جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

جائز تعریف کے حوالے سے،
تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

خامہ بدست کے قلم سے
1980ء کی دہائی میں مارگریٹ تھیچر انگلستان کی وزیرِ اعظم تھیں۔ اپنی زور دار شخصیت اور جرأت مندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ”آئرن لیڈی“ کہلاتیں (اردو میں خاتونِ آہن“ کہہ لیں) ایک انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے ناقدین کے خیال میں آپ کی کامیابی پالیسیوں اور جرات مندانہ فیصلوں کا کریڈٹ دراصل آپ کے وزیروں اور مشیروں کو جاتا ہے جس پر مارگریٹ تھیچر کا جواب تھا: لیکن وزیروں اور مشیروں کے طور پر ان کا انتخاب کس نے کیا؟ اس کا کریڈٹ کسے جائے گا؟۔
ہمیں یہ بات روزنامہ دنیا میں رؤف کلاسرہ کے تازہ کالم پڑھ کر یاد آئی۔ ”لاہور کے ایک بیوٹی پارلر کی کہانی“ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
شہبازشریف خیبر پختون خوا حکومت سے ایک نیک نام ڈی ایم جی افسر ڈاکٹر راحیل صدیقی کی یہ شرط مان کر پنجاب ریونیو اتھارٹی کے چیئر مین کے طور پر لائے تھے کہ وہ ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ایک دن ڈاکٹر راحیل صدیقی کو پتہ چلا کہ لاہور شہر میں بیوٹی پارلر والے ٹیکس چوری کررہے ہیں۔ دلہنوں سے میک اپ کے نام پر لاکھوں لینے والے ٹیکس نہیں دے رہے تھے۔ شام کو بڑے بڑے پارلرز کو سیل کردیا گیا۔ ساتھ ہی میڈیا میں خبر یں چلنا شروع ہوگئیں کہ شہر کے اہم پارلر بند ہوگئے ہیں کیونکہ وہ ٹیکس نہیں دے رہے تھے۔ تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ ڈاکٹر راحیل صدیقی کو ایک نمبر سے فون آیا۔ پتہ چلا کہ وہ شہبازشریف کے تیسرے گھر سے تھا۔ ڈاکٹر راحیل صدیقی کو کہا گیا: فوری طور پر فلاں بیوٹی پارلر کھول دیں۔ اب راحیل صدیقی کے لیے بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا کیونکہ وہ تو قع نہیں کررہے تھے کہ گھر سے فون آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیکھتے ہیں کیا ہوسکتا ہے۔ فون بند ہوگیا۔ کچھ دیر بعد پھر فون آیا تو ڈاکٹر راحیل صدیقی نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، رابطہ نہیں ہورہا۔ وہ مسلسل ٹالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ راحیل صدیقی کو یاد آیا کہ اس معاملے میں شہبازشریف نے پالیسی گائیڈ لائنزدی ہوئی تھیں کہ اگر گھر سے کسی کا سفارش کے لیے فون آئے تو کیا کرنا تھا۔ ڈاکٹر راحیل صدیقی نے شہبازشریف کے سٹاف افسر کو فون کرنے شروع کردیے۔ جواب نہ ملا۔ ایک طرف بیگم صاحبہ مسلسل فون پر فون کررہی تھیں کہ پارلر کیوں نہیں کھولا، تو دوسری طرف شہبازشریف کا سٹاف افسر فون نہیں اٹھا رہاتھا۔ ڈاکٹر راحیل صدیقی پھنس گئے تھے کیونکہ وہ یہ افورڈ نہیں کرسکتے تھے کہ جس پارلر کو انہوں نے کچھ دیر پہلے سیل کیا تھا اور پورے چینلز پر خبریں چل گئی تھیں، وہ اب اسی کے تالے کھول دیں اور پھر ٹی وی پر خبریں چلیں کہ ریونیو اتھارٹی ڈر گئی ہے۔ جب دوبارہ فون آیا تو ڈاکٹر راحیل صدیقی نے محترمہ کو بتایا کہ مسئلہ بن جائے گا، لیکن وہ بضد تھیں کہ فوراً تالے کھولے جائیں جبکہ ڈاکٹر صدیقی کی یہ کوشش تھی اس وقت تک ٹالا جائے جب تک ان کا رابطہ شہبازشریف کے سٹاف افسر سے نہیں ہوجاتا۔ڈاکٹر صدیقی اب پھنس گئے تھے۔ ایک طرف ان کی ڈیوٹی تھی تو دوسری طرف ان کا مزاج تھا اور وہ اس معاملے میں بات سننے کو تیار نہ تھے۔ انہیں پتہ تھا اگر ایک کاکھول دیا تو پھر سب کے تالے کھولنے پڑیں گے۔خیر کافی دیر بعد شہبازشریف کے سٹاف افسر کا فون آیا، جب اسے یہ میسج بھیجا گیا کہ بہت ارجنٹ معاملہ ہے، ڈاکٹر راحیل صدیقی نے بتایا: جناب یہ معاملہ ہے۔ اب ان پر شہبازشریف کے تیسرے گھر سے دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ ان کے پسندیدہ پارلر کو فوراً کھول دیا جائے۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا: اگر ایک کھولنا ہے تو پھر وہ سب کو کھول دیں گے۔ پھر کرلیں اکٹھا ٹیکس۔ سٹاف افسر نے کہا کہ وہ ابھی واپس کال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟
بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

 

تھوڑی دیر بعد فون آیا اور صدیقی صاحب سے پوچھا گیا: بیگم صاحبہ نے بدتمیزی تو نہیں کی تھی یا جواباً ان کے ساتھ بدتمیزی تو نہیں کی گئی تھی۔ یہ بات افسران کو بتادی گئی تھی کہ شہبازشریف کے گھر سے فون آئے اور افسران کا م نہیں کرسکتے تو بالکل نہ کریں، لیکن تہذیب سے انکار کیا جائے۔ اس طرح شہبازشریف صاحب نے گھر بھی بتایا ہوا تھا کہ آپ لوگ میرے علم میں لائے بغیر فون کریں گے تو تہذیب سے فون ہوگا۔ ڈاکٹر راحیل صدیقی نے سٹاف افسر کو بتایا کہ محترمہ نے بدتمیزی نہیں کی لیکن اصرار بڑھتا جارہاہے۔ اس پر ڈاکٹر صدیقی کو کہا گیا: آپ وہی کریں جو آپ کو کرنا چاہیے اور فون بندہوگیااور پھر وہی پارلر اس وقت کھلا جب اس پارلر نے ٹیکس جمع کرایا۔ اتنی سی دیر لگتی ہے یہ سب ٹیکس اکٹھے کرنے میں اگر آپ اپنے افسران کو کچھ اعتماد دیں اور ساتھ میں کمپنیوں کی بدمعاشی او ربلیک میلنگ کے آگے جھکنے سے انکاری ہو جائیں لیکن سوال یہ ہے ڈاکٹر صدیقی جیسے کتنے افسران اپنی نوکریاں داؤ پر لگاسکتے ہیں؟۔کیسا ایمان افروز واقعہ ہے جو کلاسرہ صاحب نے بیا ن کیا۔ لیکن ٹیکس جمع کرنے کے لیے ایک ایماندار افسر کا انتخاب اور پھر یہ ہدایت کہ ”گھر“ سے بھی سفارشی فون آئے تو قانون اور قاعدے ضابطے سے روگردانی نہیں کرنی۔ اس کا کریڈٹ بھی ”کسی“کوجاتا ہے یا نہیں؟ ”خادم پنجاب“ کے سوا کون ہے، جو اس کریڈٹ کا مستحق ہو۔ ایک پرانی بات یادآئی،یہ شہبازشریف صاحب کی پہلی وزارتِ اعلی(1997-99)کی بات ہے؟۔بیگم کلثوم نواز صاحبہ مرحومہ کی ایک قریبی دوست کی صاحبزادی بہاولپور میڈیکل کالج کی طالبہ تھی۔ بیگم صاحبہ نے وزیر اعلیٰ سے اس کے لاہور میں مائیگریشن کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کا جواب تھا کہ اس کے لیے متعلقہ قواعد وضوابط کو دیکھنا ہوگا۔ اور قواعدو ضوابط کے مطابق یہ مائیگریشن نہیں ہوسکتی تھی۔ چنانچہ یہ کام نہ ہوسکا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *