’یہ حملے پاکستانیوں نے نہیں کیے، ہم ایسے لوگ نہیں‘

سری لنکا: ایسٹر حملوں کے بعد مسلمان پناہ گزین خوف کا شکار

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد سے ملک میں مقیم پناہ گزین شدید خوف کا شکار ہیں۔ ملک کے ساحلی شہر نیگومبو میں 1200 پناہ گزینوں کو کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جو تشدد کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ان پناہ گزینوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسیحی اور احمدی، افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہزارہ اور ایرانی بھی شامل ہیں جنھیں تین کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

31 مارچ 2019 کے اعدادوشمار کے مطابق سری لنکا میں سیاسی پناہ کے طالب افراد کی تعداد 819 جبکہ پناہ گزینوں کی تعداد 851 تھی۔

ان میں سب سے زیادہ افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ 733 پاکستانی سیاسی پناہ کے طالب جبکہ 608 پناہ گزین ہیں۔

اس کے بعد افغانستان کا نمبر آتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

کچھ ایسے ہی پاکستانیوں نے بی بی سی کے سنیتھ پریرا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خدشات اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

نوبیل زین جان

’ہم پاکستان میں بھی محفوظ نہیں تھے‘

میرا نام نوبل زین جان ہے اور میں کیتھولک عیسائی ہوں۔

پاکستان میں مسلم برادری ہمیں مسلمان بننے کا کہتی تھی۔ وہ میرے گھر آتے اور میری والدہ اور گھر والوں کو اپنا مذہب چھوڑنے کا کہتے تھے لہذا ہم وہاں نہیں رہ سکتے تھے۔

کراچی میں ہمارے گھر پر فائرنگ ہوئی جس کی وجہ سے میرے ’انکل‘ کی موت واقع ہو گئی اور میرے چھوٹے بھائی کو پانچ گولیاں لگیں۔ اس وجہ سے ہم پاکستان میں محفوظ نہیں تھے۔

میں اپنی والدہ، چھوٹے بھائی اور بہنوں کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ ایسٹر سنڈے کو سری لنکا میں بم دھماکے ہمارے لیے افسوس ناک ہیں۔

کچھ لوگ سوچ رہے ہیں کہ پاکستانی لوگوں نے یہ کیا ہے۔ کچھ لوگ میرے گھر آئے اور چیخنا شروع ہو گئے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ اس وجہ سے میرے سب گھر والے یہاں پولیس سٹیشن میں آ گئے۔

سری لنکا میں سب بہت اچھا تھا بہت اچھے لوگ ہیں لیکن جب سے بم دھماکے ہوئے تو کافی لوگ پریشان ہیں۔ کچھ لوگوں کے بچے مر گئے ہیں تو اس وجہ سے ان کو بہت غصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانیوں نے یہ کیا ہے لیکن ہم ان سے یہی کہتے ہیں کہ پاکستانیوں نے نہیں کیا۔

نعمان حبیب

’ہمیں اپنے گھروں سے بھاگنا پڑا‘

میرا نام نعمان حبیب ہے میرا تعلق احمدی برادری سے ہے۔

ہمیں پاکستان سے بھاگنا پڑا کیونکہ اس ملک میں ہمارے کوئی حقوق نہیں تھے۔ خاص طور پہ ہم اپنے مذہب پر عمل نہیں کر سکتے۔

اس ملک میں بدقسمتی سے ہمیں نہیں معلوم کے یہ کس نے کیا یا کیسے ہوا۔ یہ بہت بری چیز ہوئی ہے۔ ہمارے نبی نے کہا کہ اگر آپ ایک انسان کو مارتے ہیں آپ پوری انسانیت کو مارتے ہیں۔

ہم بہت امن پسند ہیں ہمارا اس (بم دھماکوں) سے کوئی تعلق نہیں۔

ہمیں اپنے گھروں سے بھاگنا پڑا پھر ہم پولیس کے پاس آئے۔ نیگمبو سے پولیس ہمیں یہاں لے کر آئی اور یہاں بھی ایک فساد ہوا پولیس نے ہماری حفاظت کی لیکن ہم اس وقت بہت بری صورتحال میں ہیں۔

ہمارے بچے، ہمارے خاندان اس وقت مسجد کے اندر ہیں اور ہم باہر خیموں میں ہیں۔

توقیر احمد

’حالات ہمارے لیے یہاں بھی بہت خطرناک ہو گئے ہیں‘

میرا نام توقیر احمد ہے میرا تعلق احمدی برادری سے ہے۔

پاکستان میں جو مسلمان ہیں وہ ہمیں مارتے ہیں ہمارے بچوں کو مارتے ہیں ہماری عورتوں کو مارتے ہیں ہمارے گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔

اور بہت سے ظلم ہیں جو وہ ہم پر کر رہے ہیں جن کے ڈر کی وجہ سے ہم وہاں سے نکلے ہیں۔این ایچ سی آر کے ذریعے ہم نے سری لنکا میں پناہ لی ہے۔

سری لنکا میں جو حادثہ ہوا ہے اس کا ہمیں بہت دکھ ہے۔ ہم سب اس کے لیے بہت دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کے لیے اچھا کرے لیکن اس وقت جو حالات ہیں وہ ہمارے لیے یہاں بھی بہت خطرناک ہو گئے ہیں۔

لوگ ہمیں یہاں مارنے کے لیے آ رہے ہیں۔ ہم ایسے لوگ نہیں ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ محبت سب کے لیے، نفرت کسی کے لیے نہیں۔

محمد اختر

’ہمارے کیمپ پر پتھر مارے گئے‘

میرا نام محمد اختر ہے میرا تعلق احمدی برادری سے ہے۔

کل شام کو کچھ سری لنکن دوستوں نے یہاں آ کر جلوس نکالا ہے جن کی وجہ سے ہمارے کافی لوگ پریشان ہوئے ہیں۔

یہاں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بہت معصوم ہیں انھیں پریشان کیا ہے۔ ہمارے کیمپ پر پتھر مارے گئے ہیں ہم لوگ بہت پریشان ہیں ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہم ادھر صرف پناہ مانگنے آئے ہیں۔

ہمارے بچے اور عورتیں، ہمارے بزرگ جس میں دل کے امراض میں مبتلا لوگ بھی ہیں اور دس دن کے بچے بھی ہیں جس کی وجہ سے سب لوگ پریشان ہیں اور موسم بھی خراب ہے۔

ہمارے لیے کچھ کیا جائے۔ اس سب میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری ہر طرح سے حفاظت کی جائے اور ہمارے بارے میں سوچا جائے۔

سری لنکا میں دھماکے

’آپ کو یہ ملک چھوڑنا پڑے گا‘

2014 میں کچھ انتہا پسند لوگوں نے ہمارے گھر جلا دیے۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے اور بندوقیں اٹھا رکھی تھیں، وہ ہمیں مارنا چاہتے تھے۔ اس واقعے میں بہت سے لوگ بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچنے کے باوجود کچھ نہیں کیا بلکہ ہمیں کہا کہ آپ کو یہ ملک چھوڑنا پڑے گا۔

پہلے یہاں حالات اچھے تھے لیکن ایسٹر کے بعد یہاں حالات خراب ہوگئے ہیں۔ اب لوگ ہم سے جھگڑا کرتے ہیں کہ آپ یہاں کیوں آئے ہو، یہاں سے چلے جاؤ۔

سری لنکا میں مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کے حوالے سے یہ ویڈیو بھی دیکھیے

سری لنکا میں ایسٹر حملوں کے بعد پاکستانی احمدی کمیونٹی مساجد میں پناہ لینے پر مجبور

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *