موبائل فون آپ کی زندگی مختصر کر رہا ہے. چونکا دینے والی سائنسی تحقیق

 

" کیتھرائن پرائس "

اگر آپ بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ہیں تو آپ نے فیصلہ کر لیا ہو گا کہ آپ فون پر گھورنے میں بہت محدود وقت صرف کریں گے۔

یہ بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ بہت سے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جو وقت ہم اپنے سمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں وہ ہماری نیند، خود داری، رشتوں، یادداشت، توجہ دینے کے دورانیہ، تخلیقی کارکردگی، پروڈکٹوٹی، مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

لیکن فون سے اپنے رشتے پر نظر ثانی کا ایک اور بھی مقصد ہو سکتا ہے۔ کورٹیسول جو کہ سٹیرس کے ہارمونز کو کہتے ہیں کے لیول کو بڑھا کر ہمارے موبائل فونز ہماری صحت کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اور ہماری زندگی کو بھی مختصر کر دیتے ہیں۔

ابھی تک فون کے بائیو کیمیکل اثرات کے بارے میں جو ڈسکشن ہوتی رہی ہے اس کا محور ڈوپامائن نامی ایک برین کیمیل رہا ہے جو ہمیں عادتیں بہتر کرنے اور ایڈیکشن سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔

سلاٹ مشینوں کی طرح سمارٹ فونز اور ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ وہ ڈوپامائن کی ریلیز کا باعث بنتی ہیں اور ہمارے لیے فون سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔ ہمارے ڈوپامائن سسٹم پر اثر انداز ہونے کا یہ عمل بہت سے ماہرین کے مطابق ہمارے فون سے جڑے رہنے کی عدات کا باعث بنتا ہے۔ لیکن ہمارے فونز کے کارٹیسول کے اثرات اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

کارٹییسول ہمارا پرائمری فائٹ یا فلائٹ ھارمون ہوتا ہے۔ اس کے اخراج سے جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن میں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں تیزی، بلڈ شوگر، جیسے عمل وجود پذیر ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہمیں بڑے جسمانی خطرات  کے مقابلہ میں تحفظ ملتا ہے۔ اگر آپ واقعی کسی جسمانی خطرہ سے دو چارہیں تو یہ اثرات زندگی بچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ بپھرے ہوئے بیل کا سامنا کر رہے ہوں۔ لیکن ہمارے اجسام جذباتی سٹریسرز کے جواب میں بھی کارٹیسول ریلیز کرتے ہیں جن میں بڑھتی ہوئی دل کی دھڑکن زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر آپ اپنا فون چیک کریں اور آپ کو اپنے باس کی طرف سے ایک ڈانٹ بھری ای میل موصول ہو جائے۔

دن میں صرف چار گھنٹے

اگر یہ صرف کبھی کھبار ہو تو فون کے نتیجہ میں ابھرنے والے کارٹیسول کا شاید کوئی خاص اثر نہ پڑے۔ لیکن مومنٹ نامی ٹریکنگ ایپ کے مطابق ہر امریکی شہری اوسطا دن میں 4 گھنٹے اپنے موبائل کی سکرین پر گھورتے ہوئے گزارتا ہے اور تقریبا 24 گھنٹے فون کو ہاتھ کے فاصلہ کے اندر رکھتا ہے۔ گوگل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موبائل ڈیوائسز جن پر سوشل میڈیا کے کئی نیٹ ورکس کا انبار لگا ہوتا ہے، ای میلز ہوتی ہیں اور نئی نئی ایپس موجود ہوتی ہیں۔  ایسے موبائلز پرسنل سٹریس اور فرض کا احساس جگائے رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ سکول آف میڈیسن کے کلینیکل سائیکاٹری کے پروفیسر اور سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ٹیکنالوجی ایڈیکشن کے بانی ڈاکٹر ڈیوڈ گرین فیلڈ نے بتایا۔ "جب آپ کا فون آُپ کے سامنے یا قریب موجود ہو، یا آپ اس کی آواز سنیں یا محسوس کریں کہ آپ کو آواز آئی ہے تو آپ کا کارٹیسول کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ یہ سٹریس کا ایک ریسپانس ہوتا ہے اور یہ عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ جسم کا فطری ریسپانس یہ ہوتا ہے کہ فون کو چیک کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے تا کہ سٹریس سے نجات حاصل کی جا سکے۔

اگرچہ ایسا کرنے سے کچھ دیر کے لیے سکون مل سکتا ہے لیکن طویل المدتی لحاظ سےدیکھا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ جب بھی فون چیک کرتے ہیں تو یہ امکان ہوتا ہے کہ آپ کوئی ایسی بات دیکھیں گے جو آپ کے سٹریس میں اضافہ کرے گی اور کارٹیسول میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ آپ کو ایک بار پھر فون چیک کرنے کی خواہش محسوس ہو گی تا کہ آپ اپنی بے چینی سے نجات پا سکیں۔ یہ سلسلہ جب بار بار دہرایا جائے گا تو کارٹیسول کے لیول میں ایک مسلسل اضافہ نظر آئے گا۔

دھیرے دھیرے بڑھتا کارٹیسول لیول بڑے صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے جن میں ڈیپریشن، موٹاپا، میٹابولک سنڈروم، ضیابیطس، بے اولادی، بہت بڑھتا ہوا بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، نیند کی کمی اور سٹروک جیسی بڑی اور خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔

ہر طویل المدتی بیماری میں سٹریس کی وجہ سے شدت آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ لسٹیگ  جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانس فرانسسکو کے پروفیسر اور شہرہ آفاق کتاب 'دی ہیکنگ آف امیرکن مائنڈ' کے مصنف ہیں نے بتایا۔ ان کہا کہنا ہے کہ "ہمارے موبائل فونز بیماری اور سٹریس کی وجوہات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں"۔

سمارٹ فون سٹریس

اس کے طویل المدتی صحت کے مسائل کے علاوہ سمارٹ فون کی وجہ سے پیدا ہونے والے سٹریس کی وجہ سے ہماری زندگی خطرات سے دو چار ہو سکتی ہے۔

بڑھتا ہوا کورٹیسول لیول پری فرنٹل کارٹیکس کو خراب کرتا ہے۔ یہ دماغ کا ایسا حصہ ہے جو فیصلہ سازی اور سوچ سمجھ کے معاملات سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر لسٹیگ کہتے ہیں: دماغ کا پری فرنٹل کارٹیکس دماغ کے جیمینی کرکٹ جیسا ہے۔ یہ ہمیں احمقانہ حرکات سے باز رکھتا ہے۔ پری فرنٹل کارٹیکس کی خرابی سے سیلف کنٹرول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب اس کے ساتھ اینگزائٹی سے نجات کی خواہش شامل ہو جائے تو یہ ہمیں ایسی چیزیں کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جو کچھ دیر کے لیے تو شاید سٹریس سے نجات دلا ئیں لیکن یہ چیزیں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں جیسا کہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے میسج کرنا۔

سٹریس کے اثرات اس وقت بھی بڑھ جاتے ہیں جب ہم مسلسل اس خوف میں مبتلا رہیں کہ ہمارے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے جیسا کہ کسی قسم کا جسمانی حملہ یا سوشل میڈیا پر کیا گیا تبصرہ وغیرہ۔

بروس میک ایون جو کہ راک فیلر یونیورسٹی کے نیوروانڈوکرینالوجی کے ہیرالڈ اینڈ میرگیرٹ میلیکین ہیچ لیبارٹری کے سربراہ ہیں نے بتایا: جو بھی کام ہم کرتے ہیں، جس عمل سے گزرتے ہیں یہ سب چیزیں ہماری فزیالوجی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ہمارے دماغ کے سرکٹ کو تبدیل کر کے ایسے بنا دیتی ہیں کہ ہم سٹریس کے خلاف رد عمل کا اظہار کریں۔ ڈاکٹر میک ایون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دماغ کے اندر بیس لائن کورٹیسول لیول 24 گھنٹے کے دوران اوپر نیچے جاتے رہتے ہیں  اور اگر ہم روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند نہ لیں تو یہ تسلسل خراب ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو سونے سے قبل فون چیک کرنے کی بیماری ہے تو آپ اس خطرہ سے آسانی سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ پھر ہمارے اجسام سٹریس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور سٹریس سے متعلقہ بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر ان سب باتوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے اور اس دورانیہ پر نظر دوڑائی جائے جو ہم فون چیک کرنے پر صرف کرتے ہیں تو یہ وقت کے ضیاع سے کہیں آگے کی چیز معلوم ہوتی ہے۔

اس سائیکل کو کیسے ختم کیا جائے

اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم اینگزائٹی کے سائیکل کو توڑ دیں تو ہم اپنے کورٹیسول لیول کو کم کر سکتے ہیں جس سے ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے اور طویل المدتی سٹیرس سے متعلقہ بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ ایک عرصہ کے بعد، یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے دماغ پر اس قدر کنٹرول حاصل کر لیں کہ ہم سٹریس کے رد عمل سے گریز کرنے کی عادت پیدا کر لیں۔

اپنے موبائل کو سٹریس کی وجہ بننے سے بچانے کے لیے آپ کو چاہیے کہ سارے نوٹیفکیشن بند کر دیں اور صرف وہی نوٹیفیکیشن آن رکھیں جن کی آپ کو ضرورت ہے۔

اس کے بعد ان ایپس پر غور کریں جو آپ استعمال کرتے ہیں کہ وہ آپ کے احساسات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسی کونسی ایپس ہیں جو آپ اینگزائیٹی کیو جہ سے استعمال کرتے ہیں؟ ایسی کونسی ہیں جو آپ کو سٹریس میں مبتلا کرتی ہیں؟ ان سب ایپس کو اپنی ہوم سکرین کے علاوہ کہیں ایک فولڈر میں چھپا دیں۔ یا پھر کچھ دنوں کے لیے یہ ایپس ڈیلیٹ کر دیں اور دیکھیں کہ اس سے کیا مثبت اثر پڑ سکتا ہے؟

جب آپ کوئی ایپ استعمال کر رہے ہوں یہ بھی دیکھیں کہ ہر ایپ انفرادی طور پر آپ پر کیا جسمانی اثرات رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنے جسمانی احساسات سے واقف نہیں ہوں گے تو ہم اپنے رویے بدل نہیں پائیں گے۔ ڈاکٹر جڈسن بریوور نے کہا جو براون یونیورسٹی کے مائنڈ فل نیس سینٹر کے ریسرچ اور انوویشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہین اور مشہور کتاب 'دی کریونگ مائنڈ' کے مصنف ہیں۔ ڈاکٹر برویور کے مطابق سٹریس اور اینگزائٹٰ جسمانی طور پر سینے میں کھنچاو کا باعث بنتے ہیں۔

اپنے جسم کی کیمسٹری کو بیلنس کرنے اور اپنے اوپر کنٹرول کے احساس کو زندہ رکھنے کے لیے ان ایپس سے کچھ دنوں کی دوری بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ 24 گھنٹے کی ڈیجیٹل سبت بھی بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن صرف کھانے کے اوقت میں ہی فون کو کچھ دیر کے لیے دور رکھ دینا بھی درست سمت کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ آپ اپنے دماغ کے اندر اینگزائٹی سے پیدا ہونے والی موبائل سے محبت کے تنیجہ میں پیدا ہونے والے احساسات کو بھی سمجھنے  کی کوشش کر سکتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو انکے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیلیفورنیا کے سپرٹ راک میڈیٹیشن سینٹر کے ایک بدھ مت کے ٹیچر نے کہا: اگر آپ اپنے اندر کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ فیصلہ کر پائیں گے کہ آپ اس کا کیا رد عمل ظاہر کریں گے۔ اس کے لیے ہمیں الگوریتھم کے رحم و کرم پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں جن کی بدولت انسان کو کوئی چیز کھو دینے کا خوف گھیر لیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے موبائل فونز کے ذریعے صحت مند اقدامات ممکن نہیں رہتے جن کا ڈیزائن ہی صحت کی خرابی کے لیے تیار کیا گیا ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سٹریس کے لیول کو کم کر کے ایسا کرنا ہمیں نہ صرف بہتر محسوس کرنے میں مدد کرے گا بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ  یہ ہماری زندگیوں کو طوالت بخش دے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *