سازشی تھیوریاں

آئیں ایک نئی کانسپریسی تھیوری پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ کچھ یوں ہے:

ملی ٹیبلشمنٹ نے اپنے پولیٹیکل انجینئرنگ ڈیزائن پر نظر ثانی کی ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ توقعات پر پورا اترنا محال ہو چکا ہے۔ عمران خان کی پارلیمانی ٹیم ایک دھچکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ کہ اس کی ناکامی کا ذمہ دار ملی ٹیبلشمنٹ کو قرار دیا جا رہا ہے  جس وجہ سے ملی ٹیبلشمنٹ کی بہت بدنامی ہو رہی ہے۔

اس سے قبل کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے، کچھ جلدی سے کرنا ہو گا۔ اس لیے ایک نیا ڈیزائن تجویز کیا گیا ہے۔ عمران خان ناکامی کا اعتراف کریں، ہاتھ کھڑے کر دیں، دعوی کریں کہ انہیں ریفارمز سے روکا جا رہا ہے، اور اسمبلیاں تحلیل کر دیں نئے الیکشن کا اعلان کریں اور لوگوں سے التجا کریں کہ انہیں 2 تہائی اکثریت سے منتخب کریں تا کہ وہ اپنا وہ فرض پورا کر سکیں جو اللہ نے انہیں سونپ رکھا ہے۔ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا جائے۔ یہ سیٹ اپ فائنانشل ایمرجنسی لگا کر سپریم کورٹ سے التجا کرے کہ جب تک ملک معاشی بحران سے نہیں نکلتا تب تک الیکشن ملتوی کیے جائیں (یا پھر جب تک عمران کو 2 تہائی اکثریت کے حصول کے قابل نہیں بنا لیا جاتا)۔ اس دوران نیب کو یہ کام سونپا جائے کہ وہ تمام زرداریوں، بھٹوں اور شریفوں کو ساتھیوں سمیت سائیڈ لائن کر کے میدان صاف کر دے۔ ڈیزائن کو عملی شکل دینے کے لیے پنجاب میں موجودہ لوکل گورنمںٹس جس میں زیادہ تر لوگ ن لیگ کے سپورٹرز ہیں، کو نئے لوکل گورنمنٹ بل کے زریعے ختم کر دیا جائے (اگلے لوگل بلدیاتی انتخابات آج سے ایک سال کی دوری پر ہیں) اور پورا صوبہ بیوروکریٹس کے حوالے کر دیا جائے۔

اس تھیوری کو ایک بڑی ڈویلیپمنٹ نے معنی خیز بنا دیا ہے۔ گورننس پر فوکس کرنے کی بجائے عمران خان نے ملک کے دور دراز کے علاقوں کے دورے شروع کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں پی ٹی آئی کی حمایت بہت محدود ہے۔ وہاں عمران کے بہت بڑے جلسے ہوتے ہیں جن میں بیوروکریسی کی طرف سے لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے۔ ان جلسوں میں عمران پی ایم ایل این ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے رہنماوں کے خلاف زہر الگتے ہیں، اور نئے پراجیکٹس اور گرانٹس کے وعدے کرتے نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے کام کوئی بھی لیڈر تبھی کرتا ہے جب الیکشن قریب ہوں نہ کہ الیکشن کے بعد۔

اگر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور ان کے ساتھی حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیں تو کیا ہو گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پلان بی پر غور کرنا ہو گا۔ پلان بی کچھ اسطرح سے ہو گا۔

آئیڈیل طریقہ جو ملی ٹیبلشمنٹ کو سب سے زیادہ مناسب رہے گا وہ یہ ہے کہ صدارتی نظام متعارف کروایا جائے جس میں عمران خان صدر ہوں اور نان پارٹی لوکل گورنمنٹ کو اختیار دیا جائے۔ اس سے قبل تمام پاکستانی ملٹری ڈکٹیٹرز نے یہی فارمولا اختیار کیا۔ اس طرح کا نظام ہاں یا ناں کی آپشن کے ساتھ ووٹنگ کے ذریعے متعارف کروایا جا سکتا ہے جیسا کہ ضیا الحق اور جنرل مشرف کے دور میں استعمال کیا گیا۔ اس طرح کی کوئی بھی قرارداد سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اکثریت کے ساتھ منظور کروانا پڑے گی۔ لیکن اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اس لیے اس طرح کی کوئی بھی کوشش سینیٹ میں بلاک ہو جائے گی۔ پلان بی یہ ہو گا کہ ملی ٹیبلشمنٹ کے حمایتی وزیر اعلی لگائے جائیں اور تمام بڑی وزارتوں پر ٹیکنوکریٹس اور بیورو کریٹس بٹھا دیے جائیں۔ انہیں ایڈوائز، سپیشل اسسٹنٹ، سیکرٹی، آئی جی پی جیسے عہدے دے دیے جائیں اور اگلے سینیٹ الیکشن تک کام چلایا جائے جو اب سے 2 سال دور ہیں۔ تب پی ٹی آئی کو سینیٹ میں برتری دلوائی جائے اور پھر صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جائے۔

پیپر پر تو اس طرح کی سیاسی چالیں قابل عمل نظر آتی ہین۔ کیونکہ ملی ٹیبلشمنٹ سب سے طاقتور ہے اور اپوزیشن تقسیم ہے اور اپوزیشن کی لیڈرشپ کو دیوار سے لگایا جا چکا ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں اپوزیشن کو ختم کرنے اور ایک پارٹی کے ذریعے ڈکٹیٹر شپ کے قیام کے لیے سیاسی انجینئرنگ  پر بہت گہرے سوال اٹھ سکتے ہیں جب ملک معاشی بحران میں گھِرا ہوا ہو اور انڈیا، افغانستان اور ایران کی طرف سے مسلسل خطرے میں ہو، امریکی جارحیت اور مداخلت سے نمٹ رہا ہو اور آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسا ہوا ہو۔ بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ ملک بھر کی تمام پارٹیوں کو انگیج کر کے قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے اور سیاسی تقسیم کی بجائے یہ طریقہ کار ملی ٹیبلشمںٹ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔ ہمیں ایک لمحے رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ اگر فروری میں بھارت کے ساتھ تنازعہ اگر شدت اختیار کر جاتا اور حکومت اور ملی ٹیبلشمنٹ کو اپوزیشن کا تعاون درکار ہوتا اور اپوزیشن انکار کر دیتی تو یقینا عمران کو اس تنازعہ کے نتیجہ میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگلی دو سال میں ہم مندرجہ ذیل حقیقی تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔ پہلی، معاشی بحران کی وجہ سے زیادہ تر پاکستانی غصے سے بپھرے ہوں گے اور پی ٹی آئی حکومت سے بیزار ہو چکے ہوں گے۔ ایک چھوٹی سی چنگاری بھی طوفان کا بیش خیمہ ثابت ہو پائے گی۔ دوسری، امریکہ سعودیہ اسرائل کی ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو سخت مسائل کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ اس دوران بھارت اور ایران کےتعلقات کو مضبوط کیا جائے گا۔ تیسری، امریکہ کا افغانستان سے انخلا ذلت آمیز ثابت ہو گا اور اس سے بچنے کے لیے واشنگٹن بھارت کے ساتھ کھڑا ہو کر پاکستان پر دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا الزام لگائے گا۔ چوتھی، اگر مودی واپس اقتدار میں آ گے تو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے نئی چالیں چلی جائیں گی۔ اس طرح کے مسائل کا جب سامنا ہو تو قوموں کو اپنے تمام ہاتھ محرک رکھنا پڑتے ہیں۔

ایک اور نکتہ جو توجہ چاہتا ہے یہ ہے کہ اینٹی اپوزیشن اور اینٹی کرپشن ایجنڈا  الیکشن کو دوران تو ٹھیک ہوتا ہے۔ جب کرپشن کے بہت زیادہ مواقع ہوں تو معاشی گروتھ کے لیے یہ بہت ضروری بھی ہوتا ہے۔ لیکن جب پاکستان سیاسی اور معاشی بحران میں گھرا ہوا ہو تو سیاسی اتفاق رائے اور بزنس کانفیڈنس  ملک کو بحران سے نجات کے لیے از حد ضروری ہوتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *