”شریفوں کی سیاسی باتیں“

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

”شریفوں کی سیاسی باتیں“
اورکالم نگار کی یادداشت کا مسئلہ۔۔۔

خامہ بدست کے قلم سے
معاملہ ”شریفوں“ کا ہو تو ان کا قلم ”کوڑا“ بن جاتا ہے اور معتوب خاندان کی پیٹھ پر خوب برستا ہے۔ ”دنیا“میں تازہ کالم”سیانے شریفوں کی سیانی باتیں“ اس کی ایک اور مثال ہے۔ آغاز مشرف دور میں شریف خاندان کی جلا وطنی سے ہوتا ہے۔”پتہ نہیں، عرب دنیا میں کہاں کہاں سے ان کے ہمدرد نمودار ہوئے جنہوں نے مشرف پر دباؤ ڈالا کہ نوازشریف کو جانے دیں“۔چلیں، آپ نے یہ اعتراف تو کیا کہ جلا وطنی میں اصل محرک عربوں کا ڈکٹیٹر پر دباؤ تھا۔ اس کے لیے شریف خاندان نے منت ترلے نہیں کئے تھے۔ باقی رہی ”کہاں کہاں سے“ والی بات، تو سب کو معلوم ہے، یہ سعودی عرب کے عبداللہ بن عبدالعزیز تھے، جو اُس وقت ولی عہد تھے، بعد میں بادشاہ بنے اور 1998کے ایٹمی دھماکوں کے بعد انہوں نے ریاض میں شاہی خاندان کی طرف سے عشائیہ میں نوازشریف کا ہاتھ بلند کرکے کہاتھا، یہاں موجود باقی شاہزادے میرے ہاف برادر ہیں جبکہ نوازشریف میرا ”فل برادر“ ہے۔
فاضل کالم نگار نے جلا وطنی کے دوران شہبازشریف کی جدہ سے نیو یارک روانگی کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کے بقول، عذر وہی پرانا تھا کہ ریڑھ کی ہڈی میں درد رہتا ہے اور نیو یارک کے علاوہ کہیں کوئی علاج ممکن نہیں۔ یہاں کالم نگار موصوف کی یاد داشت نے ساتھ نہیں دیا، شہبازشریف کو ریڑھ کی ہڈی کا نہیں،دماغ میں سرطان کا مسئلہ درپیش تھا۔ اس کے لیے انہوں نے امریکہ میں باقاعدہ علاج کرایا تھا۔ اب بھی وہ سالانہ چیک اپ کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ادویات استعمال کرتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں: ان سے اقرار نامہ لیا گیا کہ واپس آئیں گے لیکن کس بدبخت نے واپس آناتھا۔ نیویارک سے لندن آئے اور ہیتھروایئر پورٹ پر ان کی کمر کو پھر سے شدید درد لاحق ہوگیا۔ ایک دوست قسم کا ڈاکٹر ایئر پورٹ آیا جس نے رپورٹ لکھی کہ یہ تو جہاز پر سفر کے قطعاً قابل نہیں۔ ایئر پورٹ سے واپس لندن چلے گئے اور پھر وہیں کے ہوگئے۔لیکن تصویر کا حقیقی رخ یہ ہے کہ پاکستانی اخبارات میں اشتہار ہوا جس میں سبزہ زار لاہور پولیس مقابلہ کیس میں شہبازشریف کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ اس پر شہبازشریف نے خود کو حوالہئ عدالت کرنے کے لیے لندن سے لاہور کا رخ کیا۔ لیکن ڈکٹیٹر کے حکم پر انہیں لاہور ایئر پورٹ پر جہاز سے باہر ہی نہ نکلنے دیا گیا اور انہیں ایئر پورٹ ہی سے جدہ بھجوادیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟
”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟
بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

ذوالفقار علی بھٹو ،عمران خان ،نوازشریف اور عثمان بزدار

فاضل کالم نگار نے ستمبر2007میں نوازشریف کی وطن واپسی کی کوشش کو دس سالہ جلا وطنی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیاہے۔ لیکن ایسے کسی معاہدے کو خود سپریم کورٹ کاغذ کا ایک پرزہ قرار دے چکی تھی، نوازشریف 10ستمبر2007کو لندن سے اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچے تو یہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرنے کے سوا کیا تھا۔ لیکن ڈکٹیٹر تو نوازشریف کے پاکستان کی سرزمین پر موجودگی کے تصور ہی سے خوف زدہ تھا(چاہے، وہ جیل ہی میں ہوں) چنانچہ انہیں اسلام آباد ایئر پورٹ سے جدہ کی طرف دھکیل دیا گیا۔
اور یہ تو کل کی بات ہے، احتساب عدالت سے دس سال کی سزا پانے کے بعد وہ لندن میں بسترمرگ پر اپنی اہلیہ کو سپردِ خدا کرکے اپنی بیٹی کے ساتھ (جسے 7سال قید کی سزا سنائی جاچکی تھی) جیل جانے کے لیے لاہور پہنچ گیا۔ حالانکہ ”بڑوں“ کی طرف سے اسے پیغام پہنچایا جاچکا تھا کہ وہ وطن واپسی کی بجائے لندن ہی میں رہے۔ اس کے لیے بیگم صاحبہ کی عیادت کا جواز بھی موجود تھا۔ یہ اس کی (اور اسکی صاحبزادی کی)جرأت مندانہ واپسی ہی تھی کہ تمام دیدہ اور نادیدہ رکاوٹوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) کو قومی سطح پر دوسری سب سے بڑی (اور پنجاب میں سنگل لارجسٹ پارٹی) بننے سے نہ روکا جاسکا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *