وزیر اعظم تاریخ کو تو بخش دیں

یہ تو چلیں مان لیا کہ زبان پھسل گئی اور فرانس کی جگہ جاپان کہہ گئے۔ پھر بھی اتنی بڑی زبان پھسلن کے لئے دل جگر چاہیے۔ کسی اور یورپی ملک کا نام لے سکتے تھے لیکن سات سمندر پار جاپان جا پہنچے۔ 
مسئلہ البتہ تھوڑا سا مختلف ہے۔ پھسلن کے علاوہ اُنہوں نے جو بات کہی وہ بھی حقیقت کے قریب نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد جرمنی اور جاپان نے (جاپان چھوڑئیے فرانس ہی مان لیتے ہیں) نے اپنے بارڈر پہ مشترکہ انڈسٹریاں لگائیں جس سے تجارت کو فروغ ملا۔ تجارت اتنی بڑھی کہ پھر ان دونوں ممالک میں جنگ کا خطرہ محال ہو گیا۔ یہ بالکل لا یعنی بات ہے اور پتہ نہیں یہ تاریخ عمران خان صاحب نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے کس کالج سے پڑھی ہے۔
عالمی حالات کے بارے میں کوئی تھوڑا سا بھی ادراک رکھے‘ اُسے معلوم ہو گا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد جرمنی اور فرانس کے حالات کیسے آگے بڑھے۔ جرمنی کی تباہی کے بعد اس کا پہلا چانسلر کونریڈ ایڈیناور (Konrad Adenauer) تھا جس نے اپنی زندگی میں ثابت کیا کہ وہ سیاستدان کم اور مدبّر زیادہ ہے۔ ایڈیناور نے یہ سمجھ لیا تھا کہ جرمنی اپنے ماضی سے تب ہی چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اور مستقبل کو تب ہی محفوظ بنا سکتا ہے جب وہ مغربی ممالک کے قریب آئے۔ یعنی اُس نے سمجھ لیا تھا کہ جرمنی کی بقا امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ اتحاد میں ہے۔ دفاعی معاہدہ نیٹو کا تو جرمنی ممبر بن ہی گیا‘ لیکن ایڈیناور اور اُن کے ساتھی اس چیز کے بھی خواہش مند تھے کہ یورپ کے مغربی بلاک کا آپس میں معاشی اتحاد بھی مضبوط ہو۔ جرمنی اُن یورپی ممالک میں شامل تھا‘ جنہوں نے مغربی یورپ میں یورپین معاشی کمیونٹی کی بنیاد رکھی جو کہ بعد میں یورپین کامن مارکیٹ کی شکل اختیار کر گئی۔ 
ایڈیناور جرمنی کا چانسلر تو پہلے ہی بن چکے تھے‘ لیکن فرانس میں جنرل ڈیگال 1958ء میں صدر بنے اور انہوں نے فرانس میں ایک نئی ری پبلک یعنی ففتھ ری پبلک (Fifth Republic) کی بنیاد رکھی اور اپنے ملک کو ایک نیا آئینی ڈھانچہ دیا‘ جس میں طاقت کا مرکز صدارت کا عہدہ تھا۔ ڈیگال کوئی کرسی پہ بیٹھنے والا (armchair) جرنیل نہیں تھا۔ جنگ عظیم دوئم میں جب فرانس کو جرمنی کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست ہوئی تو ڈیگال اُن چند فرانسیسی جرنیلوں میں سے تھے‘ جنہوں نے میدان جنگ میں کچھ مؤثر کردار دکھایا۔ فرانس کی شکست کے بعد وہ برطانیہ آ گئے اور پھر فری فرنچ (Free French) تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جنگ عظیم دوئم کے آخری ایام میں جب جرمنی کو شکست کا سامنا تھا‘ تو جنرل ڈیگال بطور ہیرو پیرس میں داخل ہوئے اور پھر جو پہلی حکومت تشکیل پائی اس کے سربراہ بنے۔ لیکن فرانس سیاسی انتشار کا شکار تھا اور ڈیگال ایک سال ہی اقتدار میں رہ سکے‘ جس کے بعد وہ سبکدوش ہو گئے اور اندرونی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے اپنے گاؤں میں مقیم ہو گئے۔ وہیں سے انہوں نے ایک نئی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا وہ توجہ کا مرکز بنتے گئے حتیٰ کہ وہ وقت آیا جب فرانسیسی قوم کا ایک بڑا حصہ اُنہیں قوم کا نجات دہندہ سمجھنے لگا۔ 1958ء میں‘ جیسے ذکر کیا جا چکا ہے‘ وہ برسر اقتدار آئے۔ 
جرمنی کا لیڈر مدبرانہ صلاحتیں تو رکھتا ہی تھا‘ اب فرانس کو بھی ایک مدبّر بطور لیڈر مل گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ایڈیناور اور ڈیگال قریب آتے گئے۔ دونوں بڑی گہرائی سے یورپین تاریخ اور اپنے دونوں ممالک کی تابناک جنگوں سے واقف تھے۔ دونوں صحیح معنوں میں تاریخ کے طالب علم تھے۔ دونوں لیڈروں کا پختہ ایمان تھا کہ اُن کے ممالک کا مستقبل تبھی محفوظ ہو سکتا ہے جب اُن کی خونیں تاریخ کو دفنایا جائے۔ وہ وقت بھی آیا جب ڈیگال نے ایڈیناور کو اپنے گاؤں کے گھر میں دعوت دی۔ ڈیگال کا گھر مناسب تھا‘ عظیم الشان نہیں‘ لیکن ایڈیناور کو باور کرانے کے لئے کہ وہ اچھے تعلقات کے بارے میں پُر خلوص ہیں‘ انہیں گاؤں کی ہی دعوت دی اور وہاں ایک رات ایڈیناور نے قیام کیا۔ رات کے کھانے کے لئے مادام ڈیگال نے پیرس کے صدارتی محل سے کوئی مدد نہ لی۔ وہاں کا نہ کوئی خانساماں نہ کوئی ویٹر گاؤں آیا۔ سب کچھ نجی طور پہ کیا گیا۔ ساری پکوائی گھر ہی میں ہوئی۔ مادام ڈیگال کے ایک بھائی کا ریسٹورنٹ کا بزنس تھا۔ اُس سے ضرور مدد لی گئی۔ لیکن کوئی صدارتی شان و شوکت اُس دعوت میں نہ تھی۔ دونوں لیڈران نے وہیں گاؤں کے گھر کے ڈائننگ روم میں کھانا کھایا اور وہیں دونوں ممالک کی دوستی کے جام اُٹھائے۔ 
ایک اور بات قابلِ ذکر ہے۔ جس بیڈ روم میں ایڈیناور نے قیام کیا اس کے ساتھ اٹیچ باتھ نہیں تھا۔ جرمنی کے چانسلر کو کاریڈور سے گزر کے باتھ روم میسر آیا۔ کھانے کی میز پہ دونوں لیڈروں نے تاریخ کی باتیں کیں، جنگوں کا ذکر دہرایا، نپولین سے لے کر ہٹلر تک اور پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ تاریخ کے اوراق بدلنے چاہئیں۔ یہ بیک گراؤنڈ ہے جرمنی اور فرانس کے تعلقات کے ارتقاء کا جنگ عظیم دوئم کے بعد۔ یہ کوئی پالیسی نہیں تھی کہ بارڈر پہ مشترکہ فیکٹریاں لگائی جائیں۔ یہ پتہ نہیں عمران خان صاحب کو کس نے بتایا ہے۔ 
جہاں تک تجارت کا تعلق ہے تو عین ہٹلر کے روس پر حملے تک روس اور جرمنی میں معاہدوں کے تحت تجارت ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ جس دن حملہ شروع ہوا اُس دن بھی روس کی طرف سے مختلف اشیاء جرمنی کی طرف روانہ تھیں۔ یہ تو ایک جملۂ معترضہ ہوا۔ بنیادی بات وزیر اعظم عمران خان کی بالکل ٹھیک ہے کہ ہمسایوں میں تعلقات ٹھیک ہونے چاہئیں۔ جب ہم پاکستان میں ہمسایوں کی بات کرتے ہیں ہمارا زیادہ تر مطلب ہندوستان کی طرف ہوتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات خراب رہے ہیں‘ لیکن کبھی اتنے خونیں نہیں تھے جتنے کہ فرانس اور جرمنی کے۔ ہماری آپس میں دو تین جنگیں ہوئیں ہیں اورکم از کم دو بڑی جنگیں سترہ دن سے زیادہ جاری نہیں رہ سکیں۔ جرمنی اور فرانس کی تو ایک لمبی تاریخ ہے۔ کتنے حملے ہوئے، کتنی جنگیں لڑی گئیں، کیا کیا تباہی نہیں مچی۔ لیکن ایک اور غلطی عمران خان کر گئے۔ اُنہوں نے جو کہا کہ جرمنی اور فرانس نے ایک دوسرے کے لاکھوں سویلین مارے یہ کوئی اتنا درست بیان نہیں۔ جنگ عظیم دوئم میں فرانس کی شکست بہت جلدی ہو گئی تھی اور پھر فرانس کے مارشل پٹین (Marshal Petain) نے مسودۂ شکست پہ دستخط کئے اور سارے فرانس پہ نہیں لیکن بیشتر حصے پہ ایک جرمن نواز حکومت قائم ہو گئی‘ جس کے سربراہ مارشل پٹین تھے۔ یعنی سویلین تباہی جس قسم کی پولینڈ یا روس میں ہوئی فرانس اُس سے بچا رہا۔ جسے دنیا کا خوبصورت ترین شہر کہتے ہیں یعنی پیرس، اس پر تو ایک گولہ بھی نہ گرا۔ جرمنی میں سویلین تباہی بہت ہوئی لیکن فرانس کے ہاتھوں نہیں۔ ہوائی بمباری میں بہت نقصان ہوا لیکن وہ بمباری امریکن اور برطانوی ایئر فورس نے کی تھی۔ فرانس تو اس پوزیشن میں نہ تھا کہ جرمنی پر بمباری کرتا۔ پھر ہولناک تباہی جرمنی میں تب ہوئی جب ایک طرف سے اتحادی افواج اور دوسری طرف سے روسی فوج نے جرمن سرزمین پہ قدم رکھا۔ خاص طور پہ روسیوں نے تو کوئی رحم نہ دکھایا۔ ان کے ساتھ ہٹلر اور جرمنی افواج نے بہت ظلم کیا تھا اور روسیوں نے انتقام بھی اُسی انداز میں لیا۔ 
مدعا یہ نہیں کہ کسی صدر یا وزیر اعظم کا تاریخ دان یا دانشور ہونا لازمی ہے۔ لیکن جب آپ پروفیسر بننے کی کوشش کریں تو حقائق تو آپ کے سامنے درست ہونے چاہئیں۔ یہ بات البتہ ٹھیک ہے کہ اگر جرمنی اور فرانس دوست ہو سکتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان دوست نہ سہی اپنی مشترکہ بے وقوفی میں تو کمی لا سکتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *