’ہمارے دل ہر لاپتہ شخص کے اہلِ خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں‘

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہمارے دل تمام لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششوں میں ان کے ہمراہ ہیں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں فوجی جوانوں نے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے تحفظ کے جانیں قربان کیں، کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

ساتھ ہی انہوں نے تاکید بھی کی کہ کسی کو بھی کسی بھی طرح اس معاملے کو خراب نہ کرنے دیا جائے۔

لاپتہ افراد کا معاملہ ہے کیا؟

واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد یا جبری گمشدگیوں کا معاملہ بہت سنگین ہے ان افراد کے اہلِ خانہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان افراد کو جبری طور پر سیکیورٹی ادارے لے جاتے ہیں اور پھر انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی متعدد مرتبہ اس پر آواز اٹھاتی اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر وزارت داخلہ نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کے دوسرے رکن انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2011 سے، جب سے کمیشن قائم کیا گیا، کمیشن کو جبری گمشدگیوں کے حوالے سے 5 ہزار 3 سو 69 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3 ہزار 6 سو کیسز کو خارج کردیا گیا، جبکہ ان میں سے 2 ہزار لوگوں کی موجودگی کے حوالے سے کمیشن کو معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔

اگست 2018 سے کمیشن کو 318 نئی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 59 اگست کے ماہ میں درج کرائی گئی، 74 ستمبر، 84 اکتوبر اور 101 نومبر میں درج کروائی گئیں۔

مذکورہ شکایات کی روشنی میں 35 افراد کو مبینہ طور پر نومبر 2015 میں لاپتہ کیا گیا جبکہ 45 شکایات نومبر 2016 میں لاپتہ کیے جانے والے افراد سے متعلق تھیں۔

2018 کے ابتدا میں کمیشن کو جنوری میں 80، فروری میں 116، مارچ میں 125، اپریل میں 162، مئی میں 86 جون میں 36 اور جولائی میں 77 لاپتہ افراد کی شکایات موصول ہوئیں۔

انکوئری کمیشن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہوں نے نومبر میں 55 شکایات خارج کیں، انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ تقریبا مختلف تعداد میں ایسی ہی شکایات کو خارج کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ یں دائر مقدمے کی مدعی ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کمیشن کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ فورم لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے میں ناکام رہا ہے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق شکایت موصول ہونے پر کمیشن انکوئری کا آغاز کرتا ہے اور جب انہیں خفیہ اداروں کے حکام کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص ان کی زیر حراست تفتیش کے مرحلے میں ہے تو شکایت کو خارج کردیا جاتا ہے۔

وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ 'خارج کیے جانے والے لاپتہ افراد کے مقدمات میں سے بیشتر مرچکے ہیں یا پھر قبائلی علاقوں میں قید ہیں، جن میں سے کچھ ہی بازیاب ہوئے ہیں'۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے لاپتہ افراد کے حوالے سے اہم نوٹس لیا گیا اور متعلقہ حکام پر جرمانے بھی عائد کیے گئے تھے اس کے ساتھ جبری گمشدگی کمیشن کی نگرانی کے لیے ایک دو رکنی عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا۔

جبری گمشدگی جرم قرار

رواں برس جنوری میں حکومت کی جانب سے ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا جس کے تحت جو لوگ شہریوں کے اغوا میں ملوث ہوں گے ان پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی پی) کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کسی فرد یا تنظیم کی جانب سے جبری طور پر کسی کو لاپتہ کرنے کی کوئی بھی کوشش کو جرم قرار دینے کے لیے پی پی سی میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جبری گمشدگی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ نامعلوم مقامات سے شہریوں کی گمشدگی اور اغوا میں ملوث شخص پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *