پھر وہی کنجِ قفس۔۔۔۔

رؤف طاہر

فیض صاحب نے کہاتھا:
چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں /تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں /آج بازار میں پابہ جولاں چلو/دست افشاں چلو، مست ورقصاں چلو/خاک برسر چلو، خوں بہ داماں چلو/راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو/حاکمِ شہر بھی،،مجمعِ عام بھی/تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی/صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی/ان کا دم سازاپنے سواکون ہے/شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟/دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟/رختِ دل باندھ لودل فگاروچلو/پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار وچلو
لیکن نوازشریف آج (منگل کی) شب جاتی امرا سے سوئے زنداں روانہ ہوں گے، تو ایک مختلف منظر ہوگا۔ 7مئی سپریم کورٹ سے ضمانت پر 6ہفتے کی رہائی کا آخری دن ہے۔ بارہ بجے شب یہ مہلت ختم ہوجائے گی۔ مسلم لیگ نے جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل تک اپنے قائد کے سفر کو یاد گار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج پہلا روزہ ہے، سورج کے تیور بدل رہے ہیں۔ میاں صاحب کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ (ن) متوالوں کو تکلیف نہ دے۔ لیکن ادھر”تمنابے تاب“ والا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بقول یہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ عوام اور کار کنوں کی طرف سے اپنے قائد کے ساتھ محبت کا اظہار ہوگا۔
جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، یہ جیل میں میاں صاحب کا تیسرا ماہ صیام ہے۔ 1999میں پہلا رمضان تھا جو انہوں نے جیل میں گزارا۔یہ کراچی کی لانڈھی جیل تھی۔12اکتوبر 1999کے ٹیک اوور کے بعد وہ ایک مہینے سے زائد قید تنہائی میں رہے۔ نومبر میں کراچی کی اینٹی ٹیررزم کورٹ میں طیارہ ہائی جیکنگ کیس شروع ہوا تو انہیں لانڈھی جیل منتقل کردیا گیا(9دسمبر کورمضان المبارک کا آغاز ہوا)۔ 7 اپریل2000کو اینٹی ٹیررزم کورٹ کے جج رحمت حسین جعفری نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی(تیس لاکھ روپے جرمانہ اس کے علاوہ تھا) جس کے بعد انہیں اٹک قلعے منتقل کردیا گیا۔
اسی آمد ورفت کے دوران، یوں بھی ہوا کہ طیارے میں ان کے ہاتھ اور پاؤں نشست کے ساتھ باندھ دیئے گئے۔ نواب زادہ (مرحوم) بتایا کرتے تھے کہ ایک میٹنگ میں انہوں نے اس پر احتجاج کیا تو ایک سینئر اخبار نویس نے (جو،اب اگلے جہاں پہنچ چکے)یہ جواز پیش کیا کہ یہ اہتمام ملزم/مجرم کی سکیورٹی کے لیے کیا گیا تھا۔ جس پر بزرگ سیاستدان بھڑک اٹھے:کیا اس نے اُڑتے ہوئے جہاز سے چھلانگ لگا دینی تھی؟میاں صاحب ابھی اٹک قلعے ہی میں تھے، جب 27نومبر 2000کو رمضان کا آغاز ہوا۔10دسمبر کو چودھویں روزے وہ جلا وطنی کے سفر پر روانہ ہوگئے۔
جلاوطنی کے ایام میں ان کا معمول تھا کہ نصف شب کے بعد بیگم صاحبہ (مرحومہ) کے ساتھ جدہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوتے۔ (سحری کا سامان ساتھ ہوتا) تہجد کے نوافل،پھر سحری اور نماز فجر کے بعد جدہ لوٹ آتے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ مدینہ منورہ گزارتے۔ یہاں حرم کے ساتھ ہی ایک ہوٹل میں پورا فلور بُک ہوتا۔مسجد نبوی میں افطاری کے بعد، ہوٹل میں ڈنر ہوتا۔ یہاں پاکستان سے آئے ہوئے دوست احباب بھی شریک ہوتے۔ مسجد نبوی میں نماز عید کے بعدواپسی،جہاں اگلے روز جدہ کے احباب کے ساتھ عید ملن ہوتی۔
جنوری 2006میں میاں صاحب جدہ سے لندن چلے گئے۔ دس ستمبر2007کو وہ جلا وطنی کی پابندی توڑتے ہوئے لندن سے اسلام آباد پہنچے(چیف جسٹس افتحار محمد چودھری والی سپریم کورٹ جلا وطنی کے معاہدے کو کاغذ کا بے معنی ٹکڑا قرار دے چکی تھی)، لیکن انہیں ایئر پورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔جہازکا رخ لندن کی بجائے جدہ کی طرف تھا۔
لیکن اب میاں صاحب کا قیام سرورپیلس کی بجائے ”الحمرا“ میں حسین نواز کے قصرالشریف میں تھا۔ دوسرے ہی دن وزیر خارجہ سعود الفیصل اور سعودی انٹلی جنس کے سربراہ پرنس مقرن تشریف لائے۔ وہ شاہ عبداللہ کا پیغام لائے تھے۔ جنرل مشرف نے10ستمبر کو میاں صاحب کی دوسری جلا وطنی کے لیے شاہ عبداللہ کو اعتماد میں لینے کے لیے رابطہ کیاتو شاہ نے بے نظیر صاحبہ کی واپسی کا پوچھا جس پر مشرف نے انہیں یقین دلایا کہ وہ بھی واپس نہیں آئیں گی، جس پر شاہ نے واضح کردیا کہ اگر محترمہ وطن واپس آئیں تو وہ نوازشریف کو بھی واپسی سے نہیں روکیں گے۔ رمضان المبارک کی چوتھی شب تھی، جب شاہ عبداللہ جدہ تشریف لائے اور نماز تراویح کے بعد، میزبان اور مہمان کی طویل ملاقات ہوئی۔ نومبر 2007میں وطن واپسی کے بعد نوازشریف کا رمضان المبارک کے آخری ایام مدینہ منورہ میں گزرارنے کا معمول برقرار رہا۔
گزشتہ رمضان2018میں ابھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس والے ریفرنس کا فیصلہ نہیں آیا تھا (البتہ 28جولائی2017کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت وہ وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے ساتھ، عمر بھر کے لیے کسی سیاسی وانتخابی منصب کے لیے نااہل قرار پاچکے تھے) 25جولائی 2018کے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم جاری تھی۔21مئی کو پانچواں روزہ تھا۔ اس روز گرمی بھی بلاکی تھی اور افطار سے پہلے ہمارے ضلع بہاولنگر کے شہر چشتیاں میں میاں نوازشریف کا جلسہ تھا(مریم نواز بھی ہمراہ تھیں) یہاں سے مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے طاہر بشر چیمہ، ”جنوبی پنجاب صوبہ محاذ“کے راستے، تحریک انصاف میں شامل ہوچکے تھے۔طاہر چیمہ کے بھائی طارق بشیرچیمہ، مسلم لیگ(ق) کے کوٹے سے عمران خان کی کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ ہیں) الیکشن میں طاہر بشیر چیمہ کی صاحبزادی فاطمہ بشیر چیمہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی امید وار تھیں۔ رمضان المبارک کامہینہ اور بلا کی گرمی، لیکن نوازشریف کے جلسے کے لیے خلقِ خدا یوں امڈ کر آئی کہ یہ برسوں یاد رہنے ولا پولیٹیکل ایونٹ بن گیا۔ اس ایک جلسے نے پوری ضلع کی سیاست کا رخ موڑ دیا اور ضلع بہاولنگر سے قومی اسمبلی کی تینوں نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیت لیں۔ چشتیاں سے احسان الحق باجوہ اور بہاولنگر سے عالم داد لالیکا۔ سب سے دلچسپ صورتحال ہارون آباد والی سیٹ پر ہوئی۔ یہاں جنرل ضیاء الحق کے فرزند، ہمارے موڈی بھائی، اعجاز الحق کو مسلم لیگ(ن) کے نورالحسن تنویر نے ہرادیا۔ (ضلع سے صوبائی اسمبلی کی چھ نشستیں بھی ن لیگ نے جیت لی تھیں)
نوازشریفپہلی بار12اکتوبر 1999سے10دسمبر2000تک حوالہئ زنداں رہے۔ 6جولائی 2018کو ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال قید کی سزا پائی (مریم کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال سزا ہوئی)تب باپ بیٹی، بیگم صاحبہ کی عیادت کے لیے لندن میں تھے اور اگلے ہی ہفتے خود کو قانون کے سپرد کرنے لاہور پہنچ گئے۔ گیارہ ستمبر کو بیگم صاحبہ کے انتقال پر،باپ بیٹی اڈیالہ جیل سے پیرول پر رہا ہوئے۔15ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس والی سزا معطل کرتے ہوئے، ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔ 24دسمبر کو نیب کورٹ نے ”العزیزیہ“ میں سات سال کی سزا سنادی۔ (اس کیس میں مریم نہیں تھیں) 26مارچ کو سپریم کورٹ سے طبی وجوہات کی بنا پر ملنے والی6ہفتے کی رہائی کا آج آخری دن ہے۔جس کے بعد پھر وہی کنجِ قفس،وہی تنہائی۔ زنداں میں کہی گئی فیض کی ایک اور نظم یاد آئی۔
صبا نے پھر در ِ زنداں پہ آ کے دستک دی
سحر قریب ہے،دل سے کہو نہ گھبرائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *