عمران خان کچھ نہیں جا نتے

کچھ دن قبل ایک رپورٹر نے عمران خان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں حکومت چلانے سے زیادہ اپوزیشن چلانا  زیادہ آسان ہے؟ تو انہوں نے فوری جواب دیا کہ حکومت کرنا زیادہ آسان ہے۔ وزیر اعظم اس سے بڑی کیا غلطی کر سکتے ہیں؟  جس طرح وہ ایک احمقانہ فیصلے سے دوسرے پر چھلانگیں لگاتے نظر آتے ہیں، انہیں چاہیے کہ کسی پھٹے ہوئے چھاتا پہنے کسی عقلمند شخص سے یہ سیکھ لیں: اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ علم نہیں رکھتے تو آپ یقینا سیکھ سکتے ہیں اور عقل مند بن سکتے ہیں لیکن اگر آپ کو یہ ہی معلوم نہیں کہ آپ نہیں جانتے تو آپ احمق ہیں جو تباہی کے راستے پر گامزن ہے۔

عمران خان کو یو ٹرنز سے بھر پور  9 ماہ لگ گئے  یہ فیصلہ کرنے میں کہ پاکستان آئی ایم ایف  سے بیل آوٹ پیکج لیے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا۔ اس عمل کے لیے انہوں نے اسد عمر کو وزارت سے ہٹایا جو کہ ان کے پسندیدہ وزیر خزانہ تھے  تار گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کو بھی رخصت کر دیا جن کی تین سالہ دور میں سے ابھی پورا ایک سال باقی تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں اشخاص آئی ایم ایف کے ساتھ ایک متوازن معائدہ کی کوشش میں تھے  تا کہ عوام پر بوجھ کم اور بتدریج ڈالا جائے۔ دوسری طرف ان دونوں اشخاص کی جگہ جن لوگوں کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا وہ حفیظ شیخ اور رضا باقر ہیں جو عالمی سطح کے مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں جن میں آئی ایم ایف بھی شامل ہے  اس لیے ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ انہیں جب اور جہاں چاہے کہا جائے گا وہ آئی ایم ایف کی مرضی پر دستخط کرتے جائیں گے۔ ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ پاکستان سٹیٹ بینک کو خود مختار ہونا چاہیے  یا کم از کم وزارت خزانہ کے تسلط سے آزاد ہونا چاہیے۔ اب سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کا ملاپ  آئی ایم ایف کے ہی نمائندوں کے انتخاب کے ذریعے ممکن ہوا ہے تو اس پر آئی ایم ایف کو خوشی محسوس ہو رہی ہو گی۔

وزیر اعظم کو شبر زیدی کو چئیر مین ایف بی آر تعینات کرنے کا فیصلہ باوجود اس حقیقت کہ کہ موجود چئیرمین جہانزیب خان اورٹائم لگا کر بجٹ پلانس پر کام کر رہے ہیں، یہ فیصلہ بھی  حماقت اور بے وقوفی کی علامت ہے۔ اسٹبلشمنٹ سیکرٹری کی منظوری  کے نوٹ میں یہ لکھا ہے کہ  اگر کسی شخص کو اس عہدے پر منتخب کرنے کا درست طریقہ اختیار نہیں کیا جا تا تو مسٹرزیدی کے کیس میں مفادات کا ٹکراو اور عدالت کی توہین کے خدشات موجود ہیں  ۔ وزیر اعظم کو یہ سمری بلکل پسند نہیں آئی اور حکم دیا کہ اس کو واپس کر کے  شبر زیدی کا بغیر تنخواہ کے تقررری کی منظوری کا خط جاری کر دیا جاے۔

یہ بھی یادر کھنا ہو گا کہ چار عدالتی فیصلوں جن میں سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ   کے فیصلے شامل ہیں کے مطابق اس سے قبل وزیر اعظم کی طرف سے چئیرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، طارق سیڈک ، اور چئیر مین ایف بی آر علی ارشد حکیم ، چئیر مین سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشین محمد علی،اور چیئر مین پیمرا ابصار عالم کی تقرری کے فیصلے مسترد کر دیے گئے تھے کیونکہ ان لوگوںکی تقرری کے لیے قواعد و ضوابط ، کمپٹیشن اور ٹرانسپیرنسی  کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔  صدارتی عہدے پر بھی درست طریقے کے بغیر انتخاب  کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے جیسا کہ سلمان فاروقی کے کیس سے ظاہر ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ باقر رضا  کی تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ حفیظ شیخ کی تعیناتی کو بھی پشاور ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی چیلنج کر دیا گیا ہےاور ایف بی آر آفیسرز ایسوسی ایشنز  کی طرف سے بھی شبر زیدی کی تعیناتی کے خلاف بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو مسٹر زیدی خود کو اس مصیبت سے چھٹکارات دلوانے کے لیے الگ ہو جائیں گے یا عمران خان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے تعیناتی کا فیصلہ سنا کر لیگل چیلنج کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔

حال ہی  میں کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ عمران خان کو ایک کامیاب ٹیم کے انتخاب کا طریقہ بلکل نہیں آتا۔عثمان بزدار ابھی تک وزیر اعلی کیوں ہیں یہ ایک ایسی پہلی ہے جس نے نصف پاکستانی آبادی کو الجھن کا شکار کر رکھا ہے۔ فواد چوہدری  جنہیں ہبل ٹیلی سکوپ کے بارے میں متنازعہ بیان پر اپوزیشن  کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کو وزارت اطلاعات سے محروم کر کے وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کیوں بنایا  گیا؟   اور ان کی جگہ نافارمیشن منسٹری فردوس عاشق اعوان کو کیوں دی گئی؟ یہ سوال کافی عرصہ تک دیکھنے والوں کو الجھائے رکھے گا۔ اسد عمر کو بد ترین رویہ اختیار کرتے ہوئے وزارت خزانہ سے ہٹانے کے بعد عمران خان کیوں بے صبری سے انہیں کابینہ  میں واپس لانا چاہتے ہیں یہ بھی ایک پیچیدہ سوال ہے۔

پچھلے ہفتے بدھ کے دن  پی ٹی آئی کی پارلیمنٹری پارٹی کی میٹنگ میں ایک صحافی نے عمران خان کو ایک عجیب سا سوال پوچھ لیا۔ اس عمر کو کیوں نکالا گیا؟ معیشت چلانے کے لیے  آئی ایم ایف کے ملازمین کوکیوں امپورٹ کیا جا رہا ہے جب کہ یہ معلوم  ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام عوام کو نظر انداز کرے گا جس سے عوام پی ٹی آئی پر بہت غصہ ہوں گے۔ پارلیمانی  رہنماوں کو وزارتوں سے ہٹایا کیوں جا رہا ہے اور انہیں غیر منتخب مشیروں اور وزیروں سے کیوں بدل کر آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے؟  کیا وزیر اعظم کو علم ہے کہ پی ٹی آئی کا گراف کتنا تیزی سے نیچے گر رہا ہے اور اس پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقے کے عوام کےسامنے پیش ہونے سے گھبراتے کیوں  ہیں؟

عمران خان کا جواب بہت حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا: میں وزیر اعظم ہوں۔ میں عوا م کو جواب دہ ہوں تم کو نہیں۔ میں ہر وہ فیصلہ کروں گا جو عوام کے مفاد میں ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یا راستہ درست اختیار کر لو یا سائیڈ پر ہو جاو۔سلیکٹڈ پی ایم کو یہ سمجھ نہیں  آئی کہ یہ چیز کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ انہی کے خلاف جاتی ہے۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہے  وہ نہیں جانتے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *