بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

خامہ بدست کے قلم سے
ایسا ہی ہوتا ہے۔ نفرت بے پناہ ہو تو موقع بہ موقع اسکی لہریں کناروں سے باہرآتی رہتی ہیں۔ یہی معاملہ ذاتی حسرتوں کا بھی ہوتا ہے۔ ”معصوم“ سی خواہشیں دل میں گھر کر لیتی ہیں اور وقتاََ فوقتاََ سر اٹھا رہتی ہیں۔ وہ جو اقبال نے کہا تھا۔
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
”تاخیر کر سکتے ہیں، روک نہیں سکتے“ کے عنوان سے روزنامہ 92نیوز میں کالم ان ہی کیفیات کا اظہار ہے۔ اظہار الحق صاحب نے آغاز اپنے گاؤں کے ایک گریجویٹ لڑکے سے کیا ہے:وہ گاؤں کا غریب آدمی تھا۔ نسل در نسل ایک ہی پیشے سے منسلک جو سماجی ڈھانچے میں زیریں سطح پر تھا۔ معجزہ یہ ہوا کہ اس کے بیٹے نے گریجویشن کرلی۔ نوکری بھی مل گئی یہ اور بات کہ پکی نہیں تھی۔ پاس کے گاؤں سے رشتہ داروں کے ہاں اس لڑکے کی شادی ہوئی۔ اس کی دلہن نے بہ ہزار دقت سینکڑوں تکلیفیں جھیل کر گر تے پڑتے، افتاں خیزاں ایم۔اے کر رکھا تھا۔ ایسی نچلی سطح کی ذاتوں میں ایم۔اے وہ بھی لڑکی! مگر ذرائع آمدورفت کی تیزی نے بہت سی انہونیوں کو ممکن بنا دیا۔ ”ذرائع آمدورفت کی یہ تیزی“ کیااسی وزیر اعظم کے ویژن اور اس پر عملدرآمد کا نتیجہ نہیں جس پر صبح شام تبریٰ کرنا آپ نے وظیفہ حیات بنا لیا ہے۔یہ موٹر ویز، یہ شاہراہیں، ہوائی اڈے، بندر گاہیں، میٹرو بسیں، فلائی اوورز، انڈر پاسز۔ کس کا آئیڈیا تھا، کس کے دور میں ان خوابوں نے تعبیر پائی؟۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار



یوں بھی ذہانت اگر زمین، زر، جائیداد اور اقتدار کی بنیاد پر ملتی تو دنیا کا نقشہ مختلف ہوتا۔ غلام بادشاہ نہ بنتے اور تخت وتاج کے وارث گلیوں میں خس وخاشاک کی طرح نہ بھٹکتے پھرتے۔ ذہانت کی بنیاد دولت ہوتی حسن نواز اور حسین نواز جیسے پیدائشی کھرب پتی سالہا سال برطانیہ میں رہ کر آکسفورڈ، کیمبرج یا لندن سکول آف اکنامکس سے کم از کم ایک آدھ ڈگری ضرور لے لیتے۔ دیکھا، گاؤں کے غریب خاندان کے لڑکے اور لڑکی کی تعلیم سے شروع ہونے والی بات حسن اور حسین کو طعنہ زنی تک جاپہنچی۔ کہا عالم فاضل کالم نگار کو واقعی علم نہیں کہ حسین نے 1990sمیں لندن سے بیرسٹری کی۔ یہ الگ بات کہ وہ اپنے نام کے ساتھ بیرسٹر نہیں لکھتا کہ وہ صنعت کار ہے، وکالت کو اس نے پیشہ نہیں بنایا۔ آپ نے لندن آف سکول اکنامکس کا نام لیا اور کیا دلچسپ حقیقت ہے کہ اکتوبر1999میں جب آپ کے ممدوح پرویز مشرف نے ایک آئینی حکومت کا تختہ الٹا، منتخب وزیر اعظم کو حوالہئ زنداں کیا اس کے پورے خاندان کو عتاب کا نشانہ بنایا۔ گھر کے بزرگ،بچے اور خواتین بھی نظر بند کردیں گئیں، حسن اس وقت انگلینڈ میں لندن سکول آف اکنامکس ہی کا طالب علم تھا۔ آپ نے اس بار”شہزادی“ کو معاف رکھا، اطلاعاً عرض ہے کہ اس کیPHDسیاست کی نذر ہوگئی لیکن انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری اس کے پاس ہے۔ فاضل کالم نگار کسی اور زخمت فرمائیں اور الیکشن کمشن کے دفتر جاکر اس کا ریکارڈ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ایک دن اس (ایم اے پاس غریب لڑکی)کا سسر میرے پاس آیا کہ پنجاب پبلک سروس کمشن نے ملازمتوں کا اشتہار دیا تھا۔ بہو نے بھی عرضی دی ہے۔ کسی طرح یہ معلوم کرادیجئے کہ انٹرویو کے لیے کال لیٹرجاری ہونے کا امکان ہے یا نہیں؟ایک سابق وفاقی سیکرٹری سے، جوریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب پبلک سروس کمشن کے رکن تعینات تھے، خاص سلام دعا اور علیک سلیک تھی۔ ایک دومشترکہ دوست بھی تھے۔ کبھی اعدادوشمار نکال کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس کمشن کے زیادہ ترارکان لاہور سے ہیں یا وسطی پنجاب کے دیگر علاقوں سے۔بہت سے ایسے ہیں جنہیں آل شریف کے ساتھ وفاداری نبھانے کے صلے میں ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں نصب کیا جاتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ آل شریف کے ساتھ وفاداری یا لاہور اور وسطی پنجاب سے تعلق والے اس الزام کی حقیقت کیا ہے؟ تو گویا فاضل کالم نگار پبلک سروس کمیشن کے ممبرز کو علاقائی یا لسانی رنگ دینا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *