بینگنیات۔۔۔

 

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر دنیا میں بینگن نہ ہوتے تو کیا حیدرآباد دکن والوں کا اس سنسار میں دل لگتا ؟ اور ابھی ابھی میرے دل میں یہ خیال اس لیے آیا ہے کیونکہ ابھی ایک حیدرآبادی دوست سے بینگن کی ایک اور نئی ڈش چِنتا چٌگُر کا نام سنا ۔۔۔ بہت عجیب سا لگا۔۔۔ کتنا عجیب سا ؟ یہ نہیں بتاؤں گا ۔۔۔ بس سنتے ہی ہاتھ اپنے آپ کانوں کو جالگتے ہیں ۔۔ ممکن ہے یہ کھانا بھی اتنا ہی عجیب سا ہو۔۔۔ میں نے صرف عجیب کہا ، عجیب و غریب اس لیے نہیں کہا کہ بینگن بیچارہ پہلے ہی بڑا غریب دکھتا اور طبقاتی استحصال کا مارا ہوا سا معلوم ہوتا ہے البتہ شہر دلدار و نگرِ طرح دار یعنی دکن والوں کی بات الگ ہے جو کہ اس کرہء ارض پہ بینگن کے سب سے بڑے سرپرست ہیں اوربلاشبہ سب سے فضیلت مآب ماہر بینگنیات ہیں کیونکہ انہوں نے تو اس سبزی کے اندر ذائقے کے وہ وہ امکانات ڈھونڈھ نکالے ہیں کہ قورمہ اور کڑھائی احساس کمتری کا شکار ہوچلے ہیں، یوں وہ ایک طرح سے بینگن کے برانڈ ایمبیسیڈر کا درجہ بھی رکھتے ہیں ۔ہماری دانست میں ریاست حید رآباد کے نظاموں نے جتنی توجہ نت نئی غذائی فتوحات اور بینگن پروری پہ رکھی ، اگر اس سے کچھ کم ریاستی فوج کو بھی میسر آجاتی تو ریاست کا نظام کبھی نہ بگڑتا اور انکی مملکت خداداد کی باگیں بھی انکے ہاتھ سے نہ جاتیں ۔

ویسے حیدرآبادیوں کے علاوہ اسے جو تھوڑا بہت الطاف میسر ہے وہ پرانی نسل کا ہے ورنہ نئی نسل تو بینگنوں سے یوں دور بھاگتی ہے کہ جیسے ہینڈ گرینیڈ پکالیے گئے ہوں اور فی زمانہ تو اسے پکانے میں اتنی محنت نہیں لگتی کہ جتنی نئی نسل کو یہ کھانا کھانے پہ راضی کرنے میں لگتی ہے کیونکہ بینگن کا نام سنتے ہی انکی رنگت بینگنی سی ہوجاتی ہے مگر ہمارے خواجہ صاحب کو اس سے بڑا لگاؤ ہے اور وہ اس بابت بہت چاؤ برتتے ہیں لیکن بالآخر کاٹ کھاتے ہیں ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بینگن کو ڈھنگ سے پکایا جائے تو کمال ذائقہ آتا ہے ، لیکن جب ہم نے ان سے استفسار کیا کہ ذرا یہ تو بتائیے کہ بھلا کونسا ایسا کھانا ہے کہ جو اگر ڈھنگ سے پکایا جائے تب بھی ذائقے سے محروم رہ جائے تو انہوں نے جھلا کے ہمیں بینگن روسیاہ کا رقیب رو سیاہ ٹھہرادیا حالانکہ کبھی کبھی بینگن ہمارے دسترخون پہ بھی تاج سنبھالے براجمان دکھائی دیتا ہے اور ہمارے بچوں کے جذبات کا خوب بھرتہ بناتا ہے ۔ ذاتی طور پہ تو ہمیں اس سے کوئی کدورت نہیں کیونکہ ہمارے خیال میں کدورت تو مسلسل کدو پکنے سے ہی پیدا ہوتی ہے-

ویسے بینگن کی تھوڑی بہت قبولیابی میں بینگن بیچنے والوں کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ہر بینگن والا اسے اسکے سر پہ موجود تاج کے باعث سبزیوں کا سرتاج بتاتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ فی زمانہ گھر میں پڑے سرتاج اور ٹھیلے پہ دھرے اس سبزیوں کےسرتاج کی عزت کے احوال ایک جیسے ہی ہیں ۔ جہاں تک تعلق ہے بینگن کے فوائد کا ، تو اس بارے میں ہمیں اب تک بس یہی کنفرم ہوا ہے کہ اسکا اصل فائدہ بینگن بیچنے والے ہی کو ہوتا ہے ۔ ہماری بیگم اسکا بھرتہ بڑے واضح جوش و خروش سے بناتی ہیں اور پتا نہیں کیوں ہمیں ہمیشہ ایسا لگا کہ بھرتہ بناتے وقت ہم انکے تصور میں ہوتے ہیں ۔۔ البتہ بگھارے بینگن بنانا انکے بس کی بات نہیں کیونکہ جب بھی بنائے ہیں وہ بگھارے نہیں بھگائے بینگن معلوم ہوئے ہیں اورہر نوالہ شکووں سے لبریز محسوس ہوا ہے۔ ذاتی طور پہ ہمیں بگھارے بینگن بہت مرغوب ہیں چنانچہ رفع شر اور تحفظ اشتہاء کے لیے ہم 10 کلومیٹر دور واقع اپنے شہر کراچی کی مشہور حیدرآباد کالونی میں اسکےمخصوص پکوان ہاؤسز کے سینٹوں سے یعنی خاص دکانوں سے بگھارے بینگن خرید لاتے ہیں البتہ اس بارے میں خواجہ کی تنقیدی رائے یہ ہے کہ وہاں کے دکاندار آج تک اسکے کسی ایک ذائقے پہ متفق نہیں ہوسکے ۔۔ ہمارے خیال میں شاید جس باورچی کے جیسے مختلف گھریلو معاملات ہوں انکی ویسی ہی جھلک انکے ذائقوں میں بھی اتری ہوئی ملتی ہے ۔

پروفیسر خیالی اپنی تحقیق کا پشتارہ یوں نچوڑتے ہیں کہ ” بیچارہ بینگن اس حوالے سے بھی احساس کمتری کا مارا ہوا ہے کہ تاریخ میں اسکے حوالوں اور باشاہوں کے نوالوں میں اسکا تذکرہ نہیں ملتا سوائے اکبری عہد کے ایک واقعے کے “ اور وہ واقعہ آپکو ہم بتاتے ہیں جو کچھ یوں ہے کہ ایک روز شاہی دستر خوان پہ بہت سے کھانوں کے ساتھ بینگن کی ڈش بھی رکھی گئی اور اس وقت بادشاہ شاید ترنگ میں تھا ۔ دیکھتے ہی لہرا کے بولا ۔ یہ بینگن بھی خوب شے ہے ۔ ایک دم منفرد رنگ اور الگ سا ذائقہ ۔۔۔ ہر وقت خوشنودی کو بیتاب بیربل حسب توفیق خوشامد کی خاطر پکارا ” حضور اسی لیے قدرت نے اسکے سر پہ تاج رکھا ہے اور اسے سبزیوں کا بادشاہ بنایا ہے “ ۔۔ حسب توقع بادشاہ سمیت سارا دربار عش عش کر اٹھا ۔۔۔ لیکن تاریخ میں یہ نہیں لکھا کہ بیربل کو اس تبصرے پہ ملا کیا، لیکن ہماری بدگمانی یہ ہے کہ شاید اسکا منہ موتیوں‌کی بجائے بینگنوں سے بھر دیا گیا ، جبھی چند ماہ بعد ایک بارپھر شاہی دسترخوان پہ بینگن بھی چنا گیا اور اس وقت کسی سبب بادشاہ نے اسے دیکھا تو اسکا پہلے سے موڈ خراب تھا اور بیگن دیکھتے ہی چلا اٹھا ، بیربل یہ بیگن کیا واہیات سبزی ہے ، اسکی شکل تو دیکھو کس قدر کالا کلوٹا سا ہے اور کتنا بے ڈھب سا ۔ جس پہ بیربل نے لقمہ دیا ” حضور اسی لیے لوگ اسے بہت کم منہ لگاتے ہیں کیونکہ کیسا بھی پکاؤ کھانا بھی کالا کلوٹا ہی پکتا ہے “ ۔

تاریخ پھر یہ نہیں بتاتی لیکن میرا قیاس ہے کہ اب کے اکبر نے اسکا منہ بینگنوں سے نہیں بھروایا ہوگا جبھی حسد کا مارا مُلا دوپیازہ جل بھن کر بعد میں اس سے یوں گویا ہوا ” یہ کیا بات ہوئی بیربل ؟ چند روز پہلے تو تم بینگن کی مدح میں قصیدے پڑھ رہے تھے اور آج تم نے اسکی ناقدری کی انتہاء کردی ! “ اس پہ بیربل بولا ” میں شہنشاہ کا ملازم ہوں ، بینگن کا نہیں ۔۔ ہم چونکہ ایسے منتخب معاملے میں تاریخ سے سبق سیکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے لہٰذا اسی ضمن میں ہمارے پرانے مضامین پڑھ چکے ناقدین بھی اچھی طرح یہ سن لیں کہ ہم اپنی بیگم کے شوہر ہیں ، بینگن کے نہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *