ایشیائی ترقیاتی بینک سے پاکستان کو بجٹ سپورٹ کیلئے ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان

بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مثبت اشارے ملنے کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جلد ہی پاکستان کو بجٹ سپورٹ کے لیے ایک ارب ڈالر دینے پر رضا مند ہوگیا کیونکہ حکومت نے سماجی اقتصادی اور مالیاتی ردعمل پر اپنے بڑے قرضوں کی اکثریت میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے 52 ویں سالانہ اجلاس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اے ڈی بی کے صدر تکی ہیکو ناکاؤ کا کہنا تھا کہ ان کے بینک کو پاکستان کی جانب سے اس کے آئی ایم ایف پروگرام اور برسوں کے اے بی ڈی کے بڑے آپریشن کے علاوہ بجٹ سپورٹ کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی درخواست موصول ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم آئی ایم ایف پروگرام پر مذاکرات کے اچھے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں اور اگر یہ پروگرام وہاں ہوگا تو ہم بجٹ سپورٹ اور دیگر پالیسی قرضوں کو بہت جلد بڑھانے میں خوش ہوں گے‘۔

تاہم تکی ہکو ناکاؤ نے اسی دوران آئی ایم ایف کے مسلسل بیل آؤٹ پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان ادائیگیوں کے توازن کی حمایت کے لیے مسلسل آئی ایم ایف کے پاس گیا، مسلسل آئی ایم ایف کا دورہ کرنا یہ اچھا خیال نہیں، یہ بہتر ہے کہ زیادہ مضبوطی اور ثابت قدمی سے ادائیگیوں کے تواز اور مالی معاملات کو حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اپریل میں پاکستانی حکام اور ایک وزیر (ڈاکٹر عشرت) سے ملاقات کی اور اے ڈی بی کی فجی کانفرنس کی سائڈ لائن پر مذاکرات کیے جبکہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ قریبی رابطے میں بھی تھے۔

تکی ہیکو ناکاؤ کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہے کہ جمہوری عمل سے متعلق مخلتف نظریات کے باوجود اب آئی ایم ایف کا وہاں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منیلا میں قائم قرض دینے والا ادارہ آئی ایم ایف پروگرام کی بنیاد پر پاکستان کی حمایت کرنے کو تیار ہے کیونکہ پاکستان کے پاس جمہوری استحکام کو یقینی بنانے کا اچھا موقع تھا جو اس کے اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔

علاوہ ازیں اے ڈی بی کے صر اور آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مٹسوہیرو فوروساوا کے ساتھ اعلیٰ سطح بات چیت میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان مالیاتی ذمہ داری اور قرض کے حد کے قانون کی خلاف ورزی کررہا تھا کیونکہ جی ڈی پی کے تناسب سے اس کا قرض 60 فیصد کی حد کے بجائے 72 فیصد سے تجاوز کرگیا تھا جو ایک سنگین مسئلے کا باعث بن سکتا تھا۔

انہوں نے اس خیالات/سوالات کہ پاکستان کے قرض کا مسئلہ چینی قرض کا نتیجہ ہے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ 100 ارب ڈالر کے کل بیرونی قرض کا 11.5 فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔

تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ مجموعی عوامی قرض اور واجبات کے ساتھ پاکستان کے قرض کا مسئلہ جی ڈی پی کے 72 فیصد سے آگے چلا گیا ہے، اس 72 فیصد میں سے تقریباً 40 فیصد میچورٹی کمرشل بینکوں، قومی بچت اور مرکزی بینک سے لیا گیا مقامی قرض تھا جس نے پبلک فنانس پر بہت سنگین ردعمل دیا کیونکہ گذشتہ برس ملک کی آمدنی کا 37 فیصد قرض سروسنگ پر چلا گیا تھا اور یہ اس سال 40 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 33 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا کیونکہ اس نے ترقیاتی پروگرام میں خلل ڈال دیا تھا اور سماجی شعبے کی بہتری پر اثر پڑا تھا جبکہ غربت کے خاتمے کی کوششیں بھی متاثر ہوئی تھی لیکن اصل چیلنج داخلی محاذ پر ہے اور اب بیرونی عوامی قرض اور واجبات جی ڈی پے کا تقریباً 33 فیصد ہوگئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *