مزاح ِکبیرہ

دوست احباب کی کتابوں کی تقاریب میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے اور آج چونکہ میرے لیے سچ بولنے کا دن ہے تو میں ایک اعتراف کر رہا ہوں اور وہ یہ کہ حرام ہے کبھی کسی کتاب کو پڑھ کر کر اس کی تقریبِ میں گئے ہوں۔ ہو تا یہ ہے کہ دوست نے کتاب بھیجی اورمیں نے اپنی سستی کی وجہ سے اس کو بڑی عقیدت سے چوما اور پھر سائیڈ پر رکھ دیا۔ ایسی تقاریب میں اپنے عزیز دوست نوخیز اختر کے ساتھ اکثر جانے کا اتفاق ہوتا ہے چنانچہ راستے میں ہی ڈسکس کرتے ہیں کہ زیر بحث کتاب میں کیا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس پر کیا کہنا چاہیے۔ یا پھر اگر کسی دوست نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہو تو ہال میں پہنچ کر دوران تقریب سرگوشی کے انداز میں اس سے پوچھ لیتے ہیں کہ اس کتاب کے مین پوانٹس کیا ہیں۔۔۔خواتین و حضرات: یہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے آج یہاں میری کتاب کی تقریب ہو رہی ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ باقی سارے دوست تو وہی ہیں۔۔ ایسے میں یہاں تشریف فرما مہمانوں میں سے جب کوئی صاحب کسی دوسرے سے کوئی سرگوشی کرتا ہے تو مجھے فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ کیا بات ہورہی ہے۔ ان حالات میں آپ میں سے جوصاحب بھی میری کتاب کے دو چار صفحے پڑھ کر آئے ہیں میں اُن کا خاص طور پر شکر گزار ہوں۔ میرے خیال میں سٹیج پر موجود معزز مہمانوں کے علاوہ اس تقریب کے اصل مہمان بھی وہی صاحب ہیں۔
حس مزاح اللہ تعالیٰ کی دین اور ایک بڑی نعمت ہے میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ حسِ مزاح کے ہونے سے سارے دکھ درد ختم ہو جاتے ہیں لیکن اتنا ضرور ہوتا ہے کہ یہ کسی حد تک قابلِ برادشت ہو جاتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جناب قاسمی صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ ضمیر انسان کو گناہ سے روکتا نہیں بس اس کا مزا کرکرا کر دیتا ہے۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ حسِ مزاح آپ کی پریشانی کو روکتی نہیں لیکن ایک حدتک اُس کی شدت کم کر کے اُسے اپنی اوقات میں رکھتی ہے۔
تو گویاحس مزاح کا ہونا ایک بڑی بلیسنگ ہے لیکن دوسری طرف اگر آپ میں یہ حِسّ موجود ہو اور آپ کے آس پاس رہنے والوں میں نہ ہو تو اس سے بڑا عذاب بھی کوئی نہیں۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ خواتین میں حسِ مزاح نہیں ہوتی (ظاہر ہے آ ّجکل سچ بولنا اتنا آسان بھی نہیں) لیکن بیگمات میں تو مجھے یہ حسِ بالکل نظر نہیں آئی۔ بیوی میں حسِ مزاح تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے آجکل کسی سمجھ دار انسان کو تلاش کرنا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ انسانوں کی ایک قِسم ایسی ہے جنہیں حسّ مزاح چھو کر بھی نہیں گزرتی ۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دامے درہمے سخنے احمق ہوتے ہیں۔انہیں آپ کوئی بہت مزاحیہ لطیفہ بھی سنائیں تو یہ بجائے ہنسنے کے آپ کے منہ کو دیکھتے رہیں گے۔ اور آپ کو باقاعدہ بتانا پڑتا ہے کہ لطیفہ ختم ہو چکاہے لیکن یہ پھر بھی نہیں ہنسیں گے۔ دل کرتا ہے آدمی اپنا سر پھوڑ لے۔ دنیا میں خود کشی کی شرح ایسے ہی زیادہ نہیں ہورہی اس میں ایسے مخبوط الحواس لوگوں کا بھی حصہ ہے۔ اس حوالے سے لوگوں کی ایک اور قسم اس سے بھی خوفناک ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو لطیفہ سننے کے بعدبجائے ہنسنے کے اس کا پوسٹمارٹم شروع کر دیتے ہیں ۔ مثلاً اگر آپ ایسے کسی آدمی کو وہ پرانا لطیفہ سنائیں کہ ایک خاتون نے ایک مُرغا پال رکھا تھا۔ایک دن اس کے خاوند کو بخار ہو گیا۔یہ اپنے میاں کے پاس آئی اور کہنے لگی میں آپ کو ابھی مُرغے کی ٰیخنی بنا کے دیتی ہو ں۔ مُر غے نے یہ بات سُنی تو گھبراگیا اور اُس خاتون کے پاس آکر بولا،”بی بی جی! آپ ایک دفعہ صاحب کو پیناڈول دے کر دیکھ لیں شاید وہ ٹھیک ہو جائیں ورنہ میں تو حاضر ہوں۔ ۔۔ اب اس لطیفے پر مسکرانے کی بجائے وہ صاحب انتہائی سنجیدگی سے پوچھیں گے، ”جناب ! یہ بتائیے ایک مُرغا کیسے بول سکتا ہے“ ۔ بندہ پوچھے۔۔ ابے گدھے ! اگر آپ جیسا ایک گدھا بول سکتا ہے تو مُرغا کیوں نہیں بول سکتا۔۔۔ پھر ایک تیسری قسم اس سے بھی اذیت ناک ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدترین قنوتیت کا شکار ہوتے ہیں اور ہر چیز کا صرف منفی پہلو دیکھتے ہیں۔ یہ لوگ چیلنج کرتے ہیں کہ انہیں کوئی ہنسا کر دکھائے۔ میرے محلے میں ایک کروڑ پتی حاجی صاحب رہتے ہیں جواس تیسری قسم کے بانی ممبران میں سے ہیں ۔ حاجی صاحب کی حس دولت کے علاوہ تمام حسیات بچپن سے ختم ہیں۔ تاریخ نے آج تک اُن کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی ۔ حاجی صاحب میرے قریبی دوست ہیں۔اُن کے ساتھ دوستی کی ایک وجہ تو ظاہر ہے اُن کا کروڑ پتی ہونا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قدر مایوسیت کے باوجود مزاح کے حوالے سے وہ محلے کے دوسرے لوگوں سے بہتر ہیں۔ اس سے آپ میرے باقی محلے کا اندازہ لگا لیں۔اس بہار کے موسم کا آغاز تھا۔ ایک شام میں نے حاجی صاحب کو گھر پہ بلایا ہم چھت پر بیٹھے کافی پی رہے تھے۔سامنے تازہ پھول کھلے ہوئے تھے۔ بہار کی خوشبودار ہوا چل رہی تھی ۔ میں نے حاجی صاحب سے کہا، ” جناب! کیا شاندار موسم ہے۔اور کیسی تازگی بھری فضا ہے۔ اس خوبصورت موسم میں یوں کافی سے لُطف اندوز ہونا آپ کو کیسا لگ رہا ہے۔؟“۔ تھوڑی دیر جواب نہ آیا تو میں نے دیکھا کہ حاجی صاحب نے گھٹنوں میں سر دیا ہوا ہے اور پھر جیسے کسی گہرے کنویں سے اُن کی اواز آئی۔” دیکھیں ملک صاحب! یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ہمیں ایک دن موت بھی توآنی ہے۔ مجھے جیسے کرنٹ لگا میں نے کہا ”حاجی صاحب! آپ کو ابھی موت آئے “۔یعنی آپ نے سارا خوبصورت موسم برباد کر کے رکھ دیا۔ سو! اس طرح کے لوگ حسِ مزاح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔حس مزاح کو تباہ کرنے والے دیگر عناصر میں سے پاکستانی خبرنامہ دوسرے اور احمقوں کی صحبت تیسرے نمبر پر ہیں جب کہ اس حوالے سے بیگمات آج بھی پہلے نمبر پر موجود ہیں۔اگر کسی بندے کو ایسی بیگم نصیب ہو تو تو یاد رکھیں اُس کی صرف حسِ مزاح ہی ختم نہیں ہو تی۔ اور ساتھ اگر سسرال بھی اُسی پائے کا مل جائے تو پھر صرف یہ دنیا ہی تباہ نہیں ہوتی۔ میرے ایک دوست کے سسر اسی طرح کے ہیں۔سسر صاحب جب اس کے گھر آتے ہیں تو کشتیاں جلا کے آتے ہیں۔ اور پھر آتے ساتھ ہی گھر کا سارا نظام خود سنبھال لیتے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی چیز میں اپنی مرضی یا پھر عجیب و غریب اعتراض کرتے رہتے ہیں۔مثلاً میرے دوست سے پوچھیں گے کہ ساتھ والی ہمسائی اب چھت پر کیوں نہیں آتی۔ وہ پلاؤ کے اوپر قلفہ ڈال کر کھانے کی صرف خواہش ہی نہیں کرتے اسے پورا بھی کرواتے ہیں۔میرا دوست اُن کے ایسے دخل در معقولات سے نک و نک آیا ہوا ہے لیکن اس دفعہ وہ آئے تو انہوں نے حد ہی کر دی۔ انہوں نے دھوتی باندھ کر ائر کولر کے آگے سونے پر اصرار کیا۔ دوست نے ان کے اس فضول شوق کے ظاہری و پوشیدہ نقصانات سے انہیں آگاہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن بے سود۔اور پھر جب رات کے ایک بجے بیرونی گیٹ پر ہلکا سا شور ہوا تو میرا دوست اپنا پستول لے کر باہر بھاگا ۔ وہ تھوڑا اور قریب گیا تواُسے پتہ چلا کہ وہ اُس کے سُسر محترم تھے جو گیٹ کے جنگلے میں پھنسی اپنی دھوتی اُتار رہے تھے۔اُس دن میرے دوست کو اندازہ ہوا کہ بعض اوقات قتل جیسا گھناؤنا فعل اتنا آسان کیوں دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ اگلی صبح جب سُسر صاحب اپنے گھر واپس گئے تو میرے دوست نے ہمت کی اور اپنی بیگم سے ایک جُملہ کہا اور وہ یہ کہ ” بیگم صاحبہ! بہت ہو گیا! اب آئندہ ا س گھر میں، نعوذ باللہ، کفر کا نظام تو چل جائے گا سسر کا نہیں چلے گا۔“
( یہ مضمون میری کتاب ”مزاحِ کبیرہ“ کی تقریب ِ رونمائی میں پڑھا گیا)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *