پاکستان کی عوام پر بیمار معیشت کا کتنا بوجھ ہے؟

ورلڈ بینک کے مطابق پاسکتان کی معیشت موجودہ سال میں صرف 3.4 فیصد سے بڑھے گی اور اگلے سال تک صرف 2.7 فیصد سے

ایک معمولی سی گرمیوں کی صبح تھی اور شمعون مسیح اپنے ہاتھوں سے رضائی کی سلائی کر رہے تھے۔ لحاف کو زمین پر بچھایا ہوا تھا اور سر نیچے کر کہ اپنی انگلیوں سے دھاگا تیزی سے چادر کے اندر باہر کر رہے تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے شمعون اوپر دیکھ کر اپنے بھائی سے بات کرتے جو اس چادر کی دوسری طرف بیٹھے کام کر رہے تھے۔

یہ ان کا جز وقتی پیشہ ہے۔ شمعون پاکستانی افواج کے ساتھ رنگ ساز کا کام کرتے ہیں اور انھیں اپنا گزارا چلانے کے لیے تین نوکریاں کرنی پڑتیں ہیں۔

شمعون نے شکایت کرتے ہوئے کہا ’بچے ہر وقت کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں، لیکن میں ان کو خالی جیب سے کیا لے کر دوں؟‘

شمون کی بیٹی اب سکول جانے کی عمر میں ہے، لیکن یہ اس کو بھرتی نہیں کر پائے کیونکہ وہ کہتے ہیں ان کے پاس اتنے پیسے نہیں۔

ان کا کہنا ہے ’بجلی، گیس، پیٹرول، سب کچھ اتنا مہنگا ہے۔ صرف والدین ہی بچوں کو سکول وقت پر نہ بھیج پانے کے درد سمجھ سکتے ہیں۔‘

شمعون کہتے ہیں ’ڈالر 141 روپے تک تو پہلے ہی پہنچ گیا ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ 150 تک بھی جا سکتا ہے۔ اس طرح نہیں چل سکتا۔ میں پہلے ہی تین نوکریاں کر رہا ہوں تو مستقبل میں کیا کروں گا؟‘

گذشتہ چند ماہ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے افراط زر سے پاکستانی عوام کو کافی دھچکہ لگا ہے۔ صرف ایک سال میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 23 فیصد گھٹ گئی ہے۔ اور جہاں عوام کو اس بحران کا درد محسوس ہو رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت کے اگلے دو سال مزید ہیبت ناک بتا رہے ہیں۔

حال میں ورلڈ بینک کی ’ساؤتھ ایشیا اکانومک فوکس - اکسپورٹس وانٹڈ‘ نامی رپورٹ نے پيش گوئی کی ہے کہ اس مالیاتی سال پاکستان میں مہنگائی 7.1 فیصد بڑھے گی اور اگلے سال تک 13.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

زہرہ مصطفیٰ اکیلی ماں ہیں اور وہ گھر سے کھانا بنا کر بیچنے کا چھوٹا سا کاروبار کرتی ہیں۔ زہرہ کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار پر اثر ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔

’جو گاہک مجھ سے ہفتے میں تین دفعہ کھانا منگواتے تھے وہ اب دو دفعہ خرید رہے ہیں اور ان کی کھانے میں پسند بھی بدل رہی ہے۔ درآمد شدہ اجزا سے بننے والے کھانے اب طلب نہیں کیے جاتے۔‘

زہرہ سمجھتی ہیں کہ ان کے جیسے چھوٹے کاروبار اس مہنگائی کی لہر میں گزارا نہیں کر سکیں گے جب تک حکام کوئی مداخلت نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے ’متوسط طبقے کے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر اسی طرح چلتا رہا تو زیادہ تر لوگوں کا کام بند ہو جائے گا۔‘

مہنگائی

زہرہ کے مطابق جو گاہک ان سے ہفتے میں تین دفعہ کھانا منگواتے تھے وہ اب دو دفعہ خرید رہے ہیں

’بہت سی خواتین چھوٹے پیمانے پر کوئی کاروبار چلاتی ہیں۔ عام طور پر ان کی مالیاتی حالت زیادہ مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان کو اپنی بچت پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایسے حالات میں زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔‘

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قومی قرضہ 2018 کے آخر تک مجموعی ملکی پیداوار کا 73.2 فیصد بن چکا تھا۔ 2019 میں 17 سالہ اونچے ترین 82.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

عمران خان کی حکومت پر اقتصادی بد عملی کی سخت تنقید ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئے کے وزیرِ خزانہ اسد عمر کو گذشتہ ہفتے میں اپنی وزارت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اب حکومت آئے ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ منصوبہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس ڈیل کی تفصیلات نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔

ڈاکٹر طلعت انور ایک نامور ماہرِ معاشیات ہیں اور ان کا یقین ہے کہ آئے ایم ایف کے پروگرام سے عام لوگوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

’اگر آئے ایم ایف شرائط رکھ کر پاکستان کو اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرنے پر مجبور کرے تو روز مرہ کی اشیا کی قیمتیں اور زیادہ ہو جائیں گی۔ اور اگر یہ حکومت سے شرح سود بھی زیادہ کروا لیں، جو کہ پہلے ہی 10.75 فیصد پر ہے، تو سرمایہ کاری رک جائے گی۔‘

مہنگائی

ورلڈ بینک کی 'ساؤتھ ایشیا اکانومک فوکس - اکسپورٹس وانٹڈ' نامی رپورٹ

ڈاکٹر طلعت کہتے ہیں کہ اگر سرمایہ کاری تھم جائے تو شرح نمو بھی متاثر ہو گی اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو جائیں گے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت موجودہ سال میں صرف 3.4 فیصد سے بڑھے گی اور اگلے سال صرف 2.7 فیصد سے۔

ان حالات سے پاکستان کو نکالنے میں چین بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان دوبارہ بیجنگ کے دورے پر جا رہے ہیں۔ یہ اگست کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے اور اس بار یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو فورم میں دنیا کے 40 ممالک کے سربراہوں کے سامنے خطاب کریں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ عمران خان چینی حکومت کے ساتھ تجارت اور کاروبار سے منسلک معاہدے طے کر کے آئیں گے۔

پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے اور اکثر پاکستانیوں کا یقین ہے کہ ان کی بیمار معیشت کی دوا اسی میں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چین پاکستان اقتصادی راہداری اس ملک کے تمام مسائل کا حل ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *