیں، پھر حفیظ شیخ اور جہانگیر ترین کی قیادت میں بینکرز اور اکاؤنٹنٹس کی کمیٹی کو ایک موقع دیا جائے گا۔ ہر حال میں خان معیشت کو بحال کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اس کی تفصیلات کو ماہرین پر چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔

آخری بات یہ کہ یہ تبدیلی روائتی سیاست دانوں اور 'دوسروں' کے مابین فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ اسد عمر کے علاوہ (جو کہ دو انتخابات جیتنے کے باوجود ایک روائتی حلقے کے سیاست دان نہیں ہیں) جو ریٹائرڈ ہرٹ ہو چکے ہیں، سب نے خاموشی سے پورٹ فولیو کی اس تبدیلی کو خاموشی سے قبول کر لیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ حلقے کے سیاست دان اقتدار تک رسائی کی اہمیت کو جانتا ہے اور یہ بھی سمجھتا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرور نے  تنزلی کو بھی قبول کر لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں (اور حتی کہ اب بھی) شاہ محمود نے خاموشی سے خان کی نظر اندازی کو قبول کیا (جب انہوں نے میٹنگز میں شرکت کرنے پر ترین پر تنقید کی، عمران خان نے یہ کہتے ہوئے بیان جاری کیا کہ یہ ان کا حق ہے کہ اس کا فیصلہ کرے کہ کون عوامی طور پر میٹنگ میں شرکت کر سکتا ہے، اپنے وزیر خارجہ کی مخالفت کرتے ہوئے) اوراب بھی ترین کو میٹنگز میں شرکت کی اجازت دیتے ہیں ۔

حلقے کے سیاست دان قیادت سے قریب ہونے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، اور یہ کہ وقت کے ساتھ بند دروازے کھل سکتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ترین اور ان کے کیمپ کو حکومت میں ایک طرف کر دیا گیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک بار پھر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے۔ اسدعمر کو اقتدار سے دور رہنے کے فیصلے پر  نظر ثانی کرنی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ اگلے ٹائم راؤنڈ میں اسلام آباد کا ٹکٹ کوئی اور لے اڑے۔

پوسٹ سکرپٹ۔ یہ تبدیلی خان کے لیے میڈیا کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ وزارت اطلاعات پہلی وزارت تھی جس کی تبدیلی کے بارے میں کہا جانے لگا تھا۔

وزارت میں از سر نو تعمیر کے بارے میں چوہدری کے تحفظات کے علاوہ  یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خان کو ڈر تھا کہ اس تبدیلی پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میٹنگز میں اس معاملے پر اکثر بحث ہوتی ہے  اس وجہ سے میڈیا ایڈوائزرز اور سپورکس پرسنز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کے اعلان سے پہلے بابر اعوان  سمیت کئی نام گھومتے رہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ نیا ایڈوائزر الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا سکے، لیکن وہ ایسا بیانیہ پروموٹ نہیں کر سکتیں جو عمران خان کی خواہش ہے۔

یہ مسئلہ تب تک رہے گا جب تک سیاسی قائدین  یہ نہیں سیکھ لیتے کہ  میڈیا مینیجمنٹ اور کنٹرول دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *