قدرتی عمل

بچپن اور لڑکپن میں بے شمار کتابیں پڑھیں۔ عمران سیریز ، کرنل فریدی سیریز ، میجر پرومود سیریز ، ہر قسم کا ڈائجسٹ ، نسیم حجازی کے ناول ، ان سے نکلا تو ’فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی ، مجید لاہوری ، پطرس بخاری ، کرنل خان ، ابن انشاء، یوسفی صاحب، شفیق الرحمن، ضمیر جعفری، عطاالحق قاسمی ، مستنصر حسین تاڑڑ کی طنزومزاح کی دنیا میں داخل ہو گیا۔ تھوڑا بڑا ہوا۔ تو شہاب نامہ قبیل کی کتابیں پڑھ لیں۔ بہشتی زیور بھی نہیں چھوڑا ۔ پھر خالص اردو ادب کے ناولوں کی باری آئ۔ آگ کا دریا سے شروع کیا، اور راجہ گدھ سے لے کر علی پور کا ایلی اور اداس نسلیں تک تمام ناول کئی کئی بار چھان مارے۔ پھر افسانوں اور شاعری کی باری آئی۔ ایم اے انگریزی کیا۔ اور اب تک انگریزی ادب پڑھا رہا ہوں۔ چناچہ انگریزی ادب کے تمام نامور شعراء، ناول نگار، افسانہ نگار اور تنقید نگار پڑھے بھی اور پڑھائے بھی، امریکی ادب اور روسی ادب بائی ڈیفالٹ پڑھ لیا۔ تاریخ اور عمرانیات، نفسیات ، کرنٹ افیئرز اور روز مرہ کی سائنس اور فلاسفی کا شوق تھا اور انگریزی ادب کے ساتھ ویسے ہی از بر ہو گئے۔ سیاست میں عملی طور پر حصہ لینا بہت پہلے شروع کر دیا تھا۔ پچیس سال کالم لکھتے ہو گئے۔ چناچہ سیاسی اسرار و رموز، پاک تاریخ کی مسخ شدہ حالت اور اصل تاریخ ، مقتدرہ اور سول سوسائٹی کی بالادستی کی کشمکش ، سویلین سپریمیسی اور اس جیسے دوسرے ایشوز کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ ان پر لکھتا رہا۔ پڑھائ لکھائی ، مشاھدہ اور تجربہ ، بالوں کی سفیدی ، جدید مہزب دنیا کا اس مقام پر پہنچنا ، اس کے پیچھے موجود تاریخی شعور ، سیاسی ادراک، آگاھی اور انسانی تہزیب کا سفر، مجھے امید دلاتے ھیں۔ مجھے رجائیت پسند بناتے ہیں۔ اور میں یہ کہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں جو قوتیں ایک مصنوعی نظام چلا رہی ہیں۔ وہ ایسے ہی ہے۔ کہ انہوں نے زمان و مکاں میں آگے کی جانب حرکت کرتے ایک قدرتی عمل کو روک رکھا ہے۔ وہ اپنے لوگوں سے حالت جنگ میں نہیں ہیں۔ وہ اس قدرتی عمل سے بر سر پیکار ہیں ۔ کیونکہ وہ تبدیلی سے خوفزدہ ہیں۔ نئے زمانے اور ایک باشعور دنیا سے خوفزدہ ہیں۔ یہ قوتیں ترقی یافتہ سائنٹفک اور جمہوری دور سے اسقدر ڈری ہوئ ہیں کہ آج بھی پچاس کی دہائی میں زندہ ہیں۔ اور پچاس کی دہائی کا سودا 2019 میں بیچ رہی ہیں۔ یہی خوف ان کی شکست ہے۔ یہ قوتیں کب تک مصنوعی طور پر اس حرکت پذیر معاشرے کو روک پائیں گی۔ ان کا سانس پھول رہا ہے۔ اور یہ صاف نظر آ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *