”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

خامہ بدست کے قلم سے
قسم تونہیں کھائی تھی لیکن ارادہ خاصا پختہ تھا کہ اس شخص کے ذکر سے اپنا قلم آلودہ نہیں کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے قوتِ ارادی کے حوالے سے ہمارا معاملہ خاصا کمزور رہا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی یہی معاملہ درپیش ہے۔ گزشتہ چند سال میں میڈیا میں اچانک کچھ دانشور، تبصرہ نگار اور تجزیہ کار کہیں اوپر سے آدھمکے ہیں جنہیں کہنے والے”پیراٹرویر“ بھی کہتے ہیں اور موصوف بھی ان ہی میں شمار ہوتے ہیں۔ ”جنگ“ میں ”اعمال نامہ“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔”جیو نیوز“ کے شام کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ کے بھی مستقل شرکا میں شامل ہوتے ہیں اور اتنے ”ڈیوٹی فل“ ہیں کہ اس میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ اس پروگرام میں زیر بحث آنے والے سوالات شرکاء کو پہلے ہی واٹس ایپ کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ ان کے حوالے سے ضروری تیاری کرکے آئیں۔ موصوف کی باری آتی ہے تو لکھا ہوا پڑھتے ہیں، شاید ہی کوئی ایک آدھ لفظ ”منہ زبانی“ ادا ہوتا ہو۔ بحث کے دوران کوئی نیا سوال سامنے آئے تو اس کا جواب بھی، موبائل کی سکرین پر موجود ہوتا ہے۔ (”سکرپٹ رائٹر“کی ایفی شینی یقینا قابل داد ہے۔)
جنگ میں ”سر! اللہ آپ کو صحت دے!“کے عنوان سے موصوف کا تازہ کالم زیر نظر ہے۔ عنوان ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ میاں صاحب کی صحت پر لکھا گیا ہے۔ ”وہی ہوا جو ہونا تھا، میا ں صاحب کی سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست، حسبِ توقع نوازشریف کا کہنا کہ میرا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ باہر جانے کی پابندی ختم کی جائے۔ ضمانت میں توسیع کی جائے۔۔۔لیکن میاں صاحب کی صحت کے متعلق یہ رپورٹ”لفافہ ڈاکٹروں“ کی نہیں، نامور ملکی وغیر ملکی ڈاکٹروں کی ہے، جس کے مطابق تین بار کے سابق وزیر اعظم، دل، گردوں اور ذیابطیس کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ 6ملکی اور 4غیر ملکی ڈاکٹروں کی رائے ہے۔ 26مارچ کو سپریم کورٹ کی طرف سے 6ہفتے کی ضمانت بھی سینئر ڈاکٹروں کی رپورٹس کی بنیاد پر تھی۔ ضمانت پر رہائی کے بعد بھی سات بار اپنے اپنے شعبے کے نامور ڈاکٹر ان کا طبی معائنہ کرچکے۔ اور ان ہی کی رپورٹس کو ضمانت کی نئی درخواست کی بنیاد بنایا گیا ہے۔۔۔آگے چل کر کالم نگار موصوف کا وہی گھساپٹا رونا: نوازشریف 3بار وزیر اعظم، دومرتبہ وزیر اعلیٰ رہے، بھائی شہبازشریف 3بار وزیر اعلیٰ۔ پنجاب میں رنجیت سنگھ کے بعد سب سے زیادہ حکمرانی ہاؤس آف شریفس کی۔ لیکن ایک ایسا ہسپتال نہ بن سکا جہاں نوازشریف کا علاج ہوسکے، ایک ایسا ڈاکٹر نہیں جو میاں برادران کا علاج کرسکے۔ کیا موصوف کو واقعی علم نہیں کہ لاہور، پنجاب اور پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک، ہسپتال اور ڈاکٹر موجود ہیں جو دل، گردے اور ذیابطیس کے ماہر ہیں، پنجاب میں دل کے پہلے سپیشلسٹ ہسپتال (پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی) کا تو افتتاح بھی میاں صاحب نے اپنے دور وزارتِ اعلیٰ میں کیا تھا۔ خود شریف فیملی کے اپنے ٹرسٹ ہسپتال (اتفاق اور شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں بہترین سہولتیں موجود ہیں) پرائیویٹ شعبے میں بھی بہترین (اور مہنگے) ہسپتال موجود ہیں، لیکن میاں صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اس سے پہلے دوبار دل کے بڑے آپریشن سے گزر چکے ہیں۔ سات سٹنٹ پڑ چکے ہیں،چنانچہ ان کا دل کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے، اسی باعث سینئر موسٹ ڈاکٹروں کی رائے یہی ہے کہ وہ لندن کے ان ہی ڈاکٹروں سے علاج کرائیں، جنہوں نے پہلے سرجری کی تھی۔ ویسے موصوف کالم نگار، ان میں شامل ہیں جو میاں صاحب کی گزشتہ ہارٹ سرجری کا بھی مذاق اڑاتے رہے۔ بیگم کلثوم نواز (مرحومہ)کی جان لیوا بیماری کو بھی سیاسی ڈرامہ قرار دیتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

کیا وہ قید سے نجات چاہتے ہیں؟ پرانی باتوں کو چھوڑئیے، جب معزول وزیر اعظم نے12اکتوبر 1999کی شب، 3باوردی اور مسلح شخصیات کی طرف سے مشروط رہائی کی پیش کش مسترد کردی تھی۔ پھر دس ستمبر2007ء کو اسلام آباد میں زبردستی آمد بھی جیل جانے کے لیے ہی تھی، لیکن ڈکٹیٹر نے انہیں اسلام آباد سے جدہ بھجوادیا۔ پھر 13جولائی2018کو اپنی بیٹی سمیت لندن سے لاہور آمد(جب انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال اورسات سال سزاسنائی جاچکی تھی) کیا کسی بزدل اور کمزور اعصاب کے حامل باپ، بیٹی کا کام ہوسکتا ہے؟
گورنرپنجاب چودھری محمد سرور خود اپنی پارٹی میں زیر عتاب ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کی تحریک انصاف کے حامی قلم کار ان کے حوالے سے خوب طبع آزمائی کررہے ہیں۔ فاروق عالم انصاری نے نوائے وقت میں اپنے کالم ”خامہ بستی“ میں گورنر صاحب کی خبر لی ہے۔ ”صاف پانی اور مال پانی“ کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ گورنر صاحب کی سرور فونڈیشن کے ”صاف پانی“ منصوبے کو مال پانی بنانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ سرور فونڈیشن کے لیے ٹاؤن ڈویلپروں سے کروڑوں روپے چندہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ اگر گورنرشپ اور ڈویلپمنٹ اتھارٹیز(جن کی سربراہی گورنر صاحب نے اپنے وفاداروں کو سونپ رکھی ہے) درمیان میں نہ ہوں تو سرور فونڈیشن کے لیے اتنا چندہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ پی ٹی آ ئی کے گھر کی گواہی ہے۔ شاید گورنرصاحب کے ”استعفے“ کے ساتھ نیب کے سرگرم ہونے کی خبر بھی زیادہ دُور نہیں۔۔۔!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *