ملکی مسائل کا ٹیکنوکریٹ حل

 

کچھ دیر کے لیے تو تبدیلی قریب ہی رہی ہو گی، لیکن اس کا اچانک واقع ہونا  ایک عجیب سی صورتحال کا غماز تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد آٹھ ماہ کے اندر کابینہ  میں تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو کسی سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے۔ چند وزراء کی سبکدوشی  اور کچھ وزارتوں میں تبدیلی  اس مسئلے کے حل کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اب بے چارے وزیر اعظم اس نا خوشگوار صورتحال کا ٹیکنو کریٹک حل تلاش کر رہے ہیں۔ کیا یہ کام آ سکتا ہے؟

سلانہ بجٹ کے اعلان سے چند ہی ہفتے قبل آئی ایم ایف سے اہم بات چیت کے وسط میں ملک کے وزیر خزانہ کی تبدیلی  سے زیادہ حیران کن کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اسد عمر  میں خامیاں ضرور ہوں گی ، لیکن وہ معاشی پالیسی میں تباہی کے اکیلے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعظم کو بھی  اس  مسئلے کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی ۔

یہ حکومت اور پارٹی کے ایک اہم رکن کے لیے انتہائی تضحیک آمیز تھا کہ اسے اس طرح  حکومت سے بے دخل کر دیا جائے ۔ ان کی متوقع رخصتی کی خبر پہلے سے ہی  باہر آ گئی تھی جب کہ ابھی وہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کر رہے تھے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے گھنٹوں پہلے ان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ ان کا عہدہ محفوظ ہے۔ یقینا وہ  کافی عرصہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے تھے اور پارٹی  کے اندر سے ان کی معاشی پالیسیوں پر تنقید بھی ہو رہی تھی  لیکن کلہاڑا ان پر ایسے اچانک گرے گا یہ کوئی توقع نہیں کر رہا تھا۔

پھر دوسرے عوامل کے بارے میں بھی سوال اٹھتا ہے جن کی وجہ سے یہ تبدیلیاں رونما  کی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کابینہ میں تبدیلی کی خبر اس وقت چلنے لگی جب کچھ صحافیوں نے ملٹری قیادت سے ملاقات کی ۔ سیکیورٹٰی اسٹیبلشمنٹ معاشی بحران کے بارے میں بہت فکر مند تھی۔ مشکل میں پھنسی پی ٹی آئی حکومت نے اسے اپنا دائرہ مزید وسیع کرنے کا اختیار دیا۔ اس کا سایہ اب وسیع سیاسی معاملات پر  بھی قابل قبول ہے۔

حفیظ شیخ کی قابلیت کے بارے میں شاید کوئی شبہ نہ ہو، لیکن ان کا بطور وزیر خزانہ انتخاب اسٹیبلشمنٹ کے پالیسی معاملا ت میں بڑھتے ہوئے کردار کے  تاثر کو مستحکم کرتا ہے۔ حفیظ شیخ کا نام آخری مرحلے میں  سامنے لایا گیا ۔ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینیئر قائدین بھی  اس فیصلے سے آگاہ نہیں تھے۔

سابقہ پی پی پی حکومت میں ایک سابق وزیر خزانہ جو مشرف حکومت کے بھی اہم رکن رہے، شیخ کو پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کے حوالے سے نہیں جانا جاتا۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پی پی پی حکومت میں ان کی تعیناتی بھی اس وقت کی سیکیورٹی قیادت کی سفارشات سے عمل میں آئی تھی۔ اگرچہ وہ انتہائی تجربہ کار ماہر معاشیات ہیں، جن چیلنجز کا سامنا کرنے وہ جا رہے بہت خوفناک ہیں۔

نئے مشیر خزانہ کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار  پی ٹی آئی حکومت کی پولیٹیکل وِل پر ہے ۔ کوئی بھی اس معجزے کی توقع نہیں رکھ سکتا کہ ایک کمزور قیادت جو سخت فیصلے لینے اور انتہائی اہم تعمیراتی اصلاحات کو نافذکرنے میں کمزور ہو، کے ساتھ مل کر یہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ، معاشی اصلاحات کو کام میں لانے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہے کہ حکومت سیاسی اتفاق رائےپیدا کرے ۔ یہ ایک با صلاحیت ماہر معاشیات کی تعیناتی سے زیادہ اہم چیز ہے ۔

شیخ کی تعیناتی وزیر اعظم کے ٹیکنوکریٹس پر زیادہ بھروسے کی غماز ہے ۔ معیشت کے علاوہ، دوسری اہم وزارتوں کو اب غیر منتخب مشیروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس میں کامرس، صحت اور اطلاعات کی وزارت شامل ہیں۔ یقینا ٹیکنوکریٹس اہم ہین کیوں کہ وہ وہاں مہارت لاتے ہیں جہاں اس کی کمی ہو، لیکن پالیسی فارمیشن کو غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔

کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی اگر اس کی بنیاد سیاسی حقائق پر نہ رکھی جائے۔ پارلیمانی نظام حکومت میں ٹیکنو کریٹس پر زیادہ انحصار سیاسی عمل کو کمزور کرتا ہے۔ چونکہ پی ٹی آئی حکومت زیادہ انحصار غیر منتخب ٹیکنو کریٹس پر کرتی ہے، لہٰذا یہ پارٹی کمزور ہو گئی ہے۔

کابینہ کی تبدیلی بلا شبہ عام سیاسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ وزراء جو کارکردگی نہیں دکھاتے گھر بھیج دیے جانے چاہییں، لیکن  اس طرح کے فیصلے پارٹی اور حکومت  کے مورال کو نیچے لا سکتے ہیں ۔ جس طریقے سے تبدیلیاں ہوئی ہیں یہ کسی طرح بھی حکومتی پارٹٰ کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ کچھ نئی بھرتیا ں تو انتہائی متنازعہ ہیں۔

جبکہ شیخ کی تعیناتی ایک سرپرائز تھا، شاید خان کی سب سے متنازعہ حرکت ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی بطور وزیر داخلہ ترقی ہے، ایک وزارت جسے اس سے قبل وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ ایک سابق انٹیلی جنس بیورو چیف، شاہ اب وفاقی کابینہ میں ایک انتہائی مضبوط عہدے پر ہیں۔ اس حرکت نے یہ تاثر چھوڑا ہے کہ خان کی حکومت مشرف کے ترکے کی نمائندگی کر رہی ہے۔

اس طرح کے لوگوں کو حکومت مین شامل کرنا ایک سوال پیدا کرتا ہے  اور عمران خان کے سٹیٹس کو توڑنے کے وعدے کی بھی نفی کرتا ہے ۔ یہاں آ کر پی ٹی آئی بھی روایتی سیاستی پارٹی  ہی نظر

آئی ہے جیسا پہلی پارٹیوں کا حال ہے۔ پی ٹی آئی حکومت سابقہ حکومتوں سے مختلف نظر نہیں آتی۔ اس حقیقت نے  کہ نئے لوگوں سے پرانے زیادہ ہیں، پی ٹی آئی کے تبدیلی کی پارٹی کے دعوے کو کمزور کر دیا ہے ۔

پارٹی میں دھڑے بازی اور تقسیم اس کابینہ میں تبدیلی کے فیصلے کے بعد  اب مزید واضح ہو گئی ہے ۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت کی تبدیلی کی افواہ نے پارٹی کے اندر گروہوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ خان کے صوبائی وزراء اعلیٰ کو ساتھ مل کر کام کرنے کے انتباہ کو ایک تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن مسلسل غیر یقینی صورتحال نے بے چینی میں اضافہ کیا ہے جو کہ صوبوں میں حکومت کو مزید متاثر کر رہی ہے۔

سب سے پریشان کن بات مقتدر پارٹی کا پالیمنٹ میں کمزور ہولڈ ہے۔ بڑی حد تک جارحانہ اپوزیشن کے خلاف حکومت کا دفاع نہ کر پانے کی پی ٹی آئی کی نا اہلی نے حالیہ ادوار میں پی ٹی آئی کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ مقتدر پارٹی کے لیے ایک شرمناک صورتحال تھی جب بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ قومی اسمبلی سیشن میں حکومت اور وزیر اعظم پر سخت تنقید کی  لیکن سامنے والی نشستوں پر کوئی نہیں تھا جو ان کی تنقید کا جواب دیتا۔

جو چیز وزیر اعظم نہیں سمجھ پائیں گے یہ ہے کہ محض ٹیکنو کریٹس کی طرف مڑنے سے کام نہیں بنے گا۔ نئے چہروں سے بڑھ کر حکومت کو ایک واضح سمت کا تعین اور تبدیلی کا ویژن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *