ڈاکٹرز کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

" طارق محمود "

ایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قراردیا گیا ہے۔ اور دین کے علم کے بعد بدن کے علم کو فضلیت دی گئی ہے۔ بڑے عظیم ہیں وہ لوگ جو دکھی انسانیت کی خدمت کی راہ چن لیتے ہیں۔ اس خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اور اسے ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ دکھ درد میں مبتلا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ معاشرے کے لیے آسانیاں اور کار خیر انجام دیتے ہیں۔ انہی افراد میں شعبہ صحت میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل و نرسنگ سٹاف بھی شامل ہے جو کہ سرکاری اور نجی شعبہ میں چوبیس گھنٹے مریضوں کی خدمت میں ہمہ تن گوش رہتا ہے ان کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ خطرناک، موزی امراض اور زخمیوں کو نہایت شفقت و پیار اور رحم دلی و ہمدردی کے ساتھ یہ افراد خدمات انجام دیتے ہیں۔ اور یہ عوامل ان کی تربیت کا حصہ ہیں۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ عید ہو یا کوئی مذہبی تہوار ان کو کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ اور یہ طبقہ مسلسل خدمات کی فراہمی میں مصروف نظر آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں گزشتہ چند سالوں سے عدم برداشت اور تشدد کا رویہ پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ جس پر مجھ سمیت ہر باشعور پاکستانی کو تشویش ہے۔ آئے روز سرکاری وغیر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ورثاء و لواحقین کی طرف سے ڈاکٹرز، پیرا میڈکس، نرسنگ سٹاف کو تشدد کا نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حتی کہ خدمات انجام دینے والی خواتین سٹاف کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو خدمات فراہم کرنیو الے ڈاکٹر ز و دیگر سٹاف کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات ملک بھر میں رونماں ہو چکے ہیں۔ مگر صوبائی و قومی حکومتیں ان سانحات سے نمٹنے کے لیے کوئی موثر قانون سازی کرنے کے لیے نہ تو تیار ہیں اور نہ ہی پہلے سے موجود قوانین پر عمل در آمد کر کے پر تشدد عناصر کو نکیل ڈالنے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز و دیگر سٹاف دلبرداشتہ ہر کر بیرون ممالک کا رخ کرتا جا رہا ہے۔ اور ایسے حالات میں کہ جب وطن عزیز میں پیرا میڈیکل سٹاف و ڈاکٹرز کی پہلے سے کمی ہے صحت عامہ کے مسائل اور بھی گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔ اور علاج معالجہ کی سہولیات عوام سے دور ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹرز کی کوشش مریض کی جان بچانا ہے وہ شدید مرض اور حادثات میں زخمی افراد کی جان بچانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ زندگی اور موت پر اختیار صرف اللہ تعالی کی ذات کو ہے مریضوں کے لواحقین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اپنے محسنوں کے ساتھ ناروا سلوک نہ رکھیں۔ ڈاکٹرز کو بھی چاہیے کہ مریضو ں کے لواحقین اور مریضوں سے مشفقانہ اور محبت بھرا رویہ اختیار کریں۔ ڈاکٹرز پر تشدد کو روکنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے صوبائی و قومی حکومتوں کو قانون سازی و اقدامات کرنے کی طرف توجہ دینی ہو گی۔ تاکہ انسانیت کی خدمت کرنے والا یہ طبقہ بلا خوف و خطر دل جمعی کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت کر سکے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *