سیاحت کی بہتری کے لیے اقدامات

عمران خان کے نئے پاکستان کے ویژن کا ایک مستقل تھیم ملک کو ایک بہترین سیاحی مقام میں تبدیل کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ملک میں لاکھوں نوکریاں اور اربوں ڈالر کی آمد متوقع ہے۔ اگر ان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے تو کوئی بھی شخص اس کے فوائد سے انکار نہیں کر سکتا۔

یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے خان کی حکومت نے کچھ اہم اقدامات کیے ہیں جن میں بہت سے ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزا فراہمی کا فیصلہ شامل ہے۔ کئی لوگوں کےلیے آمد پر ویزا کی بھی سہولت فراہم کی جاے گی۔ یہ ایک بہت اہم اقدام ہے اور سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں بہت مفید اور دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

البتہ صرف ویزا پالیسی میں تبدیلی  ہی واحد ضرورت نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ غیر ملکیوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا بہت ضروری ہے  جو کہ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود نہیں رہا۔ عہدیدار اکثر یہ رٹ لگاتے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے۔ شاید حال ہی میں کوئٹہ اور لاہور میں ہونے والے حملوں سے غیر ملکی ٹور آپریٹرز کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے کلائنٹس کو پاکستان جانے کی ترغیب دینے سے پہلے سو بار سوچیں۔

جب حال ہی میں سری لنکا میں دہشت گرد حملے ہوئے تو سیاح فوری طور پر ملک سے نکلنے لگے جس کی وجہ سے ہوٹل مالکان بکنگ کینسل ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ اندازہ کے مطابق سری لنکا کو اس بکنگ کینسلیشن کی وجہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا  یعنی سالہ سیاحت کی آمدنی کا ایک تہائی حصہ کا نقصان ہو گا۔

فارین منسٹریز کی طرف سے جو ٹریول ایڈوائزیرز جاری کی جاتی ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر سیاح وارننگ کے باوجود سری لنکا جاتے ہیں تو ان کی انشورنس کینسل ہو جائے گی۔ صرف یہی بات شہریوں کو بد دل کرنے کے لیے کافی ہے اور صرف ضدی سیاح ہی ایسے ملک کا رخ کریں گے۔ یہ ایک ایسے ملک کے بارے میں ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کی ایک پسندیدہ سیاحتی مقام ہے۔

25سال جاری رہنے والی خانہ جنگی کےد وران بھی کچھ سیاح اس ملک میں آنے پر بضد رہتے ہیں۔ جب آج سے ایک دہائی قبل یہ جنگ ختم ہوئی تو سیاحوں کی آمد میں تیزی آئی اور سیاحوں کی میزبانی کے لیے انویسٹمنٹ بھی آنے لگی۔ اب ریسٹورینٹس اور ہوٹلز کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اور کئی لوگ سیاحوں کو اپنے گھر تک کرائے پر دینے لگے ہیں۔

مختصرا یہ کہ یہ ملک ولڈ ٹورازم کا ایک اہم مرکز بننے جا رہا تھا۔ رف گائیڈ ٹریول ہینڈ بک میں 2019 کے لیے اسے دنیا کی بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا تھا اور ٹورازم اس ملک کی جی ڈی پی کا 5 فیصد حصہ کما رہی ہے جس سے سری لنکا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فارین ایکسچینج حاصل کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ایسٹر کے موقع پر صرف پانچ دھماکوں کے ذریعے جہادیوں نے ملک کے بڑے بڑے خواب چکنا چور کر دیے۔

پاکستان اسلامی شدت پسندوں کے حملوں کا کہیں زیادہ بڑا ٹارگٹ ہے۔ سری لنکا میں یہ حملے 10 سال بعد پیش آئے ہیں۔ ہم تو دہشت گردوں کی توجہ ایسے حاصل کر لیتے ہیں جیسے شہد مکھیوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ جیسا کہ ہیلری کلنٹن نے اسلام آباد کے مختصر دورے پر کہا تھا: اگر آپ اپنے باغ میں سانپ پال رہے ہیں تو اگر کوئی کاٹ لے تو آپ کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔

اگرچہ عمران خان اور آرمی چیف نے بار ہا کہا ہے کہ اسٹیبلشمںٹ کسی قسم کی شدت پسندی برداشت نہیں کرے گی، لیکن اچھی نیت اور حقیقی عمل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ وہ دہشت گرد جو پچھلے کئی سال سے گریوی ٹرین پر موجود تھے وہ اتنے جلدی اتنے فوائد، صدقہ خیرات کی دولت اور مزے چھوڑنا نہیں چاہیں گے۔

سکیورٹی کو ایک طرف رکھ کر بھی ہمیں دوسرے فیکٹرز پر نظر ڈالنی ہو گی جنکے ذریعے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ غیر ملکی عوام خاص طور پر خواتین نے اکثر یہ شکایت کی ہے کہ لوگ گلیوں میں ان کو گھورتے نظر آتے ہیں۔ یہی مشکل پاکستانی خواتین اور لڑکیوں کو بھی پیش آتی ہے۔ ہم غیر ملکی خواتین کو ان کے مختصر لباس میں دیکھ کر پاکستانی مردوں کے ری ایکشن کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ہم اپنے ریت سے بھر پور ساحل کے بارے میں بہت فخر سے بات کرتے ہیں لیکن ہم  غیر ملکیوں کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری اقدار کا خیال کرتے ہوئے ہماری مرضی کا لباس پہنیں۔ اگر ہم زبردستی کریں گے تو پھر ہمیں غیر ملکیوں کو چھٹیوں میں پاکستان میں آتا دیکھنے کا خواب ترک کر دینا چاہیے۔

سری لنکا کے ساحل پر جہاں میں اپنی سردیوں کا زیادہ عرصہ گزارتا ہون وہاں لوکل آبادی قدامت پرستوں کی ہے لیکن وہ غیر ملکی خواتین کے مختصر اور کھلے لباس کو برداشت کرتے ہیں۔ حکومت نے ایک ٹورسٹ پولیس کے یونٹس قائم کر رکھے ہین تا اوورسیز سیاحوں کو سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔ سری لنکا کی حکومت اور عوام اپنے ملک کے لیے سیاحت کی اہمیت سے واقف ہیں اس لیے وہ اس کو نظر میں رکھ کر اپنا رویہ اپناتے ہیں۔

آج کے پاکستان میں اس طرح کا اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ یہاں مذہب کی شدت پسندی والا ورژن  اس ملک کو غیر ملکیوں کےلیے ایک پر خطر جگہ بنا دیتا ہے۔ کئی سال تک ٹی وی لوگوں کی چیخ و پکار دکھائے جانے اور داڑھی والوں کے فتووں نے پاکستانی معاشرے کا سیاحوں کے سامنے ایسا امیج  بہت بھیانک بنا دیا ہے۔  پاکستانی کلچر کو تحمل مزاج، مذہب اور محرک دکھانے کی بجائے ہم نے اپنے معاشرے کو سخت مزاج، تنہا پسند اور شدت پسند ظاہر کیا ہے۔ ہماری خواتین کو مظلوم اور ہماری اقلیتوں کو اداروں کے ظلم کے نیچے دبا ظاہر کیا جاتا ہے۔

اس میں کوئی خامی ہو یا نہ ہو، اسی تناظر میں پاکستان کو دنیا بھر کے زیادہ تر ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔ ہم وجوہات بیان کر سکتے ہیں کہ فلاں تصویر جعلی  ہے لیکن سوچ کو بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ آسیہ بی بی کی زندگی کے واقعات نے پاکستان کے بارے میں غیر ملکیوں کو پاکستان کا مزید کھول کر نقشہ سمجھا دیا ہے جو پروموشنل مہمات پر کہیں زیادہ واضح ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *