رواں مالی سال: ملکی معیشت کیلئے بڑا دھچکا، ترقی کی شرح 3.3 تک متوقع

اسلام آباد: پاکستان کے تمام اہم شعبوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ ہونے سے ملک کی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے، جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی شرح 3.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو سال 19-2018 کے لیے مقرر 6.2 فیصد کے ترقی کے ہدف سے نمایاں کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری اعلان میں بتایا گیا کہ ’زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے کی ترقی بالترتیب 0.85 فیصد، 1.4 فیصد اور 4.7 فیصد رہی‘، جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں مجموعی طور پر معیشت کی مایوس کن کارکردی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ’سال 19-2018 کے لیے جی ڈی پی کی عارضی ترقی کی شرح 3.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے‘۔

حکومت کی جانب سے زراعت میں 3.8 فیصد، صنعت میں 7.6 فیصد اور خدمات میں 6.5 فیصد ہدف مقرر تھا، جس سے جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 6.2 رکھا گیا تھا لیکن تمام ہدف مکمل طور پر گراوٹ کا شکار ہیں۔

یہ اعداد و شمار قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 101 ویں اجلاس میں تیار کیے گئے، جس کی صدارت سیکریٹری ترقی، منصوبہ بندی اور اصلاحات ظفر حسن نے کی اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا جائزہ لیا۔

جس میں جی ڈی پی کے لیے سال 19-2018 سے متعلق عبوری تخمینہ اور گراس فکسڈ کیپیٹل فارمیشن (جی ایف سی ایف) 6 سے 9 ماہ کے دستیاب تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پیش کی گئیں۔

اس حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2018 کی پہلی سہہ ماہی کے دوران فصلوں کے شعبے کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا اور اس وجہ سے صرف گندم میں 0.5 فیصد کی مثبت ترقی دیکھی گئی جبکہ اس کے علاوہ کپاس، چاول اور گنے میں منفی ترقی دیکھی گئی اور یہ بالترتیب 17.5- فیصد، 3.3- فیصد اور 19.4- فیصد رہی۔

دیگر فصلیں (جیسے پیاز، ٹماٹر اور پھلوں) کی ترقی میں 1.95 فیصد دیکھی گئی جس کی بڑی وجہ دالوں اور تیل کے بیجوں کی پیداوار میں اضافہ تھا، اسی طرح لائیو اسٹاک سیکٹر کی ترقی 4 فیصد جبکہ لکڑی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے جنگلات کی ترقی 6.5 فیصد تک رہی۔

اعداد و شمار کو دیکھیں تو اہم فصلوں کے (3 فیصد)، دیگر فصلوں کے (3.5 فیصد) کاٹن جنڈ (8.9)، لائیواسٹاک (3.8 فیصد)، فشریز (1.8 فیصد) اور جنگلات کے (8.5 فیصد) کے متوقع حصوں کی بنیاد پر زراعت کے شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد تک رکھا گیا تھا لیکن سوائے لائیو اسٹاک کے تمام اپنے ہدف سے پیچھے رہیں۔

دوسری جانب مجموعی طور پر صنعتی شعبے میں 1.4 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں 1.96 فیصد تک کمی ہوئی جبکہ جولائی 2018 سے فروری 2019 کے اعداد و شمار دیکھیں تو بڑی سطح پر پیداوار (ایل ایس ایم) کے شعبے میں 2.1 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔

علاوہ ازیں بجلی اور گیس کے ذیلی شعبوں میں 40.5 فیصد اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ واپڈا اور تقسیم کار کمپنیوں اور آئی پی پیز کی بہتر کارکردگی تھی، اس کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیوں میں 7.6 فیصد کمی دیکھی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *