کمردرد کا باعث بننے والی عام وجوہات

کمر کا درد دنیا بھر کا مسئلہ ہے اور لگ بھگ ہر کسی کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔

عام طور پر یہ درد پسلی سے نیچے شروع ہوتا ہے اور نیچے تک پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔

مگر یہ ہر کسی کو اپنا نشانہ کیوں بناتا ہے؟ چاہے کسی قسم کی انجری کا سامنا بھی نہ ہو؟

تو اس کی وجوہات کافی حد تک حیران کن ثابت ہوسکتی ہے جن میں کچھ آپ کی عادات، کچھ موسم اور دیگر۔

ایک ہی پوزیشن پر پورا دن لیٹے رہنا

طویل وقت تک ایک ہی پوزیشن میں رہنا ریڑھ کی ہڈی اور کمر پر دباﺅ بڑھانے کا باعث بنتا ہے، ریڑھ کی ہڈیوں کے مہرے جسمانی حرکت کی مدد سے غذائی اجزا حاصل کرتے ہیں اور جب آپ طویل وقت تک ایک ہی پوزیشن میں رہتے ہیں تو کمر کے ارگرد کے اعصاب میں مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں، تو بس چلنا عادت بناکر آپ اس مسئلے سے آسانی سے بچ سکتے ہیں۔

دن کا زیادہ وقت کمپیوٹر یا فون پر گزارنا

اپنی نشست پر کئی، کئی گھنٹے بیٹھے رہنا ریڑھ کی ہڈی پر دباﺅ بڑھاتا ہے جس کے باعث اچانک یا مستقبل قریب میں درد کا سامنا ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کرسی پر بیٹھے ہوئے کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو کمردرد کا باعث بنتے ہیں، جیسے کسی فون کو ایک طرف سے تھامنا، جس کے لیے ہاتھ اوپر کرنا پڑتا ہے یا مانیٹر کی جانب سر جھکانا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی کی پوزیشن ایسی ہوجاتی ہے جو قدرتی نہیں ہوتی۔ تو جتنا ممکن ہوسکے چہل قدمی کے لیے وقت نکالیں، ہر گھنٹے میں ایک بار ضرور ایسا کریں۔

ڈیوائسز کے لیے سر جھکائے رکھنا

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اسمارٹ فون ڈیوائسز اس سے بھی سنگین مرض کو تیزی سے پھیلا رہی ہیں؟ وہ ہے گردن کے مہروں کے مسائل یا ٹیک نیک جو اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ کے بہت زیادہ استعمال یا غلط طریقے سے استعمال کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو شکار بنارہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق گردن کو آگے جھکا کر رکھنا ان ڈیوائسز کی وجہ سے عام ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں گردن کے مہروں میں درد یا نمایاں علامت سے قبل خرابی آتی ہے، یہ مسئلہ آگے بڑھ کر کمر تک پھیل جاتا ہے۔

عام استعمال کی اشیا اٹھانا

طبی ماہرین کے مطابق خواتین اور نوجوانوں میں اس درد کی وجہ ان کا پرس، بیک بیگ یا بریف کیس ہوسکتا ہے جو کندھوں پر لٹکا ہوا ہو، درحقیقت کمر کا زیریں حصہ بالائی جسم کو سپورٹ کرتا ہے، جس میں اضافی وزن (بیگ وغیرہ) بھی شامل ہے اور اگر بیگ میں بہت زیادہ سامان ہو تو کمر پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور ایسا معمول بنالینے سے کمردرد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔

آپ کے پسندیدہ جوتے

جی ہاں مخصوص طرز کے جوتے بھی کمردرد کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً اگر جوتے جسم کو سپورٹ فراہم نہ کرتے ہو۔ اگر آپ کے جوتے بہت زیادہ فلیٹ یا سپورٹ نہ کرنے والے ہوں تو کمردرد کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے کیونکہ جوتے جوتے شاک جذب کرنے کا کام کرتے ہیں، جب وہ ایسا نہیں کرتے گھٹنوں، کولیوں یا کمر کے زیریں حصے کو یہ جسمانی جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

دوران حمل میں یہ عام ہوتا ہے

کمردرد حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران بہت زیادہ عام ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت ہارمونز مسلز میں اس تکلیف کا باعث بنتے ہیں یا بچے کی پوزیشن بھی اس کا باعث ہوسکتی ہے۔

ذہنی صحت بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے اہم

ڈپریشن یا ذہنی بے چینی بھی کمردرد کا باعث بن جاتے ہیں کیونکہ ایسے افراد کمرجھکا کر رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی پر دباﺅ بڑھتا ہے جو کمردرد کا باعث بنتا ہے۔

موسم بھی اثرانداز

پرانی انجری بارش کے دوران درد کرنے لگتی ہے مگر موسم سے آنے والی ماحول میں تبدیلی بھی کمردرد کا باعث بن جاتی ہے۔ طبی ماہری نکے مطابق موسم جسمانی دباﺅ میں تبدیلیاں لاتا ہے اور ہمارا جسم مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اس کے باعث ہڈیوں کے درمیان خلا پیدا ہوتا ہے جس سے کمر یا جوڑوں میں درد کا سامنا ہوسکتا ہے۔

بستر

رات کی اچھی نیند مجموعی صحت کے لیے بہت اہم ہوتی ہے اور اگر بستر جسم کو مناسب سپورٹ فراہم نہ کرے تو صبح اٹھ کر کمر پکڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ نیند کے دوران بستر جسم کو سپورٹ فراہم نہیں کررہا تو بستر کو بدلنے پر غور کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *